ممی اور گرمیوں کی چھٹیاں

💝عید کی چھٹیوں کے دو دن ۔۔۔گرمیوں کی چھٹیوں کا اک چھوٹا سا ٹریلر ثابت ہوے۔جہاں چھٹی کی خبر آتی ہے سب سے پہلے ممی کی سکون اور شکر کی گہری ٹھنڈی سانس نکلتی ہے کہ

“شکر ہے اب آدھی رات کو سو کر صبح سویرے منہ اندھیرے نہیں اٹھنا پڑے گا!”

صرف اٹھنا ہی نہیں بلکہ آنکھ کھلتے ہی بغیر بیڈ ٹی کے،بغیر کچھ سست انگڑائیوں کے،ایک ہی جست میں پوری آنکھیں کھولے کچن کی طرف بھاگنا بھی پڑتا ہے اور نیند کی سستی دھیرے دھیرے اتارےبغیر،بغیر رکے، بغیر سانس لیے ایک ڈیڑھ گھنٹے میں سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کام کرتے کم سے کم تین گھنٹوں کا کام بھی نپٹانا پڑتا ہے۔تو چناچہ ویک اینڈ آتے ہی سب سے پہلا سجدہ شکر بھی ممی کا ہی ہوتا ہےکہ چلو ایک صبح کی تو شروعات زرا دھیمی ہو گی۔”

یہ بھی پڑھیں:لوری ‘نیند کی پری اور ممی

مگر بات اسی پر ختم کہاں ہوتی ہے۔ان چھٹیوں کے آنے پر سب سے پہلی چیخ بھی ممّی کی ہی نکلتی ہے۔چھوٹے سے رقبہ پر واقع بند کمروں والے گھر میں تین بچے، پورے دو ماہ کے لئے،ایک دوسرے کے مد مقابل،ایک دوسرے سے نبرد آذما۔۔۔۔اور انکا فیصلہ کروانے والی،جھگڑے نپٹانے والی ایک تنہا ماں!تینوں ہی ماں کے لاڈو پیار کے بگاڑے ،،پھر بھی تینوں ہی خود کو ٹھکراے ہوے  اور خود کو ماں کی سوتیلی اولاد سمجھنے والے۔۔۔۔اور ممی ایک ایسی ذہنی جنگ اور آزمائش کی شکار جسمیں اسے کوئ ایسا فیصلہ کرنا ہے،جس سے گھر میں امن بھی ہو،اور کوئ احساس محرومی بھی نہ جاگے۔۔۔(ہے ناں حیرت کی بات کہ پیار کر کر مائیں تھک گئی ہیں اور بچے ہیں کہ ریں ریں کرتے پھرتے ہیں۔۔۔۔پھر بھی دکھیاری مخلوق) تینوں ہی بنیادی حقوق کی جنگ کے علمبردار،،سچ اور حق کی دہلیز پر کھڑے،،،اور میں ممی ہمیشہ سوچتی ہوں کہ کیسا اچھا ہوتا کہ تین لڑنے والے بچوں میں سے دو کسی اور کے ہوتے۔۔۔سیدھا سیدھا فیصلہ ہوتا دو کو ایک ایک لگاؤ اور اپنے کو بچاؤ! اب تین بچے تینوں اپنے!ایک میز ،کرسی یا پن پر جھگڑتے اپنے اپنے حقوق کی دہائی دیتے،،،،ایک بیکار چیز اور تینوں بچے اکھاڑے میں! اب ماں کس کو روکے،،کس کو ڈانٹے کس کو لگاے کہ یہ جھگڑا سکون سے نپٹے!ڈانٹ اور تھپڑ جس کو بھی پڑا سب سے پہلی چوٹ خود ممی کو ہی لگنی ہے اور زور کی لگنی ہے اور بچوں نے کہنا ہے

” ہماری ماں بھی کتنی ظالم ہے!”

