محجوب_________از ثروت نجیب

🌝ایک عرصہ ہوا سورج دیکھا نہیں
دھوپ سینکے ہوئے مدتیں ہو گئیں ــــ
دفتری اوقات کھا گئے دن کے اجالے سبھی
نظریں سکرین پہ ‘ کی بورڈ پہ انگلیاں میری
پردہ کھڑکی کا ہٹا’ مجھے کچھ تو بتا ‘ ہے ماحول کیا ؟
اے میری ہمنشیں ‘
میں اٹھ کے دیکھوں ذرا مجھے اتنی فرصت نہیں!
کیا اب بھی کرنوں میں حرارت ہے آتشیں آتشیں ؟؟؟
ایک عرصہ ہوا سورج دیکھا نہیں ــــ
دھوپ سینکے ہوئے مدتیں ہو گئیں
میں دن کا راجا کبھی سڑکیں ناپتا ـ ـ ـ
پتے کی طرح مرضی کے دوش پہ رہتا تھا کبھی
کیا اب بھی ایسا کرتے ہیں ‘ کچی عمر کے بانکے سبھی؟
میرے ہاتھ میں چرمی بُقچہ ‘ کاغذوں کے لیے ‘ کاغذوں سے بھرا ‘
کلائی سے بندھی ساعت ‘ میری اوقات سے بےخبر !
زمانے کا غبار سہتی ہوئی میری چپلی پہ دھول مٹی جمی
پر آج تک کسی نے دیکھی نہیں !!!
یوں تو پھرتا ہوں میں بن کے مجازی خدا!
پر کیا تمھیں معلوم ہے ‘ میری ملکیت کا رقبہ ہے کیا؟
جس پہ دیتا ہوں بوسے وہ تمھاری جبیں ــــ
میری حکمیت تمھاری آنکھوں میں اک شہتیر ہے
پر میری محبت تم کو کیوں دکھتی نہیں ؟
میرا المیہ بھی ہے کتنا آبگیں آبگیں ـــــ
کولہو کے بیل کی مانند ‘ کھلیانوں کو سینچتا ہوں میں
سراہتی ہے دنیا ‘ پر خوش ہوتے نہیں میرے گھر کے مکیں
خود سے پرے ‘ خدا سے جدا ‘ رہتا ہوں پریشاں اُس گھر کے لیے ـــ
میں دن بھر جس میں رہتا ہی نہیں !!!!
شام ڈھلے ‘ شب کے سایے تلے ‘ میرا خواب پلے ـــ
جس میں ہے روشنی نئی نسل کے لیے ـ ـ ـ ـ
اک دریچہ جس پہ چراغاں کیئے میں بیٹھا ہوا ہوں
تیرگی کو سموچے ‘ ہر اک خواہش کو دبوچے ــــ
عمر کا تقاضا سمجھ کر ٹالتے ہی رہے’ کسی نے سوچا بھلا؟
دھیرے دھیرے ہو گیا کیوں شوخ چنچل اک لڑکا متیں؟
بانسری بجائے زمانہ ہو گیا ‘
میں وقت کی گردش میں کھو گیا
دریا کے کناروں کو ترسا ہوا ‘ بادل کی طرح برسا ہوا ـــ
کہتا ہوں میں گل و گلزار سے ‘ ہر اک تہوار سے ـــ
میرا تعلق ہے بس میرے بیوپار سے
فطرت سے محبت مجھے بھی بہت ہے
مگر خود کے لیے وقت ملتا نہیں !!!
اک عرصہ ہوا سورج دیکھا نہیں
دھوپ سینکے ہوئے مدتیں ہو گئیں ـ ـ ـ
کچھ تو کہو میری ہم قفس !!!!
کچھ تسلی تو دو ‘ شاید مداوا ہی ہو ـــــ
.تمھارے ارماں پورے ہوئے کہ نہیں ؟

یہ بھی پڑھیے:محجوبہ

(محجوب کا معانی:چھپا ہوا،پوشیدہ)

________________

شاعرہ:ثروت نجیب

(دو جولائی دو ہزار اٹھارہ کابل)

فوٹوگرافی:عمران ریاض چودھری_صوفیہ کاشف

دو جولائی دو ہزار اٹھارہ کابل

Advertisements

2 thoughts on “محجوب_________از ثروت نجیب

Comments are closed