سفر حجاذ______از صوفیہ کاشف

جھکاؤ نظریں،بچھاو پلکیں

مغرب کے زرا بعد ہوٹل پہنچے تو ریسیپشن سے ہی معلوم ہوا کہ عشاء کے بعد روضہ رسول پر خواتین کی حاضری کے اوقات ہیں۔ عشاء میں ابھی کچھ وقت تھا۔سو نہانے دھونے اور کھانا کھانے کا کچھ وقت میسر تھا۔عشاء کی اذان ہوتے ہی جب ریسٹورنٹ بند ہونے لگا اور ہر کاروبار زندگی کا رخ مسجد نبوی کی طرح اس طرح بہنے لگا جیسے اونچائی سے جھرنا گہرائ کی طرف گرتا ہےتو ہم نے بھی بچوں کو بستروں پر لٹایا تا کہ سو جائیں اور کمرہ لاک کرکے اپنی پہلی زیارت کے لئے نکل پڑے۔چند قدم کا فاصلہ اور لمبے میناروں والی اس مسجد کا ایک دروازہ ہمارے سامنے تھا کہ جس سے داخلے کے آداب تک ہمیں معلوم نہ تھے، جھک کر داخل ہوں،چوم کر بڑھیں یا رینگ کر چلیں کہ ہم کیڑے مکوڑوں سے وجود ہماری کیا اوقات تھی کہ ہم اس دروازے پر کھڑے تھے_نبی کے نام کا وہ گھر کے جس کے نور سے آج بھی سورج روشنی مستعار لے کر نکلتا ہے ،کہ جسکے نام پر آج بھی سب تخلیق سر کو جھکاتی ہے ، جسکے وجود پر دن رات نجانے کتنے ہی فرشتے درودوسلام پڑھتے ہیں اور جسکے لئے خدا نے یہ ساری کائنات تخلیق کر دی تھی،اور اس مسجد کے اندر جنت کا حصہ ،کہ جس کے دیس نکالے نے ہمیشہ سے ہم حقیر انسانوں کو بے چین کر رکھا ہے۔وہ ایک غلطی کہ جس نے ہمیں ثریا سے زمین پر دے مارا اسکی تلافی تو ممکن نہ تھی مگر جنت کے اس پرنور ٹکرے پر قدم پڑنے کی چاہ، اسے چھونے اسے چومنے کا مقام بس یہی کچھ قدموں کچھ لوگوں کے فاصلے پر ہے کہ وہ جنت ،وہ روضہ کی جالی وہ پیارے نبی کا آستانہ اور ٹھکانہ کہ جہاں نور کی برسات رہتی ہے اور ساری دنیاکی طرف رحمتیں روانہ ہوتی ہیں ، جسکے نام کی سفارش لے کر روزانہ کتنے ہاتھ اٹھتے ہیں ۔۔یہی کوی چند قدم کی دوری پر ہے۔ اس فاصلے کے بیچ میں تھی صرف ایک نماز کی دوری۔میں اناڑی اور کم علم،کج فہم اور کمتر،نبیوں کے نبی کے عظیم گھر کے چمکتے صحن میں کھڑی تھی اور لاعلم انجان نظروں سے ادھر ادھر دیکھتی تھی۔یہاں سے کیا کرنا ہے ،کس طرف کو جانا ہے ،کس طرف کو مڑنا ہے کچھ خبر نہ تھی۔مسجد نبوی میں کتنی نمازوں، کتنے نوافل کا کیسا ثواب ہوتا ہے کچھ خبر نہ تھی۔میاں کے وعدوں کی بے اعتباری میں کچھ بھی تو مطالعہ،کوی بھی ہدایات نامہ نہ پڑھا تھا کہ کہ اگر دل اس سفر کی آس سے لگ بیٹھا اور میاں کا پروگرام بدل گیا تو خود کو سنبھالا کہاں جاے گا۔ محض ٹکٹ کے ہاتھ میں آنے سے روانگی تک کے ڈیڑھ دن میں فٹا فٹ عمرے کا طریقہ ڈھونڈا تھا، اسے دو چار بار سمجھا کہ کیا فرائص ہیں کس طرح سے کرنے ہیں اور بس۔ایک آدھ دوست سے زبانی کچھ سوال پوچھے اور سامان سر پر لئے نکل پڑے زندگی کے اس اہم ترین سفر پر۔

