” جنگلی زیرہ”

🌺نئے گھر کے تازہ رنگ روغن دیواروں سے روشن روشن کمروں میں سب کچھ اجلا جلا تھا ـ اگر کچھ آنکھوں میں کھٹک رہا تھا تو وہ تھے بابا آدم کے زمانے کے بنے ہوئے دوشک ـ وہ بھاری بھرکم ‘ بوسیدہ دوشک جن کے سرخ مخملی غلاف بھی ان پہ جچنے سے انکاری تھے ـ جیسے بوڑھی گھوڑی لال لگام ـ ـ ـ من من وزنی تکیے جسے اٹھاتے ہی بندہ ہانپنے لگتا ـ دوشک کو تو کھسکھانے کے لیے بھی اچھی خاصی توانائی درکار تھی ـ پتہ نہیں بنانے والے نے کیا سوچ کے ان میں ٹھونس ٹھونس کے کپاس بھروائی ہوگی ـ میرے شوہر شہر میں ملازمت کرتے تھے ـ میں بیاہ کے پانچ ماہ بعد پہلی بار شہر والے گھر میں رہنے آئی تھی ـ گھر میں ایک چھڑے چھانٹ آدمی کے رہنے کے لیے جو لوازمات درکار تھے ان کے علاوہ مجال ہے کہ کچھ اضافی ہو ـ چند پلاسٹک کی رکابیاں’ کچھ کاسے ‘ ٹوٹے ہینڈل والا فرائینگ پین ـ دو چھوٹی دیگچیاں جن کے پیندے اچھی طرح نا مانجھنے کی وجہ سے کالے ہو چکے تھے ـ ایک کُند چھری ‘ کچھ فلزی چمچ ‘ایک پارینہ چولہا جس سے معلوم ہوتا کہ کچن کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا ـ بیڈ روم میں پرانا بیڈ جس کے بیشتر سپرنگ ٹوٹ چکے تھے اس پہ بچھی چادر پہ جابجا سگریٹ سے جلے گول داغ جو یقیناً راکھ کو جھٹکنے سے جلے ہوں گے ـ کھڑکی کے پردے کی جگہ ایک چادر سے شیشوں کو ڈھانپا گیا تھا ـ صالون میں دیوار کے تین اطراف وہی بھاری بھرکم دوشک اور تکیے دھرے تھے البتہ سرخ افغانی قالین کی چمک اب بھی برقرار تھی وہ نجانے کتنے زمانوں اور قدموں کے نشان سمیٹتے سمیٹتے اب اینٹیک بن چکا تھا ـ میں تو گھر کی حالتِ زار دیکھ کر روہانسی ہی ہو گئی ـ

یہ بھی پڑھیں:خاطرہ
” ایسے گھر میں رہتے کیسے ہیں آپ ؟”
میاں نے مسکرا کر کہا ” رہتا کہاں تھا بس رات گزارنے آ جاتا تھا ”
لیکن مجھے تو اس بھوت بنگلے کو گھر بنانا تھا ـ جس کی ابتدا ہم نے آتے ہی کر دی ـ گھر میں مزدوروں کی آمدورفت ہوئی تو بکھیڑا اتنا بڑھ گیا کہ بس ڈھانچے کے علاوہ گھر کا سارا نقشہ ہی کچھ ماہ بعد بدل چکا تھا ـ سیمنٹ کے اکھڑے فرش کی جگہ ٹائلز اور لکڑی کے فرش نے لے لی ـ چوبی الماریاں جن کے پٹ پہ شیشے لگائے گئے ‘ جدید مغربی طرز کے باورچی خانے کا سبھی ساز و سامان ترکی کی کمپنی سے لیا گیا ـ جدید طرز کے پردے’ ترکی قالین ‘ زریں فانوس سب کچھ ہی نیا تھا ـ ایسے میں توشک گلاب کی ٹہنی پہ کانٹوں کی طرح کھٹک رہے تھےـ میں نے اپنی پڑوسن خانم ثریا کو کہلوا بھیجا کہ اس بار جب کہنہ فروش آئے تو توشک کا سودا کروا دے ـ وہ اگلے دن ہی میرے پاس آ گئی گھر کے بدلے ناک نقشے کی توصیف کی اور کہا “کیوں مزید خرچہ کرتی ہو بہن ؟ ”
” کاکا نداف سے توشک کی روئی دھنوا لو” ـ میں سوچ میں پڑ گئی ” کاکا نداف ؟”
ہاں ہاں وہ اشتیاق سے بولی ” جادو ہے اس کے ہاتھوں میں وہ ایسی روئی دھنک کر دیتا ہے پرانی سی پرانی کپاس بھی بادلوں کی طرح پھولی ہوئی اور نرم ہو جاتی ہے ـ”
میں نے کہا ” چلو یوں ہی سہی ‘ کبھی آئے تو میری طرف بھیجوا دینا ”

