عورت اور منافقت___ از ابصار فاطمہ

.
پہلے تو ہمیں یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ منافقت کیا ہے. منافقت کا رویہ ہمیشہ منفی معنی میں استعمال ہوتا ہے اور مصلحت پسندی یا مصالحت پسندی کو منافقت نہ کہنا چاہیے نہ سمجھنا چاہیے. کچھ عرصے پہلے ایک دلچسپ اوپن ڈسکشن ہوئی میرے گروپ میں کہ ہم جھوٹ کیوں بولتے ہیں اور کیا جھوٹ بولنا ضروری ہے؟ اور کیا جانور بھی جھوٹ بولتے ہیں؟ دنیا میں لاکھوں کروڑوں طرح کے جانور موجود ہیں مزے کی بات یہ کہ ہر جانور کی ساخت اور ہییت اپنے ماحول جیسی ہوتی ہے. کئی ٹڈے بالکل پتے جیسے ہوتے ہیں. چتکبری چھپکلی جب تنے پہ بیٹھی ہو تو جب تک ہلے نہیں ہم نہیں پہچان سکتے کہ چھپکلی کہاں ہے. وہ اپنے شکاری کو “دھوکہ” دیتے ہیں یا جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں تاکہ اپنی بقاء کی جنگ جیت سکیں. مگر ان کے شکاریوں کے پاس بھی انہیں ڈھونڈ نکالنے کے طریقے ہیں کیوں کہ وہ ان کی بقاء کے لیے ضروری ہے. ہمارا ماحول ہر وقت ہمیں بقاء کی جنگ میں مصروف رکھتا ہے.
اب دوبارہ اپنے بنیادی ٹاپک پہ آجاتے ہیں جیسا کہ اوپر بیان کیا کہ منافقت ایک منفی رویہ ہے اور یہ اصطلاح تب استعمال کہ جاتی ہے جب ہمارے ڈبل اسٹینڈرڈز کسی فرد یا کسی مخصوص جماعت کو نقصان پہنچا رہے ہوں. بحیثیت معاشرہ ہم منافق جانے جاتے ہیں کیوں کہ جو معیار ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں دوسرے کے لیے وہ گناہ بھی گردانتے ہیں اور جرم بھی. مرد کا نظر بازی کرنا درست جبکہ عورت کا با پردہ ہوکر نکلنا بھی گناہ. مرد کا رشوت لینا درست جبکہ عورت کا رزق کمانے کے لیے نکلنا بھی گناہ. افسر کا آفس ٹائم میں اپنے گھر کے کام کرنا آفس کے پیسوں سے گھر کے خرچے چلانا درست ماتحت کا یہ سب کرنا کرپشن اور جرم. بغور دیکھیں تو یہاں ہر کوئی صنف یا جنس سے قطع نظر کسی نہ کسی حد تک اپنے نظریات میں منافق ہے. توہین رسالت اور توہین صحابہ کی بات آتی ہے تو ہم غیر مسلموں پہ فرد جرم عائد کرتے ہیں مگر اپنے مولوی منبر پہ کچھ کہہ دی‍ں ہم کان بند کر کے چپ ہوجاتے ہیں. دیکھیے تو یہ کہیں نہ کہیں ہمارے بقاء کی جنگ ہے. اور اس کی وجہ ہمارے عوامی شعور کی کمی ہے اور اسی وجہ سے ہم جس رویے کو بقاء کی جنگ سمجھ رہے ہیں وہ ہمیں بحیثیت قوم تباہی کی طرف لے جارہا ہے. میرے خیال میں آپ جسے ناپسند کرتے ہوں اس کے منہ پہ برا بھلا نہ کہنا منافقت نہیں ہے. ساتھ ہی ظلم پہ چپ رہ جانا بھی منافقت نہیں ہے. یہ ظلم کا میکینزم ہے جہا‌ں مظلوم کو حق مانگنے سے بھی روکا جاتا ہے اخلاقیات اور جذبات کی زنجیروں میں جکڑ کے. میں نے جتنا مشاہدہ کیا یہی نوٹ کیا کہ ہماری منافقت کی زد پہ ہمیشہ کمزور ہی آتا ہے. گھریلو خواتین کی منافقت بہت سادہ قسم کی ہوتی ہے. جسے شاید منافقت کہنا بھی درست نہیں. کیوں کہ اس کا مقصد کسی کو نقصان پہنچا کر اوپر آنا نہیں ہوتا بلکہ بس اپنی جگہ بنائے رکھنا ہوتا ہے. ہاں وقت کے ساتھ ساتھ جب یہی خواتین کسی مضبوط مقام تک پہنچتی ہیں وہ چاہے گھر میں ساس ہو یا آفس میں میڈم تو ان کے نظریات اور معیار اس ساخت میں ڈھلتے ہیں جس سے ان سے کمزور کو نقصان ہوتا ہے.

_______________

تحریر: ابصار فاطمہ

ماہر نفسیات

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

Advertisements