غزل_________نور العلمہ حسن

باندھا کرتے وہ ایسا خُلق کی زنجیر سے،
ڈرانا ہی نہ پڑتا پھر کسی شمشیر سے۔۔۔

تمہارے حق میں تھی تو کیسا قائل تھے،
اب کیوں خائف ہو مری تقریر سے؟

آج یوٹیوب پر ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں وہ،
جو کہتے تھے، گناہ ہوتا ہے تصویر سے۔۔۔

کہا ہوا تو فنا ہوا مگر یقیں رکھو،
امر ہوجاتا ہے آدمی تحریر سے۔۔۔

بڑا مشکل ہے، مت پوچھا کرو،
سوال منزل کا، کسی راہگیر سے۔۔۔

ہے صبحِ امن پاس تو قدر کرو اِسکی،
سبق لو ذرا، شام کی تصویر سے۔۔۔

جو دیکھو کہیں رشتوں کو جدا ہوتے،
قریب لے آیا کرو ذرا تدبیر سے۔۔۔

معاف کردینا مری رخصت سے پہلے گر،
دکھا ہو دل تمہارا کسی تقصیر سے۔۔۔۔

ذکر ہی ہے حل اور حکم بھی ہے،
جو ہوجایا کرو کبھی دلگیر سے۔۔۔۔

بہتریں سے بھی بہتر جانتا ہے وہ،
پھر گلہ کیسا مالکِ تقدیر سے۔۔۔؟

__________________

~نورالعلمہ حسن

Advertisements

4 Comments

Comments are closed.