سنو_________رابعہ بصری

🌷سنو، تم لکھ کے دے دو نا
کہانی میں کہاں سچ ہے
کہاں پہ رک کے تم نے غالباً کچھ جھوٹ لکھنا ہے
کہاں ایسا کوئی اک موڑ آنا ہے
جہاں چالان ممکن ہے
کہاں وہ بیش قیمت سا
سنہری چھوٹا سا ڈبہ جو اپنی دھڑکنوں سے اپنے ہونے کی گواہی دے رہا ہے
ٹوٹ جانا ہے
کہاں قاری کو سمجھانا ہے
دکھ کے اس الاوُ میں جھلستی سِی کہانی روک دینا ہی ضروری ہے
سفر میں رک کے سب کو الوداع کہنے کا لمحہ لازمی ہے۔
کہاں تاریخ لکھ کے اس قلم کو جیب میں رکھنا ضروری ہوگیا ہے
سنو ، تم یہ بتاوُ نا
تمھاری طِلسماتی سی کہانی میں کوئی کردار تو ہوگا
جو ذمّے دار ہوگا
کہاں پر مرکزی کردار نے دکھ درد سینے میں چھپانا ہے
فلک کو بدگماں کرکے
زمیں کو آسماں ہوتا دکھانا ہے
ندامت اور ملامت ساتھ رکھنی ہے
ہر اک ساعت کے سارے دکھ اٹھانے ہیں
نبھانے ہیں
بتانا ہے
محبت زندگی کا استعارہ ہے
محبت رات کا پہلا ستارہ ہے
یا
دکھ کا آخری کوئی کنارہ ہے

_____________________

رابعہ بصری

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.