سفر حجاز_________از صوفیہ کاشف

1_زہے مقدر______
کیا واقعی دو ہفتے بعد میری ذندگی بدلنے والی ہے؟اس کتاب کا وہ صفحہ الٹنے والا ہے جس کی راہ میں ہزارہا قسم کے مسائل الجھے ہوئے تھے۔یہ سوال میں نے اپنے جرنل پر تب لکھا جب مجھے شکے تھا کہ میاں صاحب کا ارادہ بدلے گا،ویزہ نہیں لگے گا،چھٹی کہاں ملے گی،بچوں کے امتحان یا کوی بھی بیکار کا مسلئہ ہمارے قدموں سے الجھے گا اور خدا کی عظیم ترین سرزمین کی زیارت ہماری حدوں سے ادھر ہی رہ جائے گی۔مگر اس بار عظیم الشان دربار سے منتخب لوگوں میں ہم خستہ تنوں کے نام منظور ہو چکے تھے اور خدا اور اسکے محبوب کے در سے ہماری حاضری کے سمن جاری ہو چکے تھے سو اس بار نہ میاں کا ارادہ بدلا،نہ ہائی کمیشن نے ہمارے ویزوں پر سوال اٹھایا،نہ آفس کی میٹنگز آڑے آئیں،نہ سکول نے تیور دکھائے اور ٹکٹس ہر رکاوٹ سے کامران ہو کر ہمارے ہاتھ میں پہنچیں تو دل کو یقین ہوا کہ اب کچھ نہیں بچا ہمیں روک سکنے والا۔اب کی بار تو سر کے بل بھی جانا ہی ہو گا۔تو واقعی کل ہماری زندگیاں بدلنے کے لئے مغرب کی سمت اک اڑان بھریں گی اور نجانے کیا کیا کاٹھ کباڑ کاندھے پر لادے لے کر جائیں گی اور وہاں پر ہمارے گناہگاروں کے لئے بنے کباڑ خانے میں فارمیٹ ہونے کے لئے جمع کروا آئیں گی۔پھر ہم اپنی زندگیوں کی ڈسک فیکٹری ورژن میں لے کر جھولی میں کیا کیا خزانے اور سر پر کیسے کیسے تحائف سے لدے پھندے لوٹیں گے کہ اس بار اس بادشاہ کے مہمان ہونے جا رہے ہیں جس سے بڑی اس زمین و آسمان میں کوئ طاقت نہیں۔اور اسکے محبوب کی لحد مبارک پر حاضری دینے والے ہیں کہ جس کے نور سے بڑھ کر آج تک دنیا میں اجالا نہ ہوا۔کون جانتا ہے کہ اگلے پانچ دن زندگی کا کیا کچھ بدل دیں،کس قدر بدل دیں مگر اسکے سوا اور کوئی توقع نہیں کہ اس سرکار کے ہاں سے جھولی بھرے بغیر کوئی لوٹایا نہیں جاتا۔تو ہم بھی جھولی پھیلائے مغفرتیں،رحمتیں،برکتیں اور نوازشیں دامن میں بھرنے کی آس لگائے مٹی کے لبادے اوڑھے اس اصل مالک کی طرف محو پرواز ہونے والے ہیں کہ جس نے ہماری روحوں کو اپنے اصل پر بنا کر اسے مٹی کے کمتر جسموں میں قید کر دیا تو اپنے اصل سے ملنے کو بیتاب روحیں مٹی کے میناروں کو دھکیلتی لے جائیں گی۔ ان مٹی کے محلات پر تنے اپنے گنبد نما سروں کو کالی کوٹھری کی دیواروں پہ ماریں گی اور قید و بند کی صعوبتوں کے نوحے پڑھیں گی،دہای دیں گی،اور اسکی بنای دنیا کے گورکھ دھندوں کے مرثیے سنائیں گی اود وہ کالی کوٹھری پر بیٹھ کر پوری کائنات میں روح پھونک دینے والا سب سنے گااور اسقدر سنے گا کہ جتنا فیس بک کا ڈیٹا کولیکشن ساری دنیا کو گلوبل ویلج میں گھیر کر بھی سمیٹ نہیں پاتا۔تو پھر یقیناآنے والی صبح اک نئی زندگی کا جنم ہونے والا ہے۔