ٹشوز_________________صوفیہ کاشف

🌷

“ذندگی میں سب سے مشکل کام اعتراف ہوتا ہے،،ہار جانے کا اعتراف،ناکامی کا اعتراف،نااہلی کا اعتراف،۔۔محبت کا اعتراف!!!لوگ سمجھتے ہیں صرف ٹیڑھے میڑھے راستوں میں چلنا ٬اونچی نیچی گھاٹیوں کو پار کرنا٬ ڈوبنا اور ابھرنا ہی مشکل ترین امر ہے. لوگ نہیں جانتے کہ اپنی ذات کے ٹیڑھے میڑھے راستے دریافت کرنا سب سے مشکل امر ہے،اپنے غرور ہستی کی اونچی نیچی گھاٹیوں کو پار کرنا سب سے مشکل ایڈوینچر ہے،کسی کی محبت میں ڈوبنا اور ابھرنا اس کائنات کی سب سے آخری حد ہے۔۔۔

اسکے سامنے کھڑے ہونا،اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ اعتراف کرنا کہ میں ہار چکی ہوں،میں اس جنگ میں جو میں ہمیشہ جیت لینے کا تاثر دیتی رہی ہوں،کب سے ہار چکی ہوں۔اور اب اس جنگ کو جاری رکھنے کا نہ مجھ میں حوصلہ باقی رہا،نہ ہتھیار،نہ جذبہ نہ ارادہ۔یہ اعتراف کر لینا کہ آؤ جو چاہے میرا اب انجام کرو ،میں اپنا آپ تمھیں سونپ چکی ؛اک پہاڑ کے ٹوٹ جانے سے بڑھ کر غضب ناک اور تکلیف دہ تھا۔زلزلے زمین کو کیا پھاڑتے ہو نگے جو کچھ اعترافات انسانوں کو چیر دیتے ہیں۔تو تم سے محبت اور اس محبت میں سب کچھ ہار جانے کا اعتراف اک ایسا ہی تکلیف دہ امر تھا۔”

میں نے قلم رکھا اور اور گیلے کاغذوں کو سوکھنے کے لئے تنہا چھوڑ دیا۔فرش پر جا بجا بکھرے ٹشوز بھی ابھی سمیٹنے تھے۔یہ ٹشوز جن سے میری کتنی سسکیاں اور آہیں نچوڑی گئی تھیں انکا مقدر بلآخر ایک ڈسٹ بن تھا۔کیا میرے جذبات اور میری محبت کا انجام بھی اک ڈسٹ بن ہو گا؟ یہ اک ایسا سوال تھا جو میری رائٹنگ ٹیبل پر میرے کاغذ قلم کے ساتھ ہمیشہ دھرا رہتا تھا۔میں جب بھی کچھ لکھنے کے لئے قلم اٹھاتی،سب سے پہلے یہ سوال پھدک کر آتا،سیٹیاں مارتا اور مجھے اکساتا۔۔۔۔۔۔۔”ڈسٹ بن۔۔۔۔ڈسٹ بن!”_____تو خود کو یہ سمجھانا اور پھر سمجھا کر یہ یقین دلانا کہ نہیں ہر جذبے کا مقدر ڈسٹ بن نہیں ہوتا!نہیں ہو گا!یہ بھی کچھ ایسا آسان کام نہیں تھا۔جب دریا سارا دائیں سمت بہتا ہو تو اسکے مخالف بہنا اور پھر دور تک بہنا اتنا بھی آسان کہاں ہوتا ہے۔مجھے خود کو یہ بھی سمجھانا تھا کہ کچھ جذبوں کا مقدر ٹی وی کی سکرین بھی ہوتا ہے،ایوارڈ بھی ہوتا ہے،سروں کا تاج بھی ہوتا ہے۔ہر درخت پھل نہ دے تو سایہ اور ایندھن تو ضرور دے ہی جاتا ہے۔