اور اب میں تنہا اس قدیم سرزمین کی عظیم مسجد میں بے خبر سی کھڑی تھی۔مگر دل میں کسی گھبراہٹ کا کسی بے چینی کا کوئ نشان تک نہ تھا کہ پیارے نبی کے آستانے پر پریشانی کیسی ،گم جانا اور ملنا کیسا،الجھنا اور سمجھنا کیسا،یہ دنیا کی تو جاہ نہیں جہاں پر خوف اور اندیشے ہر قدم سے الجھتے ہیں،جہاں کھو جانے کی مشکل ہر اک اوڑھ ہوتی ہے۔یہ تو جنت کی نگری تھی جہاں آسانی ہی آسانی تھی، رحمت ہی رحمت تھی۔بہت خواب دیکھے زندگی بھر جنت کے ،جہاں کوئی فکر نہ ہو گی، کوئی اندیشے نہ ہونگے،سکوں ہو گا اور نور ہی نور ہو گا، جہاں کوئی مفلس نہ ہو گا کوئی مسکین نہ ہو گا،کوئی بیمار نہ بوڑھا،کوئی بچہ نہ معزور،اگر یہ جنت نہ تھی تو پھر جنت اور کیا ہو گی۔یہاں ہم نے نہ کوئی مسکین دیکھا نہ غریب،کوئی بیمار نہ معذور،کوئی بوڑھا نہ بچہ ۔یہاں ہر ایک چہرے پر ایک سی طلب اور چاہت تھی،ہر ایک جسم میں ایک سی بجلی تھی،وہیل چئیرز پر ،کرسیوں پر بیٹھے،سٹرولرز میں لپکتے سب کے چہرے پر امن تھا سکون اور شانتی تھی۔ایسے کہ جیسے کسی سہانے دن کا خوبصورت سورج نکلے اور سب پر ایک سا چمکے اور انکے چہروں کو ایک سا روشن کر دے۔تو اس جنت میں روضہ رسول کا سورج ہر حلیے،اور حالت، ہر ہیئت اور عمر سے بے نیاز ہر اک چہرے کو اپنے نور میں رنگتا جاتا ہے۔تو پھر اس جنت میں کانپتی ٹانگوں ٬لرزتے ہاتھوں والے بھاگے چلے جاتے تھے،کھانستے گولیاں کھاتے لوگوں کی بیماریاں تعطیل پر تھیں اور ہر بوڑھا اور بچہ ہر مرد اور عورت ، اندیشے اور وسوسے، منفی جذبے،ہر غرور اور حسرت سے بے نیاز جنت کے باغیچوں میں جیسے تکیے لگائے بیٹھے تھے اور اس کالی کملی والے پیارے نبی پر درودوسلام کی تسبیح کرتے تھے۔

فوٹو گرافی:مسجد نبوی

ننگے صحن کی آخری رو میں سب خواتین کے بیچ عشاء کی باجماعت نماز ادا کی۔نماز مکمل کر کے احتیاطا کچھ نوافل بھی پڑھے۔پھر ادھر ادھر دیکھا۔صحن میں فراغت سے بیٹھے گپ شپ لگاتے یا تسبیحات کرتے لوگوں میں پاکستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔۔عورتوں کی اکثریت فرصت سے بیٹھی تھی کسی کو بھی کسی صورت جلدی نہ تھی ۔اس لیے اندازہ مشکل تھا کہ اب کدھر کو چلنا ہے۔سو میں اٹھی اور مسجد کو دیکھتی اس طرف کو چلی کہ جس طرف کچھ خواتین اندر جاتی دکھائی دیتی تھیں۔اس جگہ سے کسی سمت سے گنبد خضرا کی کوئی جھلک نظر نہ آتی تھی تو یقینا کسی دوسری سمت ہی جانا ہو گا۔ گھومتے گھماتے میں مسجد کے اندرونی حصے کے داخلی دروازوں تک پہنچی جہاں برقعہ پوش سیکورٹی کی عربی خواتین کمر سے کمر جوڑے ہر عورت کے بیگ کی تلاشی لیتے انہیں اندر داخل کرتی تھیں۔میں کیمرہ ساتھ نہ لائی تھی کہ یہ میری پہلی حاضری تھی اور آج آنکھوں کو نظارے سے بڑھ کر اور کسی چیز کی طلب تھی نہ اس بے حرمتی کی ہمت۔آج تو محض پاؤں چھونے تھے،منتیں اور التجائیں کرنی تھیں ۔آج تو صرف کالی کملی والے کے حجرے کے دیدار کی شب تھی اور نور کے اس اجالے میں بھیگنے کا مقام تھا تو ایسے میں دنیا کاندھے پر لاد کے لیجانے کی ہمت ہی کہاں تھی۔