اک ایسی پوتر اور نوزائیدہ زندگی کہ جسکے سمن دکھانے کو نہ تو کسی فقیر نے سڑک پر ہمارا پلو تھاما اور دھمال ڈالکر بتایا کہ تیرے نام کی ٹکٹ کٹ چکی۔نہ کسی حالیہ خواب نے کوئ پیشگوئی کی،کسی موچی،بڑھئ،اور نہ ہی کسی بوڑھی عورت نے آنکھ ہی ماری۔ہاں مگر آج سے کوئ بیس سال پہلے کا اک سبزے سے اٹا خواب کہ جسمیں سولہ سترہ سال کی کمسن لڑکی پیارے نبی کے روضہ رسول کے قدموں میں بیٹھی درود پاک پڑھتی تھی۔اور پہلو میں بیٹھی کوئ خاتون اسکے ہاتھ میں اک کتابچہ دیتی اور کہتی تھی کہ” درود پڑھو”.پھر بیس سال گزر گئے درود پاک کو اس لڑکی کی ہر دھوپ چھاؤں کا آسرا بنے،اور آج وہ کمسن لڑکی اک تھکی عورت میں بدل کر اس حاضری کے قابل ہو سکی۔وہ حاضری جو دو دہائیوں پہلے دیکھے جانے کے باوجود آج بھی چشم تصور کو اسی وضاحت کے ساتھ یاد ہے جیسے یہ کل رات کا واقعہ ہو۔بیس سالوں میں ہزارہا خواب،لاکھوں تعبیریں،ڈھیروڈھیر حقیقتیں،اور موج در موج انٹرنیٹ کی لہریں ،سب ملکر بھی اس خواب کے اجالے پن کو دھندلا نہ کر سکے۔دس سال ہی پرانا کوی بارہا دیکھا جانے والا مشہور زمانہ ڈرامہ بھی شاید اتنی وضاحت سے یاد نہ ہو جیسے سبز رنگ میں لپٹی روضہ رسول کی جھلک آج بھی نگاہوں کے سامنے اسی تابانی سے چمکتی اپنی سچائی کی تصدیق کرتی ہے۔
تو ہمارا پہلا قدم نبیوں کی سرزمین پر پیارے نبی کے مقدس شہر میں ہو گا کہ جلالی رب کے در پر پہنچنے سے پہلے اک شفیق اور مہربان سفارش بہت ضروری ہے، اور محب کو خوش کرنے کے لیے محبوب کے چرن چھونا کامیابی کی ضمانت ہے۔تو زندگی تو اسی لمحے بدل جائے گی جب وہ سبز رنگی گنبد آنکھوں کا دلنشین نظارہ ہو گا۔اور ہماری سانسیں اس ہوا سے زندگی پائیں گی کہ جس میں آج بھی کالی کملی والے کی سانسوں کی ٹھنڈک ہو گی،ان ہواؤں میں جی سکیں گے جن پر وہ وقت سے بہت ادھر ہی سہی مگر اپنی تاثیر سے زرے کو آفتاب کرتے ہیں۔زندگی تو اسکی دہلیز پر قدم دھرتے ہی ضرور بدل جاے گی۔گھڑی دو گھڑی کی گرم موبائل پر ٹکی نظر،نیوز فیڈ پر اوپر سے نیچے اور نیچے سے آتی اگر چند ہی لمحات میں سر دکھا کر دماغ کو جام کر سکتی ہےتو اس مہربان سبز گنبد کی تاثیر نجانے کیسی کیسی ٹھنڈک اور قسمت کی پڑیاں ہماری روحوں میں اتار دے،کون جانتا ہے۔ہم ٹیکنالوجی کی جدید دنیا کے باسی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی ہر آواز سے آواز ملانے والے کیا جانیں کہ مکہ اور مدینہ کی ٹھنڈی ہوائیں ہماری کون کون سی گرہ کھول دیں،کون سے جام ہوے دروازوں کو توڑ دیں،اور کہاں کہاں کے ٹوٹے پرزوں کو پھر سے چالو کر دیں! کون جانے!یہ تو سفر حجاز ہی بتاے گا کہ دو دن بعد زندگی بدلنے کے یہ جھکڑ کس کس سمت سے اڑیں گے کہ دربار بادشاہ سے ہمیں بھی پیام آیا ہے۔