ہم بھی تو ایسے ہی سوچتے تھے ناں!اپنی ظالم ماؤں میں محبت دیکھ نہ پاتے تھے۔ہمیں بھی لگتا ہے ہم سرکنڈوں میں خودبخود پیدا ہو کر ،خودبخود پل گئے،ورنہ ایسے ظالم ماں باپ کا بس چلتا تو مار ہی ڈالتے ہمیں۔

تو اپنے ہی بچوں کے زندگی موت پر مبنی یہ مسلسل جھگڑے،چھٹی کے دن٬اور ان جھگڑوں کو جھیلنے،نپٹانے اور سنبھالنے والی پل صراط پر چلنے کی کوشش میں گر گر جانے والی یہ ممی۔۔۔افففف میرے پاس اپنی صورتحال بیان کرنے کے لئے الفاظ ہی نہیں ابھی کہ اس وقت کی سختی کو کسطرح بیان کیا جا سکے جو ایسی گھڑیاں ماؤں پر لاتی ہیں۔،😪

یہ بھی پڑھیں:ماں،مہرباں

ماں ہونا اتنا بھی آساں نہیں ہوتا،کہ گود میں پیارا ساپلکیں جھپکاتا،مسکراتا خرگوش سا،چھوٹی چھوٹی ہتھیلیوں والا گپلو سا بچہ آ گیا مسکراتے رہنے پیار جگانے کے لئے۔۔۔شروع کے دو تین خرگوش نما سالوں کے بعد یہی ننھے ننھے خرگوش ببرشیر اور چیتے بنکر چنگاڑنے لگتے ہیں،لڑنے اور جھگڑنے لگتے ہیں،،،وہی بچے جنکا منہ چوم چوم مائیں تھکتی نہ تھیں انکے منہ طمانچے سے لال کر دیتی ہیں یا اس شدید ترغیب سے بچنے کی کوشش کرتیں اپنے سروں کو مائیگرین کا عادی بنا بیٹھتی ہیں۔

تو یہ شیروں کے منہ لال کر دینے کا عمل خود ممی کے لئے کسقدر تکلیف دہ اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔اگر ماں روکتی نہیں بچے کوتو سر پر انکے بگڑ جانے کا شدید خوف کھڑا کہ یہ دو آمنے سامنے مقابلے پر کھڑے بچے کہیں ایک دوسرے کا منہ ہی نہ نوچ لیں،کچھ اٹھا کر ایک دوسرے کے سر پر ہی نہ مار ڈالیں!________اور اگر بڑھ کر چلاتی ہے اور خود اپنے ہاتھوں سے دونوں کو ایک ایک لگاتی ہے تو اپنا دل کتنے ٹکروں میں ٹوٹا کتنی دیر تک دہائیاں دیتا رہتا ہے کہ “ہاے او ربا۔۔یہ کیا کِیا؟”

