محجوبہ________ثروت نجیب

🌘

اک عرصہ ہوا چاند دیکھا نہیں
چاندنی سے ملے مدتیں ہو گئیں
شبِ سیاہ سے جا ملی بخت کی تیرگی
کیا سجتی ہے اب بھی آسماں کی تاروں سے جبیں؟
کچھ تو کہو میرے صیاد جی !!!!
اس قفس سے باہر کیا دنیا اب بھی ہے حسیں
کیا سورج اگتا ہے اب بھی کنواری کرنیں لیے
اور ڈوبتا ہے وہ اس پہاڑی پہ جس میں رہتے ہیں میرے جیسے مکیں
جنھیں اپنے گردوپیش کی کچھ خبر ہی نہیں!!!!
خبر کیسے ہو ؟
ان کے ناک میں پیزوان فیروزے سے منقش
کان کے بالے لہہلاتے خوشوں کی طرح گندمی
پیروں میں جھانجھر مجبوری کی چھنکتی ہوئی
کلائی میں چوڑیاں اطلاعی گھنٹیوں کی طرح نغمگیں
بخت سے بےخبر ماتھا پٹی’ حلقوم سے نا آشنا گلوبند زریں
ہونٹ ترسے ہوئے سرخی سے خفا ‘
کیا جانیں ہے کیا ؟ لذتِ محبت کا مزہ ــــ
کمر بند چھنکتا ہوا پتاسا پتاسا ‘ مرمریں مرمریں
جہاں سیم و زر سے لدی دیویاں ‘ اپنے چرنوں پہ ہیں ماتم کناں
جہاں دن کٹتے ہیں شبِ وصل کی تمنا لیے خشمگیں خشمگیں
کچھ تو کہو میرے صیاد جی !!!
بادلوں سے پرے آبرو سی کماں ‘ ہے کیسا ان دنوں ساون کا سماں؟
دہ کیسے ہیں اج کل کیسے ہیں دہقاں؟
اے ہواؤں کے ترجماں کچھ تو کہو آتشیں آتشیں ــــ
موسمِ گل کی حسرت لیے بہاریں کٹ گئیں
خزاں کی خوشبو کو ترسی خواہشیں بٹ گئیں
لالہ و سوسن کے کھیتوں میں ہے اب کیسی شبنمی؟
کیسے ہیں رنگ و بو کے نظارے سبھی
دیکھے تھے بچپنے میں ‘ میں نے کبھی
کیا ہواؤں کے دوش پہ اب بھی اڑتی ہیں پینگیں
بادلوں کے رتھ پہ ہیں کیا پریاں نشیں ؟
کچھ تو کہو میرے صیاد جی !!!
ایک عرصہ ہوا خود سے ملے
ہو کے فطرت سے جدا ‘ اے مجازی خدا
بتا ! ہیں کیسے میرے خال و خد
خود کو میں بھی دیکھوں کبھی آئینے سے پرے
کسی فیروزی جھیل میں عکس اپنا کہ میں ‘
تھی کبھی مثلِ لعلِ بداخشاں ‘ دخترِ ماہ جبیں
اک عرصہ ہوا چاند دیکھا نہیں ـــــ
چاندنی سے ملے مدتیں ہو گئیں ــــ

(محجوب کا معانی:نقاب والی،حجاب والی)

_________________

شاعرہ:ثروت نجیب

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements

8 Comments

  1. شکریہ صوفیہ ـچاند کی خوبصورت فوٹوگرافی لاجواب ـــاور شکریہ ایمن سعید خٹک میری ہر کاوش کو سراہنے کے لیے

    Liked by 1 person

Comments are closed.