لوری،نیند کی پری اور ممی

🌺بچوں کے سونے کا وقت ہے۔”چلو چلو،اٹھو، اٹھو،جاو جاؤ”۔روز ہوتا ہے۔زرا سا لیٹ سوے تو صبح باں باں کرئیں گے،اٹھا نہیں جاے گا ،بریک فاسٹ پر الگ بحث ہو گی۔فاطمہ اور آمنہ تو کچھ بڑی ہو گئی ہیں، خود سے تیار ہو جاتی ہیں دو منٹ میں ،مگر محمد۔۔۔ٹراوزر پہنتے پہنتے سوچ میں گم جاتا ہے۔ابھی سات سال کا ہے تو ناشتہ بھی آہستہ آہستہ کرتا ہے اسے کہو” جلدی! جلدی!۔۔۔تو کھڑا ہو کر رونے لگ جاتا ہے مزید دیر کروا دیتا ہے۔تین بچے پال کر اندازہ ہوا کہ اتنا چھوٹا بچہ وقت اور اسکی قلت کا اندازہ نہیں لگا پاتا۔الٹا ماں کا جلدی جلدی کا شور انکے ہاتھ پاؤں پُھلا دیتا ہے۔ مگر یہ تو تھی صبح کی کہانی۔۔۔اس سے پہلے ہو گی رات کی داستاں!

تو اب تین بچوں کو رات ساڑھے سات بجے سلانے کا مطلب ہے کہ کوئ ساڑھے چھ بجے انکے پیچھے سب ہتھیار لئے لگ جاؤ ۔سر پر کھڑے ہو جاو،

“محمد ! چلو پی پی کرو!”

“۔۔۔۔۔۔۔۔نائٹ ڈریس چینج!”

اب ایسے موقع پر محمد کو ہمیشہ یاد آ جاتا ہے کھیلنا۔۔۔۔۔۔

“just five minutes!!!!____

—————i want to play!!!”

اور پھر

😭😭😭😭😭😭😭

اب یہاں پر مجھے پتا ہے جیسے بھی چیخ پکار کر لوں،اسکا باجا بڑھتا ہی جاے گا ،تو آسان حل کیا ہے۔۔۔۔۔دو تین گہری سانسیں،زرا سا حوصلہ۔۔۔۔

“اچھا! اوکے!”

“Only five minutes!”

“Ok?”

“Ok!”

اب وہ راضی ہو گیا۔اور میں تھوڑی سی بارگین سے کامیاب۔پانچ منٹ بعد جاؤں گی تو تھوڑی سی چوں چراں کر کے مان جاے گا اور اپنی رضامندی سے لیٹ جاے گا۔بچہ اپنی رضامندی سے بستر پر جاے گا تو جلد سکول کی تھکاوٹ میں سو جاے گا۔ورنہ پھر چوں چوں چوں۔۔۔۔۔بچے کی بھی زحمت اور ماں کے لیے تو مصیبت سی مصیبت!!!!ایک چوبیس گھنٹے کی دن رات ڈیوٹی دینے والی ماں کی اس سے بڑھکر پریشانی اور کوئ نہیں کہ دن رات لگا کر،پھرکی کی طرح گھوم کر بھی بچہ پھر بھی چوں چوں چوں کرتا پھرے !

یہ بھی پڑھیں:ممی کی ڈائری/ماں،بچےاورپریوں کی کہانی

آمنہ اور فاطمہ دونوں کو نماز کی عادت ڈال رہی ہوں انکو آٹھ تک جگانا مجبوری ہے۔محمد چھوٹا ہے اور اسے اکیلے لٹانے پر راضی کرنا مشکل ہے۔تو اگر کبھی میاں زرا حالت سکون میں ہوں ،اور میرے کام قسمت سے وقت سے کچھ پہلے مکمل ہوں اور دماغ میں کچھ شعور باقی ہو،تو میں اسکا ہاتھ پکڑتی ہوں اور کہتی ہوں ،آو سوئیں! تھوڑی دیر اسکے ساتھ لیٹ کر،اسے پپی جپھی کر کے،تھوڑی دیر اسکے ساتھ لاڈیاں کر کے وہ پرسکون ہو جاتا ہے اور آرام سے سو جاتا ہے۔محمد کو میں نے لوریاں سنانے کی عادت کبھی نہیں ڈالی،اسلئے وہ کبھی لوری نہیں سنتا،نہ سننے کی ضد کرتا ہے نہ کہانیاں سننے کی۔وہ صرف مجھ سے جھپھیاں پپیاں کر کے خوش ہو جاتا ہے۔شاید اس لئے کہ بیٹا ہے اسکے مزاج کا فرق ہے،یا شاید اس لئے کہ اسے عادت نہیں ڈالی،۔محمد کی باری وقت ہی کہاں تھا میرے پاس اتنے لاڈ کرنے کا ۔ایک بچہ سکول جاتا تھا ،دوسرا گھر میں تیسرا گود میں۔ایک کے لئے صبح سویرے اٹھنا پڑتا،فاطمہ کو سکول بھیج کر فارغ ہوتی تو آمنہ کے اٹھنے کا ٹائم ہو جاتا،اسے واش کر کے کھلا پلا کر فارغ ہوتی تو محمد اٹھ جاتا،اسکی ڈیوٹی پوری کرتے کرتے کھانا پکانا،گھر کچن کے سب کام سر پر سوار ہو جاتے ۔پھر باری باری ڈیوٹیاں پوری کرتے میں دن رات کے ذیادہ تر گھنٹے جاگتے گزارتی۔کوی بھی دو کام ایک ساتھ نہ ہوتے سب کے اپنے اوقات،سبکی اپنی اپنی روٹین اور کرنے والی ایک تنہا میں۔۔۔۔۔سو اسکے سونے کے وقت پر اسے کاٹ میں لٹاتی،ٹی وی پر سکرین آف کر کے تلاوت چلاتی اور خود باہر،،،وہ کروٹ بدلتا بدلتا خود ہی سو جاتا،،،میرا بھولا معصوم بچہ💔💔💔💔💔

