متاع حیات_______از نیل زہرا

اس بات کو چند روز ہی گزرے ہیں ۔ ایک ایسی بات جو بظاہر عمومی اہمیت کی حامل ہے ۔ مگر میرے تو ذہن پر جیسے نقش ہو کر رہ گئی ہے ۔ کبھی کبھی کوئی چھوٹا سا واقعہ نفسیاتی طور پر غیر معمولی اثر کر جاتا ہے ۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔ وہ ایک خُوش گوار دن کی ڈھلتی ہوئی سہ پہر تھی ۔ میں اپنے فلیٹ ( دوسری منزل ) کی بالکنی میں کھڑی گلی میں چہل پہل دیکھ رہی تھی ۔۔ لوگوں کی آمدورفت میں بتدریج اضافہ ہونے والا تھا ۔ ہمارے مکان کے سامنے ایک ٹرانسفارمر نصب تھا ۔ جس کے کھمبے کے ساتھ چائے والے کا کھوکھا ۔۔ یکایک ایک عورت جو سٙن کے اعتبار سے چالیس کی ہوگی ۔ نمودار ہوئی ۔ غربت وافلاس نے اس پر اپنا گہرا اثر کیا تھا ۔ ساتھ اس کے ایک چھ سات سالہ لڑکی اور چار پانچ سال کا لڑکا ۔۔ لگتا تھا کہ وہ دونوں عورت کے بچے ہیں ۔ نجانے انہوں نے آخری دفعہ کب نہایا ہوگا ۔۔ لباس بوسیدہ اور غبار سے اٹا ہوا تھا ۔ کثرتِ استعمال سے سے رنگ جابجا اڑا ہوا ۔۔ عورت کا جسم پھیلتا ، پھولتا گیا تھا ۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ یہ بےوقت اور جو ملا کھاپی لیا ، کا نتیجہ تھا ۔ عورت کے بغل میں ایک گٹھڑی تھی ۔ جو ایک گندی سی چادر میں بندھی ہوئی تھی ۔ عورت گٹھڑی کو ، جس میں نہ جانے کیا کیا بندھا تھا ۔ دائیں پسلیوں پر اٹھانے کے باعث بائیں طرف جھک کر چلنا پڑرہاتھا ۔۔ ویسی ہی ایک چھوٹی گٹھڑی لڑکی نے اپنی ناتواں پیٹھ پر اٹھا رکھی تھی ۔ لڑکا البتہ خالی ہاتھ تھا۔اور عورت کا بایاں ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ ساتھ چلتا ۔ چائے کے کھوکھے کے پاس اس نے اپنے بوجھ کو اتار دیا اور ٹیک لگا کر سستانے بیٹھ گئی ۔ لڑکی نے بھی اس کی تقلید کی ۔ اور عورت کے سامنے بیٹھ گئی ۔۔ لڑکا ماں کے بائیں پہلو سے چپک گیا ۔ عورت نے ایک بازو بیٹے کی گردن میں حمائل کرتے ہوئے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے اس کے گرد میں اٹے بالوں میں کنگھی کرنے لگی ۔۔۔ میں اس منظر میں کھو کر رہ گئی۔۔اور پس منظر میں اس ماں اور بچوں کے اس حالتِ زار کے محرکات پر غور کرنا شروع کیا ۔ ابھی میں کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ پائی تھی کہ سامنے کی گلی میں ایک شور سا بلند ہونے لگا ۔ رفتہ رفتہ شور واضح سنائی دیا ۔۔ چالیس، پچاس مرد ایک عورت کی میت لا رہے تھے ۔ اس کے مرگ کا اعلان الصبح محلے کی مسجد سے خادم کر چکا تھا ۔ میت کے ساتھ آنے والوں میں سے بعض بلند آواز سے ہمراہیوں کو کلمہ شہادت کا ذکر کرنے کی صدا دیتے ۔ مگر مجھے ایک گونہ حیرت ہوئی کہ کوئی بھی کلمہ شہادت نہیں پڑھ رہا تھا ۔ بس ہرکوئی دوسرے کے اس ذکر مبارک کی انجام دہی کو پورا کرنے کی تلقین کو کافی سمجھ رہا تھا ۔۔جیسے ہی میت لئے لوگ نمودار ہوئے تو عورت نے بڑی گٹھڑی کی چادر کی گھانٹھیں کھول کر جلدی سے بیٹی کی گٹھڑی کو بھی اس میں شامل کرلیا ۔ جس سے حجم کے ساتھ ہی گٹھری کے وزن میں بھی کافی اضافہ ہوا۔۔اور وہ بادل نخواستہ اٹھ کھڑی ہو گئی ۔ دیکھا دیکھی اس کے بچے بھی کپڑے جھاڑ کر اٹھے ۔۔۔ عورت نے سامنے سنوکر کلب سے نکلتے تین لونڈوں سے کچھ کہا ۔۔ ان میں سے دو نے گٹھڑی عورت کے سرپر لاد دینے میں اس کی مدد کی ۔ اس دوران عورت کی میلی چادر کھنچ کر گردن کی طرف سرک گئی ۔۔ بیٹی نے ایک تربیت یافتہ معاون کی طرح سامنے سے چادر کو ذرا کھینچ کر ماں کے سینے کو ڈھک دیا ۔ پھر تینوں جلد ہی نگاہوں سے اوجھل ہوئے ۔۔ جلد ہی میت اسی راستے سے گزاری گئی ۔۔ لگتا تھا کہ لواحقین بلا تاخیر مرحومہ کے جسدِ خاکی کو سپردِ خاک کرکے اپنے فرض سے عہدہ برا ہونا چاہتے ہوں ۔۔ میں سوچنے لگی کہ مرنے والی نے کیسی زندگی گزاری ہوگی ۔ کیا کمایا اور کیا کچھ حقوق تلف ہونے پر صبر کیا ہوگا ۔ زندگی کے روز و شب کیسے گزارے ہوں گے ۔۔ اور کیا لے کر جارہی ہیں ۔ میں نے تصور میں دیکھا اس کی کُل متاعِ زندگی ایک گٹھڑی کے بجائے دو گٹھڑیوں میں بند تھی ۔۔ دونوں عجیب وغریب رنگ برنگ ، بھلے برے ، تلخ و شیریں اشیا سے بھری ہوئی تھیں ۔ ان کا بوجھ اس کے سر پر نہ تھا ۔ بلکہ ایک دائیں اور دوسری بائیں کندھے پر تھا ۔ یہ کسی کے بس میں نہ تھا کہ ان میں جھانک کر دیکھے کہ مرنے والی کیا کچھ ساتھ لیئے یہاں سے ہمیشہ کے لئے جارہی ہے ۔ ان گٹھڑیوں کو شام ہوتے ہی کھلنا تھا ۔ جب لوگ اس کو منوں مٹی تلے دبا کر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چُکےہوتے ۔

___________

۔۔ نیل زہرا : ینگ وومن رائٹرز فورم ( اسلام آباد چیپٹر )

کور ڈیزائن :صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.