🌹سالروز اش تبریک
سفر اش جاویدان

چرغ ہونا بھی اپنی دانست میں قربانی ہے کیونکہ چراغ تلے ہمیشہ اندھیرا ہوتا ہے پھر بھی کچھ لوگ چراغ بننے کو ترجیح دیتے ہیں ـ ایسا ہی ایک چراغ صوفیہ لاگ بھی ہے ـ میں نے جب لکھنا شروع کیا تو ہر لکھاری کی طرح اپنے لکھے کو پبلش کرنے کا شوق بھی تھا مگر بہت سے لوگ ایسے ملے جو میری نظمیں لے گئے اور اپنے نام سے پبلش کر دیں ـ کچھ نے آئیڈیا چرا کے چھاپنے سے معذرت کر لی اور کچھ تحریریں کسی نے سن لیں اس سے قبل کہ وہ کہیں پبلش ہوتیں اگلے دن ہی اس سے ملتی جلتی تحریر لکھ کر ناموری حاصل کر لی ـ پھر ایک وقت آیا میں نے شعر کہنا ہی چھوڑ دیا ـ مکر اور فریب کی دنیا سے آنکھیں موندے کتابوں کی اوٹ میں سکون تلاشنے والی لڑکی کو جلد معلوم ہو گیا کہ یہ دنیا بھی الف لیلیٰ کی طلسمی دنیا سے کم نہیں ـ نجانے کب کہاں کوئی سیلمانی ٹوپی پہن کے غائب ہو جائے’ کسی کو تحریر دینے سے قبل اعتماد ضروری ہے ـ اعتماد جو کانچ سے ذیادہ نازک جیسے دل ۔۔ـ یوں میرا دل بارہا ٹوٹا اور بارہا میرے قلم نے نیلے آنسو بہا کر پھر سے ڈائری پہ نئی روداد لکھی ـ کہتے ہیں نا ‘

” اتنا عظیم ہو جا کہ منزل تجھے پکارے ”
یوں مجھے صوفیہ نے وہ اعتماد دیا کہ میں آنکھیں بند کئے لکھتی رہی اور بھیجتی رہی اورصوفیہ چھاپتی رہیں ـ یوں کابل کی ایک وادی سے نکلنے والی گونج ابو ظہبی کے صحرا سے ٹکرا کر دنیا میں پھیل گئی ـ مجھے ایک بریک ہی نہیں ملا بلکہ ایک دوست بھی ملی ـ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں جب کابل ٹائمز میں میرے کالم انگلش میں چھپتے ہیں تو اردو کی کیا ضرورت ؟ اردو کی ضرورت ہے ــ ـ ـ کیونکہ اردو اب برصغیر سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل رہی ہے ـ مجھے عوامی زبان کی ضرورت تھی میں چاہتی تھی افغانستان کے مسائل اور حالات ایک روکھی سوکھی خبر کے بجائے جذبات کو ابھارتی احساسات سے بھرپور داستان ہوں یوں افغان داستان کا سلسلہ شروع ہوا ـ ادب کی دنیا بہت بخیل ہے ـ ہر ایک کی دلی آرزو ہوتی ہے کہ وہ ابھر کر سامنے آئے ـ شہرت اور دولت کے حصول کا تصور لیے ہوئے اکثر افسانے یا ناول کے پلاٹ چنے جاتے ہیں ـ شاعری کا مقصد واہ واہ اور نمود ہو تو کوئی خاک کسی کو آگے آنے دے گا ـ یوں علم و ادب کے دلدادہ سال ہا سال ٹھوکریں مارتے رہتے ہیں اور ہر ایک نامور سے سنتے رہتے ہیں ” ہم تو خود طفلِ مکتب ہیں ” یوں نیا لکھاری جب اچھی خاصی شاعری کر چکتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی شاعری وزن میں ہی نہیں ‘ اس کی ڈائری زیرو سائز کی غزلوں سے بھری پڑی ہے ـ اب ” جائے ماندن نہ پائے رفتن ” والا معاملہ اس کے لیے سوہانِ روح بن جاتا ہے ـ اکثر وہ نئے شاعر یا شاعرات جو مستند شاعری کرتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا کیونکہ چھپتا تو نام ہے ‘ بکتا بھی نام ہے ـ کام تو جھونگے کی طرح اضافی چیز ہے ـ صوفیہ لاگ کی سب سے بڑی خصوصیت انھوں نے کام چھاپا اور وہ نام بن گیا ـ ممی کی ڈائری لکھنے والی خاتون نے تو نام لکھنے کی اجازت نہ دی مگر ان کی سیریز ہٹ ہو گئی ـ یوں نا صرف نئی شاعرات اور شاعروں کو ایک با اعتماد پلیٹ فارم ملا بلکہ مختلف جرائد سے جڑی جو بے یقینی تھی وہ بھی ختم ہوئی ـ صوفیہ کاشف جو خود افسانہ نگار ‘ کالم نگار ‘ نظم نگار اور کتابوں پہ تبصرے کرتی ہیں چاہتیں تو باقی لوگوں کی طرح کتاب چھپوانے کا سوچ سکتی تھیں مگر یہ ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں ـ اور پرانا معقولہ ایک بار پھر ثابت کیا کہ ” اتفاق میں برکت ہے ” ـ عورتیں اگر ہم آواز ہو کر بولیں گی تو ان کی آواز کو زمانہ نہیں دبا پائے گا ـ صوفیہ لاگ کی ٹیم اور صوفیہ لاگ پہ لکھنے والوں کو مبارک باد ـ صوفیہ لاگ ایک سال کا ہو گیا اور اب اس نے پائے پائے چلنا شروع کیا ہے عنقریب دوڑے گا ،انشااللہ ! ـ صوفیہ کاشف کی ہمت کو داد ـ ہم کو ہماری ذات کے لیے وقت نہیں ملتا یہ ہمارے لیے وقت نکال کر محنت کرتی ہیں ـ محنت کبھی رائیگان نہیں جاتی ـ انشااللہ صوفیہ کاشف کو بھی اپنی محنت کا پھل ضرور ملے گا ـ مختلف ممالک کی خواتین ایک دوسرے کے درد کو سمجھیں گی تو شاید امن کی راہ ہموار ہو ـ

________________

ثروت نجیب