مگر یہ چیز جتنی اسکے لئے کم رومانوی تھی اتنی ہی مفید بھی تھی۔پہلے تو میری روٹین میرے اتنے لاڈ کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی،میں چاہتی بھی تو نہ کر پاتی!پھر اس سے اس نے خودمختاری سے سونا سیکھا۔بیٹا ہے،مضبوط بنے گا!۔میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ زمانے کی دھول چاٹنے والے ہیرے موتی بنکر نکلے ذندگی میں۔جنکے سروں پر چھت تک نہ تھی انہوں نے کامیابی سے دنیا پر راج کیا۔تو اگر ماں کی میٹھی گود کے ہوتے اس نے کچھ مشکل کی عادت ڈالی تو انشااللہ،اسکے حق میں خدا اسے اچھا ہی کرے گا۔میرا دل بہت ٹوٹتا ہے،مگر میں خدا سے اچھے کی امید رکھتی ہوں۔مجھے یقین ہے میرے مسائل کو اس سے بڑھکر کوئ نہیں سمجھ سکتا تھا۔میرے اختیار میں میری استطاعت میں جو کچھ تھا میں کر چکی۔اب میں اپنی مجبوریوں اور تنگی دامن پر یا پچھتاوے پال سکتی ہوں،رو دھو سکتی ہوں،یا اپنی مشکلات کو سمجھ کر اپنا پورا زور لگا دینے پر خود کو ایک تھپکی دے کر سب کچھ اللہ پر چھوڑ سکتی ہوں کہ کوشش ہمارا فرض تھا رحمت اور برکت ڈالنے والی ذات خدا کی،تو میں اکثر کوشش کرتی ہوں کہ میں پچھتاوے پالنے کی بجاے باقی سب خدا پر چھوڑ دوں۔

یہبھیپڑھیے:ماںمہربان

فاطمہ کی بار جو میں لوریاں دیتی تھی تو سارا جہان سنتا تھا۔اسے جو عادت ڈالی لوری سننے کی اور وہ نیند سے اکتائ ہوی بچی،میں اسے سلانے کی کوشش میں نڈھال ہو جاتی،اور وہ میری کمر سیدھی کرتے کرتے پھر اٹھ کر بیٹھ جاتی۔۔۔جو دنیا جہان کے گانے،نعتیں ،درود،،،،گھر، باہر،مہمان جا کر،شادی میں کہیں پر بھی جہاں اسے چپ کروانے کی بات ہوتی مجھے لوریاں سنانی پڑتیں۔لوریوں کا یہ بھتہ کوئ پانچ سال تک بھرا پہلے فاطمہ کو اور پھر کچھ نہ کچھ آمنہ کو بھی اور اسکے بعد،،،،میرا گلہ دکھ گیا،آواز بجنے لگی،گانے نعتیں سب تھک گئیں اور میں نے بچوں سے توبہ کرنے سے پہلے ہی لوریوں سے توبہ کر لی!