2.مدینے کا سفر ہے اور میں:

_دبئی ائیرپورٹ سے ایک عرب ائیر لائن کا طیارہ ہمیں لئے کالے پہاڑوں کے عظیم ترین سلسلوں اور چھوٹی چھوٹی وادیوں کو پیچھے چھوڑتے حجاز کے ان مقدس شہروں کی طرف اُڑاجنکی مٹھی میں لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کی نہیں صدیوں اور نسلوں کی نبضیں ہیں۔جن سرحدوں سے نکلتی ہیں وہ مقناطیسی لہریں جو دنیا اور جہانوں کی ہر شے کو زندگی سے جوڑتی ہیں۔ پرسکوں اور نسبتا خالی سے مدینہ ائیرپورٹ کے حج اور عمرہ کاؤنٹر پر کم سے کم تین پروازوں کا اک جمِ غفیر تھا جسے دیکھ کر خاصی حیرانی ہوی کہ عمرہ کے لئے آنے والوں کا تناسب ہماری توقع سے کہیں زیادہ تھا۔سات آٹھ قطاروں میں کم سے کم بھی پچاس فی صد کراچی سے آنے والی پرواز کے پاکستانی تھے۔اور ان چار دنوں میں ہم نے جانا کہ عمرہ کے لیے پہنچنے والوں میں سب سے آگے پاکستانی ہیں۔اسقدر زیادہ کہ یوں لگتا ہے کہ میزبان ملک پاکستان ہے اور باقی سب عرب دنیا زیارت کو آی ہے۔صرف یہی نہیں سب سے زیادہ خستہ حال،جھریوں ذدہ چہرے،کانپتے ہوے بوڑھے جسم بھی پاکستان سے ہی مکہ اور مدینہ پہنچتے ہیں۔نجانے اسکی وجہ وہ سرمایہ ہے جو عمر بھر لگا کر جمع ہوتا ہے یا وہ سوچ کہ حج اور عمرہ بڑھاپے کا فریضہ ہے۔

مدینہ منورہ کی دلنشین شام کے دھندلکے میں سرکتے سرکتے کوی گھنٹہ بھر اس کاؤنٹر پر لگا کر جب باہر لاونج میں نکلے تو پولیس اور سیکورٹی کو انگریزی سے مکمل نابلد اور اشاروں میں محو گفتگو پایا۔انگریزی کی نسبت کچھ کچھ اردو یا ہندی بول اور سمجھ لیتے ہیں اسکی وجہ بھی یہی پاکستانیوں کی بے تحاشا وہاں پر موجودگی ہی ہے۔ائیرپورٹ سے باہر طے کردہ پیکج کے مطابق جو ٹیکسی موجود تھی وہ اپنے رتبے میں تو یقیناً وہی تھی جسکی قیمت ادا کی گئی تھی مگر شاندار ضرور کسی قدیم زمانے میں ہی رہی ہو گی چونکہ اس وقت تو وہ بس چلتی کا نام گاڑی تھی۔ ہم عمرہ کی نیت سے اپنا دل اور توجہ زیارات پر ٹکاے کمال درگزر اسکی خستہ حالی سے کر کے ہوٹل کی سمت روانہ ہوئے جو یقینا ہماری معلومات کے مطابق پیارے نبی کی مسجد کے باجھوں میں تھا۔مگر یہ جانا کہ یہاں پر ٹریول ایجنٹ ضرور بہت کماتے ہونگے جو دایاں دکھا کے بایاں تھماتے ہیں، پیسے مکمل وصول کرتے ہیں اور ہم جیسے عقیدتوں سے بھرے انکی ہر بد دیانتی سے صرفِ نظرکئے چلے جاتے ہیں جو کوئ ایسی بڑی نیکی بھی نہیں کہ ایک زرا سا روحانی جھکاؤ ہمارے نفس کو بہت سے فساد سے روکتا چلا جاتا ہے۔ یہ ماجرا ہم نے آخر دم تک دیکھا۔سو اس سفر پر نکلنے سے پہلے ایجنٹ سے طے کرتے، دوست احباب سے ،بکنکگ ڈاٹ کام سے گوگل وغیرہ سے اچھی طرح تسلی کر لیں کہ کہیں آپ پورے کی قیمت دے کر آدھا تو نہیں لینے والے۔