مجھے ہمیشہ یوں لگتا ہے کہ مجھے ماں بننا نہیں سکھایا گیا،میرے گھر میں میرے سکول کالج اور یونیورسٹی میں مجھے اس ہنر میں طاق کیوں نہ کیا گیا جو مجھے ساری عمر درپیش رہنا تھا۔لڑکیاں سولہ سال میڈیکل،انجینئرینگ،سائنس کمپیوٹر،ڈیزائن ،ادب اور جانے کیا کیا پڑھتی رہتی ہیں اور بنادی جاتی ہیں آخر میں مائیں!۔۔۔۔۔۔۔ایسی مائیں جنکے کام کا کچھ بنیادی علم بھی انکے پاس نہیں ہوتا۔مجھے اس نوکری کا وہ علم اور مہارت کیوں نہ دی گئی جیسے دوسرے علوم کی دی جاتی ہے۔جسےسکول کالج کے سوال حل کئے جاتے تھے کہ خبر تھی کہ جواب آتا ہے تو ٹھیک ٹھیک لکھ دیا، دل مطمئن،دماغ پرسکون۔جیسے برتن دھوئے جاتے ہیں تو چم چم کرتے صاف ستھرے چمکتے برتن نکل آتے ہیں۔اور برتن دھونے والی ممی کے اندر کام کے مکمل ہونے کا پرسکون احساس اتر آتا ہے___کچھ مکمل کر دینے کا خوبصورت احساس!میتھ یا انگلش کے پرچے دئیے جاتے تھے تو کرنے والے کو پتا ہوتا تھا کہ پاس ہو گا کہ فیل___________دل کو ڈھیروں ڈھیر سکون اور علم بھی کہ نتیجہ کیا نکلنے والا ہے______یا کسی بھی علم یا ہنر کا ماہر بندہ جیسے اپنا پراجیکٹ مکمل کر کے سکون کی گہری سانس لیتا ہے۔ممی کی نوکری میں اس سکون اور اور تکمیل کے اس احساس کا فقدان ہے کہ انسان ہمیشہ الجھن میں  رہتا ہے___کچھ نہیں جانتا کیا اچھا کیا ،جو اچھا کیا اسکا نتیجہ کیا نکلے گا__________،جو برا ہوا وہ کسطرح بچایا جاے گا؟یہاں پر اٹھنے والے ہر نئے قدم کے ساتھ ہزاروں سوالات،خدشات اور واہمات جڑے ہیں۔

to be or not to be

کا ہر آن جھگڑا ہے!.

یہ بھی پڑھیں:پریوں کی کہانی اور ممی

میں نے بھی دیکھے تھے ،خوبصورت تابعدار نفیس بچوں کے خواب،ہر بات پر مسکرا کر “جی ممی”کہہ دینے والے بیبے بچے!ہر وقت مسکرانے والے،پہلے آپ کہنے والے،خوب سارا پیار اور تعریف پانے والے۔۔۔۔۔مگر ان خوابوں کی تعبیر ہے بھی کہ نہیں اور اگر ہے تو کیسے ہوگی ،اس کی سائنس سے مکمل نابلد تھی!خالی خوابوں سے تعبیریں نہیں بدل جاتیں!اب دیکھتی ہوں ہر گھڑی انہی خرگوش سے پیارے بچوں کو لگڑ بھگڑ اور شیروں کی طرح چنگھاڑتے،چیختے چلاتے،لڑتے اور جھگڑتے،_____تو سوچتی ہوں کہ زندگی کہ اس محاذ پر شاید میں ناکام ہو گئی !کہ اس نوکری میں نتیجہ ضروری نہیں آپکی محنت اور توقعات کے مطابق نکلے۔رویے بنانے میں آپکی محنت،خوابوں اور ارادوں کے علاؤہ بھی بہت سی چیزوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔اس پر بحث کرنے کے لئے علیحدہ اک وقت چاہیے۔

سر دست تو یہ مسلئہ ہے کہ آنے والی دو ماہ کی چھٹیوں میں ایک تنہا ماں نے تین بچوں کے ان سدا بہار جھگڑوں کو کس طرح نپٹانا ہے ،یہ وقت کسطرح بتانا ہے۔اور یہ تصور ہی اسقدر سوہان روح ہے کہ پہلے سجدہ شکر کے ساتھ ہی ممی آنے والے وقت کی تھکاوٹ سے نڈھال ہو جاتی ہے۔

____________________

تحریر: ممی

کور ڈیزائن اینڈ فوٹوگرافی:ثروت نجیب

Write to mommy:

mommysdiary38@gmail.com

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی تخلیق ہیں ۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محضاتفاقی ہے۔)

Advertisements

8 Comments

    1. آپکے متفق ہونے سے یقیناً ممی کو حوصلہ ملے گا۔اس حوصلہ افزائ کا شکریہ ھدی!💝💝💝

      Like

Comments are closed.