تو میں جب بھی کہانیاں لکھ لکھ کر بھیجتی،اپنی ذندگی کی پرتیں کھولتی ،ان کے صفحات سے چپکی کہانیاں اکھاڑتی اور اور انہیں الفاظ میں ڈھال کر اپنے اوراق پر یا برقی کتاب پر محفوظ کرتی تو کتنی ہی سسکیاں،آہیں اور تپتے بلکتے آنسو میرے قلم کے ساتھ ساتھ میری آنکھوں سے بہتے اور ان صفحات میں جذب ہو جاتے۔اور انہیں سب گرتے موتیوں کو چنتی میں کہانیاں بناتی ،کرداروں کو بدلتی،اچھوں کو برا لباس پہناتی اور برے کو خوبصورت پیراہن اوڑھا کر ان کہانیوں کو اپنے تخیل کے رنگ میں ڈھال دیتی،بے مروتوں کو اخلاص سکھا دیتی اور بے وفاوں کو وفا۔۔۔۔۔انکو اسطرح بدل دیتی جیسے کہ میں انکو حقیقت میں بدل نہیں پاتی۔تو صبح ہوتے ہی میری میز پر،میرے سمارٹ فون پر،میری ای میل میں پیغامات کا انبار لگ جاتا۔۔۔۔

“افففففف!کیا لکھتی ہیں آپ!”

“کیسے لکھتی ہیں آپ؟؟”

“اتنا اچھا کسطرح سے لکھ دیتی ہیں آپ ؟”

اور میں اس سے پہلے پہلے یہ گیلے صفحات سکھا لیتی،بکھرے ٹشوز ڈسٹ بن میں ڈال کر ہر اک سسکی کی آہٹ تک دفن کر دیتی۔

تو آج بھی ایک ٹی وی ہوسٹ نے انٹرویو لیتے اپنے خوبصورت رنگوں سے رنگی انگلیاں تھوڑی پر ٹکائیں اور مجھ سے وہی پوچھا:

“اتنا خوبصورت کیسے لکھ لیتی ہیں آپ؟”

میں ہنسی ،فقرو ں کو ہواؤں میں اڑایا،ہاتھ لہرایا اور ہنس کر کہا :”مجھے تخیل کی اڑانیں بہت پسند ہیں!مجھے لوگوں کی کہانیاں سننے کا شوق ہے! بس انہیں سے کشید کر لیتی ہوں میں یہ سب داستانیںں”

اعتراف بہت مشکل ہوتے ہیں ناں مگر یہ ایک اعتراف سب سے مشکل ہے کہ یہ سب میری کہانیاں ہیں!یہ سب ظلم میری ذات نے سہے ہیں۔یہ سب دکھ جنہیں سکرین پر دیکھ کر بہت سے لوگ رو پڑتے ہیں انکو میں نے اپنے سینے پر جھیل رکھا ہے۔یہ کہانیوں سے بھرے میرے اوراق دراصل میرے ٹشوز ہیں جن سے میں روز آنکھیں پوچھتی ہوں۔

__________________

تحریر:صوفیہ کاشف

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements

8 thoughts on “ٹشوز_________________صوفیہ کاشف

  1. ثروت نجیب

    واہ واہ صوفیہ چھا گئی ہیں آپ ـ کیا اچھا لکھا ہے ـــ ” اتنا خوبصورت کیسے لکھ لیتی ہیں آپ ” لاجواب جملہ ـــ دوسری اور تیسری بار پڑھ کے دوبارہ بھی مکمل تبصرہ لکھوں گی یہاں ــــ

    Liked by 1 person

  2. Farheen Khalid

    گیلے کاغذ….
    کہانیوں سے بھرے میرے اوراق
    جن سے میں آنسو پونچھتی ہوں…
    کس خوبصورتی سے آپ نے لکھنے والے کا dilemma
    بیان کردیا ہے…
    واقعات سے کہانیاں کشید کرنا ایک بات… اور پھر ان کو جینا اور جھیلنا دوسری بات… ہر ہر کہانی میں لکھنے والے کا خون جگر شامل ہوتا ہے تب کہیں جاکے پر اثر ہوتی ہے. ہر ہر کہانی میں روح کی گہرائی سے اترے بغیر کہاں بات بنتی ہے. سب کچھ کہہ کے بھی کہاں تسلی ہوتی ہے. ہر کہانی پچھلی کسی کہانی کا تسلسل ہوتی ہے..
    وہ گیت یاد آگیا…
    سنی نہیں… زمانے نے تیری میری کہانیاں

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.