لیکن یہ سچ ہے کہ بستر پر جاتے ہوے بچے کو کچھ ذہنی سکون اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے،جسکی خواہش میں وہ پھدکتا،بھاگتا پھرتا ہے۔اور وہ توجہ ضروری نہیں صرف لوری ہی ہو،کچھ پپیاں،کچھ جپھیاں کچھ دیر کا اس کے ساتھ لیٹ جانا بھی اسکے دل اور دماغ کو ٹھنڈا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

تو محمد کی بار میں نے دوسرا طریقہ اپنایا۔سونے کے لئے اسکے ساتھ لیٹ جاتی،اور اکثر اس سے پہلے ہی سو بھی جاتی۔ماں جاگتی گھڑیاں گنتی رہے،اسکا دل تیز تیز دھڑکتا رہے اور پلکوں پر ذمی داریاں اور تابعداریاں مچلتی رہیں تو بچہ بھی ڈھنگ سے سو نہیں پاتا۔اپنے جگر گوشے کو سکون سے میٹھی نیند سلانا ہے تو پہلے اپنے کندھے سے ہر زمہ داری کا بوجھ،ساس کے کڑے تیور،میاں کے مطالبے جھٹک دیں۔آپکی سست پڑتی دھڑکن اور نرم پڑتا سوتا ہوا جسم بچے کو جلد از جلد نیند کی طرف لیجاتا ہے۔۔اور لگے ہاتھوں کچھ گھڑی کا بونس آرام بھی مل جاتا ہے۔اس بونس آرام میں چاہے پندرہ منٹ کا ہی سہی، نہ کوئ شرمندگی ہے نہ جرم نہ گستاخی____یہ ماں اور بچے دونوں کی اچھی صحت اور تعلقات کے لئے بہت ضروری ہے۔

زندگی میں ہلکا پھلکا رومانس ضرور رکھیں،کبھی دل چاہے تو لوریاں ،نظمیں ،گانے ،نعتیں جو آپکو پسند ہو ضرور سنائیں،مگر اسے اپنی اور بچے کی عادت اور مجبوری نہ بنائیں۔ماوں کی لوریاں جب تھکاوٹ سے شرابور ہو جائیں اور ان میں سُر کی بجاۓ غضب جھانکنے لگے تو ایسی لوریاں بھی مفید ہونے کی بجاے کچھ نقصان دہ ہی ثابت ہوتی ہیں۔انکو آذادی اور خودمختار ی سے سونے کی عادت ڈالنا انکو بھی غیر ضروری دباؤ سے بچاتا ہے اور ماؤں کو بھی۔ہاں زندگی کے چھوٹے موٹے رومانس رہ جاتے ہیں، ماؤں کا دل دکھتا رہتا ہے مگر۔۔۔۔ماں کا دل غضب ناک اور مجبور لوری سنا کر بھی کب سکون سے رہتا ہے تو یہ بہتر نہیں کہ دو میں سے ایک ذیادہ بہتر چوائس کر لی جاۓ۔

یہ بھی پڑھیں:ممی کی ڈئری/بندچمنیاں اورممی

مجھے یقین ہے کہ بچے صرف لوریوں ہی سے نہیں پل جاتے،انہیں صرف ماں کی ہر وقت کی گود ہی نہیں چاہیے،بلکہ ماں کی زیادہ گود تو بگاڑتی دیکھی ہے۔بچے کو کچھ اس دنیا کی ہوا بھی چاہیے جس میں اس نے عمر بھر رہنا ہے۔ ماں کی نرم گرم گود بہت ضروری ہے مگر اسکے ساتھ ماؤں کی سخت روٹین کی وجہ سے کچھ کمپرومائز کرنے پڑ جائیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔میں نے بڑے بڑے لوگوں کی تربیت کو بگڑتے دیکھا ہے۔نیک اولاد کے لئے صرف باشعور والدین ہی نہیں خدا کی رحمت کا ہاتھ اور برکت بھی بہت ضروری ہے۔ہم ماؤں کو عادت ہو جاتی ہے ناں اپنی ہر کوتاہی کو دل پر لینے کی،دنیا کی ہر ماں سپرماں ہوتی ہے پھر بھی مزید سپر ہونا چاہتی ہے،پھر بھی خود کو ہر وقت ناکام سمجھتی رہتی ہے۔کبھی کبھی ہمیں بھی لوریوں کو ضرورت ہوتی ہے،خود کو یہ بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہمارے اختیار میں جو تھا ہم کر چکے،اس سے زیادہ کی ہماری استطاعت نہ تھی۔کبھی ہمیں بھی خود کو ہی گلے لگا کر تسلی دینے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہمارے ذمے جو کام تھا ہم خوب دل لگا کر کر چکے،اب قبول کرنے والی ذات اسے قبول کرے اور اسمیں برکت ڈالے!آمین!

_________________

تحریر: ممی

کور ڈیزائن اینڈ فوٹوگرافی:ثروت نجیب،صوفیہ کاشف

Write to mommy:

mommysdiary38@gmail.com

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی تخلیق ہیں ۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محضاتفاقی ہے۔)

Advertisements

6 thoughts on “لوری،نیند کی پری اور ممی

  1. ثروت نجیب

    بہترین ممی ـ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے دلچسپی بڑھنے لگتی ہے ـ

    Liked by 1 person

  2. Pingback: ممی اور گرمیوں کی چھٹیاں – SofiaLog.Blog

Comments are closed