ایک شہر کے طور پر اپنی ہیئت اور انداز سے مدینہ کراچی اور لاہور سے کچھ مختلف نہیں۔وہی ڈھیروں ڈھیر پاکستانی،پرانی سڑکیں اور عمارات،کچے پکے علاقے۔۔۔۔۔مگر اسقدر عام سا شہر اپنی تاثیر میں لاجواب دیکھا۔پہلے پہل آپ اسکی سڑکوں میں عمارتوں میں اور لوگوں میں کچھ مختلف کچھ شان و شوکت ڈھونڈتے ہیں اور ناکام ہوتے ہیں۔پھرآہستہ آہستہ آپ پر اسکے جادو کے طلسم کھلتے ہیں اور محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس جگہ سے خوبصورت مقام شاید پوری زمین پر نہیں اور یہ خوبصورتی نہ تو یہاں کے لوگوں میں، سڑکوں میں اور نہ ہی عمارتوں میں، یہ تو کوئ اور ہی اجلی تاثیر ،کوی نور کی بارش،کوئ رحمتوں کا سایہ ہے جو دھیرے دھیرے آپ پر اپنے اسرار کھولتا ہے۔

ہوٹل کی جس کھڑکی سے ہم سبز گنبد کے محبوب مناظر دیکھنے اور اپنے ڈی ایس ایل آر میں محفوظ کر لینے کے ارمان میں گم تھے ہوٹل پہنچ کر جانا کہ وہاں سے محض باہر صحن کے چند مینار دکھائ دیتے ہیں۔زرا سی مایوسی ہوئی چونکہ اپنا وزنی کیمرہ کاندھے پر لادے میں اسی آس میں ساتھ لائ تھی کہ ایسی فوٹوگرافی کا کیا فایدہ جب اللہ کے پیارے گھر اور اسکے محبوب کے روضہ کی ہی تصاویر نہ بنیں۔میری معلومات کے مطابق حرم کعبہ اور مسجد نبوی کے اندر پروفیشنل کیمرے کی اجازت نہ تھی۔اور موبائل سے گھڑی گھڑی تصاویر لینے کے میں حق میں نہیں تھی۔سو موبائل بیگ سے صرف روضہ رسول کی ہری جالی کا اک یادگار فوٹو لینے کے لئے نکلا۔مگر میرے دل کی یہ زرا سی آرزو بھی اس در سے نامراد نہ لوٹی اور پیارے نبی پاک کے گھر سے میرے کیمرے اور خواہش کی طلب کو خوب دل سے نوازا گیا۔الحمداللہ! ۔اور سچ تو یہ ہے کہ مایوسی،نامرادی،تکلیف،غصہ، اور کوفت جیسے تکلیف دہ جزبات مدینہ منورہ کی پرنور ہواؤں سے نادیدہ انداز میں غائب ہیں۔کچھ ایسے جادو ہیں کچھ ایسے طلسم ان دو مقامات پرجو ہمیں دھکیلے لیے آتے ہیں۔ اسمیں نہ ہماری نیکو کار ہونے کی کوئ گواہی نہ ہمارے اعمال کی روشنی، یہ سب تو ان جگہوں کی تاثیر ہے کہ ہم جیسے ٹوٹے پھوٹے بیزار دل آہ و زاریاں کرنے لگتے ہیں۔کیسے کیسے کاہل اور سست الوجود ہم گھنٹوں کھڑے اور چلتے ان ناموں کا ورد کرنے لگتے ہیں کہ جنکا زبان پر آنا ہی کبھی بہت بھاری لگتا ہے۔جھریوں ذدہ کانپتے ہاتھ سکڑتے جسم چو چلیں تو لگے کہ ابھی گریں گے کیسے کیسے پھنسے ہجوم میں نکلتے چلے جاتے ہیں اور مسکراتے لوٹتے ہیں،جہاں تل دھرنے کی جگہ نہ ہو وہاں بیمار اور بوڑھے سجدے کرتے نمازیں پڑھتے اور سلامتی پاتے ہیں۔یہ کرم کسی اور ذات کا ہے یہ ہماری اور آپکی ہمت کہاں،یہ ہم سب کی اوقات کہاں۔

(

جاری ہے)

سفر حجاز۔پارٹ 2

____________

تحریر و فوٹو گرافی: صوفیہ کاشف

تحریر اے آر وائی ڈاٹ ٹی وی پر شائع شدہ ہے۔سفر حجاز:ARY.tv

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.