ادب کا اعلیٰ مقام آیا:

مسجد نبوی میں داخلے سے لیکر روضہ رسول میں حاضری تک خواتین کے لئے اک خاصا صبر آزما مرحلہ تھا چونکہ عورتوں کے کچھ مخصوص اوقات تھے اور جیسے میلوں کا فاصلہ تھا ۔کپڑے کی دیواروں پر دروازے لگا کر عورتوں کا اک جم غفیر سمیٹ سمیٹ کربٹھایا جا رہا تھا۔چند ایک برقعہ پوش عرب سیکورٹی کی خواتین آواز لگاتیں اور ہم کسی کے ہاتھ پر، کسی کے پاؤں پر بیٹھتے چلے جاتے ۔یہ بھی اک معجزہ تھا کہ سینکڑوں عورتیں،ہر رنگ ہر نسل ہر عمر اور ہر انداز کی عورت محض دو یا تین سیکورٹی کی خواتین سے کنٹرول ہوئے جاتی تھیں۔تو یہاں ہم بھی عورتوں کے کندھوں سے کندھے ملائے کبھی بیٹھے، کبھی کھڑے ہوئے۔ایک کے بعد ایک در کھلنے کا انتظار طویل ضرور لگا مگر کوفت زدہ نہیں کہ نبی کے گھر میں کوفت کی کہاں جگہ۔زباں پر درود شریف رکھیں اور گھنٹوں انتظار کی لائن میں لگے رہیں۔درود و سلام کا یہ لطف زندگی میں پھر کبھی کہیں نہ آئے گا جو نبی پاک کے قدموں میں بیٹھ کر ،انکی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر انکے آستانے کو پکڑ کر کرنے میں ہے۔یہ اس دربار کی برکت ہے،رحمت ہےیا عظمت ہے مگر یہ کوئ ایسی ہی نعمت ہے جو اس دنیا کی چیز نہیں۔وہ جو ہم سنتے ہیں کہ آسمانوں پر فرشتے دن رات درودوسلام میں مصروف رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیسی محنت کرتے ہونگے وہ فرشتے،تو نبی کی اس چوکھٹ کو پکڑ کر درود و سلام پڑھ کے دیکھیے آپکو وہ لذت ملے گی جس میں بہہ کر فرشتے سالوں اور صدیوں، دن اور رات صرف اسی ذات پر درود و سلام کہتے رہتے ہیں۔یہاں بھی جہاں جہاں کچھ قیام ہوا نوافل اور درود پاک کی توفیق ملتی رہی۔

