عید_______از نوشابہ شوکت

🌺وسط میں ورانڈے کے
بیل اک گلابوں کی
فرش سرخ اینٹوں کا
صبح ہی سے چھڑکاو
عید ملنے والوں کا
اک طویل سلسلہ
چوڑیوں کی چھن چھن میں
قہقہوں کی کھن کھن کھن
کھڑکیوں کی آوٹ سے
دل کی منتظر نظریں
آنے والی آہٹ کو
شرمگین پلکوں پہ
سئنت سینت کررکھتیں۔۔۔۔
—– مہندی اور خوان کی
خوشبووں کی لپٹیں سی
دوش پر تصور کے
اڑ کے اب بھی آتی ہیں
عید پر نہیں لاتیں
صرف یاد لاتی ہیں

________________

شاعرہ:نوشابہ شوکت

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

5 thoughts on “عید_______از نوشابہ شوکت

    1. نوشابہ شوکت

      نام کا املا غلط ہوگیا لیکن اصلاح کا کوئی آپشن یہا موجود نہیں نہ ہی ڈیلیٹ کا ہے۔ اسکا کیا حل ہوسکتا ہے

      Like

Comments are closed