“ابوــــــ”از ثروت نجیب

💝ابو۔۔۔
ہمارے گھر کی دیوار کا وہ بیرونی حصہ تھے’
جس پہ ہر آتا جاتا
جو بھی اس کے من میں آتا !
لکھ جاتا ــــ
وہ سہہ جاتے ‘ چپ رہ جاتے
جب سے وہ دیوار گری ہے
عیاں ہے سارے گھر کا منظر
کیا باہر اور کیا اندر ــــ
دیوار سے لپٹی کاسنی بیلیں
اک جانب خاموشی سے ڈھے گئ ہیں
سایہ سایہ کرتے کرتے
کتنی اکیلی رہ گئی ہیں
رہے نیلے گُلوں کی چمک سلامت
ان کی خوشبو ‘ مالک کی امانت
پر جاتی نہیں کلیوں کی حیرانی
کیاری پہ گرتی ہے صبح سویرے
قطرہ قطرہ پشیمانی
جس کو سُکھاتی ہیں آہیں ـــ
نم کرتا ہے پھر اشکوں کا پانی
دروازے کی چوکھٹ پہ
گندی نظروں کی گرد پڑی ہے
اک امید ‘ جس کا کوئی وقت نہیں ہے
اک دعا دہلیز پہ اداس کھڑی ہے
ابو ـــ
ہمارے گھر کی دیوار کا وہ بیرونی حصہ تھے
جس نے ڈھانپ کے رکھا ہم کو برسوں
جس کی پگ کے بل میں سارے حل تھے
جیسے آج کی بات ہو ‘ یا کل پرسوں
جیسے ابھی ابھی ــــ
کانوں کے پردے ٹٹولتی ــــ
اک صدا مجھے سنائی دے گی
محبت کا ہیولا نظر آئے گا اچانک
شفقت کی جھلک مجھے دیکھائی دے گی
ہائے میرا وہم و گماں
درد و دل کے درمیاں
اے سنگدل وقت’ نامہرباں
میرے دائیں بائیں ـــ
مکان کا پرتو ہے لیکن ‘ گھر کا تصور روٹھ گیا
یادوں کی امانت دے کر مجھ کو
دستِ محبت سر سے چھوٹ گیا

_____________

از ثروت نجیب
تیرہ جون دو ہزار اٹھارہ

کابل

Advertisements

6 Comments

  1. آنکھیں بھیگ گئی ہیں بہت خوب لکھا ہے واقعی ہم سب بے بس ہیں کاش کسی کے ماں باپ نہ بچھڑتے

    Liked by 1 person

Comments are closed.