اور پھر ایسا ہوا کہ خواتین کے اسی ریلے میں بہتے بہتے اک ایسے جگہ جا پہنچی کہ جہاں کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔سانس لینے کو ہوا مچلتی تھی اور تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔کچھ خواتین سامنے کی سمت چلنے کی کوشش میں ہلکان تھیں اور کچھ کی تمامتر جستجو بائیں طرف نکلنے کی تھی جہاں اک پردے کی بنی دیوار کے پیچھے سے جھانکتی سبز جالی تھی۔ کسی خاتون کی سرگوشی نے خبر دی کہ جھکاؤ نظریں بچھاؤ پلکیں ادب کا وہ اعلیٰ مقام آ پہنچا ہے کہ جسکی بشارت بہت کمسنی میں ہماری پلکوں پر اتری تھی ، آنکھوں نے جب سے خواب دیکھنے سیکھے تھے مرادیں ہاتھ میں لئے یہ دل ہمیشہ جسکی سمت لپکا تھا۔۔۔تو یہ زرا سے محض چند ہاتھ کے فاصلے پر جو سبز جالی تھی وہ ہمارے عزیز تر نبیٌ کے روضے کی جالی تھی کہ جسکی اک نظر کی طلب میں کیسے زندگی ترستی تھی۔۔اس جگہ اس مقام پر کہ جہاں نبٌی پاک کے مبارک قدموں کو یہاں کی خوش قسمت مٹی چومتی تھی،جہاں آپ استراحت فرماتے تھے اور دنیا کے خوش قسمت ترین زمانے کے خوش نصیب ترین لوگوں پر نظر کرم کرتے تھے اور اپنی دعاؤں اور مرادوں میں ہم جیسے حقیر امتیوں کےلئے اور ہمارے بعد آنے والوں کے لئے بھی دعائے رحمت کرتے تھے۔یہی محض چند ہاتھ کے فاصلے پر میری بائیں جانب قریب تر پہنچ جانے والی خواتین کپڑے کی دیوار تھامے اس چوکھٹ سے لپٹی تھیں اور آہ و زاریاں اور فریاد کرتی تھی، ہجر ووصال کی داستانیں کہتی تھیں۔یہیں اسی مقام پر سینکڑوں عورتوں میں گھسے جہاں سر جھکانے تک کی جاہ نہ تھی میں نے نفل کی نیت کی اور اس ہجوم میں کبھی ادھر گرتے کبھی ادھر گرتے کھڑے کھڑے اشارے سے نفل ادا کئے۔اللہ جانتا ہے کہ ریاض الجنہ میں اسقدر ہجوم میں اشاروں میں نفل پڑھنے مناسب تھے کہ نہیں مگر وہاں جہاں بے تحاشا کمزور بوڑھی عورتیں ،ماؤں سے لپٹے ننھے بچے عورتوں کے ہجوم میں پھنسے سانس لینے کو ترستے تھے، یہ مجھے نا مناسب لگا کہ ایک عورت جگہ گھیرنے کو دائیں بائیں کھڑی کر کے بیٹھ کر نفل پڑھنے کی کوشش کی جائے۔نوافل پڑھ کر روضہ رسول کی جالی کو خوب جی بھر کر نگاہوں میں قید کیا اور سائیڈ سے جتن کرتی آگے جانے کی بجائے میں زرا پیچھے کو تھوڑی کھلی جگہ پر سرک آئی۔اس لئے بھی کہ دوسروں کو موقع مل جاے اور اس لئے بھی کہ بغیر زحمت کے دیدار روضہ نبٌی کیا جاے۔سمندر پار سے رب کی رحمت اور نبی کا کرم اپنے قدموں تک لے آیا تھا تو دل اسی پر بہت مسرور تھا۔جالی کو ہاتھ نہ پہنچا،دیوار کو چھو کر نہ دیکھا ایسی کوئ حسرت نہ تھی کہ یہی کیا کم معجزہ تھا کہ میں تھی میرے سامنے محض چند ہاتھ پر میرے نبٌی کے روضے کی جالی تھی۔ میرا پڑھا درود اب میلوں کے فاصلے سے نہیں یہی چند قدم کے فاصلے پر ان تک پہنچ سکے گا،یہی سعادت کیا عمر بھر کے جینے کے لیے کم تھی۔

فوٹوگرافی:خانہ کعبہ شریف

زرا پیچھے کھڑے ہو کراس نبٌی کی سبز جالی کو نظروں سے بوسے دئیے جسکی شفاعت کے وعدے پر ہم جیسے کتنے ہی کمتر حقیر لوگوں کی سانسیں بحال رہتی ہیں،اور سر اٹھے رہتے ہیں،ہم اپنے چیتھڑے لگے خستہ حال ایمان پر بھی جسکے نام کا آسرا ہمیشہ اک چھتری کی طرح تانے رکھتے ہیں۔نبٌی پاک کے در سے میرا تعلق بہت ہی ذاتی بہت قدیم تھا تب بھی جب اک کمسن لڑکی کی طرح روضہ پاک میں بیٹھی میں درود پاک کی تسبیح کرتی تھی،تب بھی جب میری دنیا جیت لینے کی سب ریاضتیں مٹی میں ٹوٹ کر مٹی ہو جاتی تھیں،تب بھی جب غلط نہ ہو کر بھی غلطیوں کی سنگباری سہنا پڑتی تھی،، تب بھی جب دنیا پیروں کے نیچے سے سرکتی تھی اور سر پر سے آسماں غائب ہو جاتا تھا۔جب راست ہو کر بھی تہمتیں سہنی پڑتی ہوں،جب ٹھیک ہو کر بھی زہر کا پیالہ محض آپ ہی کی قسمت ہو،تو اس پیارے نبٌی کا مبارک نام کتنے ہی دلوں کی امان بنتا ہے۔اس دنیا کے ہاتھوں جو بھی ٹوٹتا ہے وہ روتا ہوا اسی در پر آتا ہے کہ جسکی چوکھٹ کے سامنے ابھی مجھ سی اک حقیر ہستی کھڑی تھی۔اسی پیارے نبٌی کا نام میرا بھی ہر کڑے موڑ پر دلاسہ بنا تھا ،اسی نے مجھے گرنے کے بعد پھر کھڑا کیا تھا ،اسی نے زندگی کے فنا ہو جانے کے بعد پھر سے حیات کو میری جھولی میں بھرا تھا، ایک بار نہیں کئی کئی بار ۔ہم ناکارہ ناہنجار لوگ ہیں بار بار گر جاتے ہیں اور ٹوٹ بکھر جاتے ہیں تب یہی پیارے نبٌی کی شفاعت، اسکی رحمت ،وہ صدیوں پہلے اسکے اٹھے ہاتھ ہمیں پھر سے جوڑ کر کھڑا کر دیتے ہیں۔۔ سارے جہانوں کے لئے رحمت بن جانے والے پیارے نبٌی کی آنکھوں میں کسی کے لئے کوی تہمت کوی بہتان نہ تھا، جو دنیا کی نظروں اور زبانوں سے بالاتر ہو کر دیکھتا اور سوچتا اور انسانوں میں عزت اور احترام اور حقوق بانٹتا تھا۔تو آج اسکی کالی کملی کو بوسہ دینے کا وقت تھا تو یہی کیا کم تھا کہ اسکی چوکھٹ کو تھام کر نہیں تو اسکی چوکھٹ کے باہر میں کھڑی تھی،صرف میں اور میرا وہ پیارا نبٌی اور بس وہاں پھر اور کوئ نہیں تھا۔نبٌی پاک کی اس جنت میں عورتوں کے ہجوم میں ہر عورت تنہا تھی اور اپنے نبیوں کے نبٌی سے دل کا حال کہتی تھی پوری رازداری سے،پوری محویت سے،اسے وہ سب کہتی تھیں کہ جو کہنے اور بتانے کی آرزو میں انہوں نے اتنی زندگی گزاری تھی۔اسے وہ سب حوالے دیتی تھیں جب جب وہ اسکی رحمت کی راہ اس ظالم دنیا میں دیکھتی رہیں،جب جب انکی جھولی کے حقوق چھنتے رہے اور دنیا میں کسی کان تک انکی دہائ نہ پہنچی،آج وہ سب کہہ دینے کی اور پیارے نبی کو اپنی پہچان کروانے اپنا حوالہ یادکروانے کی رات تھی۔

