محجوب_________از ثروت نجیب

خود سے پرے ‘ خدا سے جدا ‘ رہتا ہوں پریشاں اُس گھر کے لیے ـــ
میں دن بھر جس میں رہتا ہی نہیں !!!!
شام ڈھلے ‘ شب کے سایے تلے ‘ میرا خواب پلے ـــ
جس میں ہے روشنی نئی نسل کے لیے ـ ـ ـ ـ

Advertisements