عورتوں کے اس ہجوم بیکراں میں سب سے زیادہ کم جزباتی،رٹی ہوی دعائیں پڑھتی ،رٹے ہوے سجدے کرتی عورت پاکستانی تھی اور سب سے زیادہ خموش بہتی لال سوہی سوجی آنکھیں عرب خصوصا مصری عورت کی تھی۔نجانے ہماری پاکستانی قوم کو ہم نے اخلاص کیوں نہیں سکھایا ،ہم جہاں بیٹھتے ہیں کچی گولیاں کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں ،زندگی کے ہر محاذ پر کھوٹے سکے لیکر پہنچ جاتے ہیں ۔کبھی گفتگو میں مصروف ،کبھی عمارت کی خوبصورتی میں الجھے،کبھی تبصروں میں پھنسے یہ بھول جاتے ہیں کہ کیسی کیسی کرامتیں ہمارے سامنے کھڑی ہماری جھولی میں گرنے کو بیقرار ہوتی ہیں اور ہم وہاں بیٹھے ان کرامات کو سمیٹ لینے کی بجاے اینٹوں اور پتھروں کی مدح سرائی کرنے میں مگن رہتے ہیں۔تو وہ عربی خوبصورت گلابی گالوں اور لال سوجے ناک والی عورتیں زرا پیچھے تنہا ہو کر بیٹھتی تھی اور تنہا تنہا روضہ رسول کی جالی سے رازونیاز کرتی تھیں۔اگر آپکا بھی دل کسی شے میں اٹکا ہے اور دل پر لگا تالہ ابھی ٹوٹنے سے ڈرتا ہے تو ایسے ہی کسی لال سوجے روتے سسکتے چہرے پر نظر ڈالیں اور اسکے چہرے پر روضہ رسول کی جالی کی حدت محسوس کریں ۔آپکے دل و روح کے سب تالے ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو جائیں گے اور ایسے سیلاب نکلیں گے کہ پھر سنبھالے نہ جائیں۔گے۔یہاں عشق کی آتش اڑتی پھرتی ہے کہ جو چاہے مجھے اپنے کندھے پر بٹھا لے ،جو چاہے مجھے سینے سے لگا لے۔یہاں کوی کمتر اور کوی افضل نہیں۔نبٌی پاک کے دربار میں پہنچ کر سبھی ایک ہو چکے ہیں

_____________

(جاری ہے)

تحریر و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements

3 thoughts on “سفر حجاذ______از صوفیہ کاشف

  1. Pingback: سفر حجاز________پارٹ 3 – SofiaLog.Blog

  2. Pingback: محبت بھری کہانئ – بول کہ لب آذاد ہیں تیرے

Comments are closed