محبت کی ادھوری کہانی:کمی

تابستان ڈھلتے ہی گلی میں ایک کے بعد ایک نداف صدائیں دیتا ہوا گاہک تلاش کرتا ـ مگر سبزی مصالحہ تو تھا نہیں میں نے کبھی جھانک کے نہ دیکھا نہ توجہ دی کون نداف کیسا نداف ـ
کچھ دن بعد دروازہ کھٹکا ‘ کاکا نداف نےصدا دی “نداف ہستم ” میں نے دروازے کے سوراخ سے جھانک کر دیکھا ایک بزرگ بجھے چونے جیسی دودھیا سینے تک داڑھی ـ سر پہ سیاہ صافہ پہنا ہوا ‘ سفید شلوار قمیص میں ملبوس’ گھٹا ہوا جسم ‘ آنکھوں پہ کالے موٹے فریم کا چشمہ ‘ جھریوں ذدہ ہاتھ اور پشت پہ ندافی کا سامان لدا ہوا ‘ ہائے اللہ یہ ہے کاکا نداف اتنا ضعیف؟ میں ابھی اسی شش و پنج میں گھری تھی کہ دوبارہ صدا لگائی ” نداف ــــ ” میں نے کہا “،صبر کن ” ـ وہ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ـ اس سے پہلے میں نے نداف سے کام نہیں کروایا تھا کبھی ـ اب مجھے سمجھ نہ آئے کہ دوشک کے پوش اتار کے دوں یا زریں استر کھول کے کپاس دوں؟ خیر میں نے ایک دوشک کا سرخ مخملی پوش اتارا ـ دوشک کے غلاف تو اوور کوٹ والے افسانے کے پراسرار کردار کا اوور کوٹ نکلے ـ
اندرونی سفید استر میلا کچیلا اپنی اصلی رنگت تک کھو چکا تھا ـ اس پہ بڑے بڑے داغ تھے ـ نجانے کیا کچھ گرتا رہا اور کپاس جذب کرتی رہی ـ میں نے دل میں سوچا اس میلے کچیلے استر کے ساتھ دوں گی تو کیا سوچے گا کیسی عورت ہوں صفائی ستھرائی کا خیال تک نہیں ـ اب اسے کیا معلوم یہ دوشک کس طرح میرے پاس پہنچا ہے ـ کیا خبر میری ساس کے جہیز کا ہو پھر نجانے کس کس کے زیرِ استعمال رہا ـ خانہ جنگی کی لوٹ کھسوٹ سے بچ گیا ـ جب اسے قرینے سے سجا کر رکھنے والے کسی مجبور وقت میں اسے سٹور میں چھوڑ کر ہجرت کر گئے ہوں گے تو اس پہ کیا بیتی ہوگی ـ زمانے کی گرد سہتا رہا ہوگا ـ
جب میرے میاں واپس وطن لوٹے ہوں گے تو اسے بچپن کی پرانی یادوں میں یہ دوشک بھی ملے ہوں ـ تبھی جھاڑ پونچھ کے بچھا دیا ہوگا ـ اسے ادھیڑا پر بے حد مایوسی ہوئی میں استرا اوپر سے ادھیڑا اندر سے میلی کچیلی ‘ داغدار ‘ بدبو کی ماری روئی کے نام پہ کباڑ نکلا ــــ اففف میں نے دوبارہ وہی جگہ سی دی اور پوش چڑھا کے گھسیٹے ہوئے دروازے تک لے گئی ـ اوٹ میں کھڑے ہو کر آواز دی کاکا نداف بگیر (لے لو) ـــ نداف دوشک یکھتے ہوئے بولا ” ایک دن میں سارے توشک ممکن نہیں ‘،دن ڈھل چکا ہے کچھ آج کچھ کل ‘میں نے کہا ” نہیں نہیں کاکا! یہ آپ کے ہوئے ـ
مجھے اب ان کی ضرورت نہیں ـ بڑی مشکل سے اس ضعیف آدمی نے ان کی گھٹری بنائی اور کمر پہ لادے چلا گیا ـ میں نے تو مانو سکھ کی سانس لی جیسے دوشک فرش پہ نہیں میرے دل پہ دھرے تھے ـ تبھی میں نے سوچ لیا اب کی بار پولیسٹر کے دوشک بنواؤں گی ـ آجکل کپاس کا فیشن کہاں ـــ

کچھ دن گزرے خانم ثریا کہ منہ زبانی معلوم ہوا ـ کاکا نداف اس دن کے بعد نہیں آئے ‘ یوں تو روز نداف گلی کا چکر لگاتے صدائیں دیتے چلے جاتے مگر جو کام آقا نداف کا تھا ویسا ہر کوئی کہاں کرتا ـ ادھر نظر جھپکی نہیں مالک کی اُدھر روئی کا ڈھیر لگا دیتے بعد میں معلوم ہوتا روئی تو ٹھیک سے دھنکی ہی نہیں ـ
میں نے کہا ! کہیں فوت تو نہیں ہوگئے؟ خانم ثریا بولی ـ چچ چچ چچ ـ ـ ـ ـ بےچارہ!
” پتہ ہے میری شادی جب ہوئی تو یہ ایک توانا ‘ جوان آدمی تھا اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ آیا کرتا تھا دھیرے دھیرے بیٹوں نے باپ کا پیشہ اپنا لیا دونوں باپ کی طرح محنتی تھے ـ کاکا نے آنا چھوڑ دیا ـ پھر اس کا ایک بیٹا جنگ میں شہید ہوگیا تو کاکا اپنے دوسرے بیٹے کے ہمراہ آتا تھا ـ کچھ سال قبل اس کا دوسرا بیٹا بھی بم دھماکے میں جان بحق ہوگیا ـ تو پھر سے کاکا نداف نے اکیلے آنا شروع کر دیا ـ میں تو دل مسوس کے رہ گئی ۔

/یہ بھی پڑھیں:من موہن کرمکر کی بیٹی کا دکھ

اِدھر کاکا نداف کی ڈھنڈیا مچی تھی اُدھر موسم کے تیور بدلنے لگے ـ ٹھنڈ شروع ہو گئی تو کہاں برف اور کہرے میں کوئی نداف آتا ـ باغبان سے کسی نے سنا کہ وہ تو اپنی بستی میں بھی آجکل دیکھائی نہیں دیتا ـ دروازے کی درز سے جھانکا وہ چہرہ آنکھوں کے گرد گھومنے لگا ـ یقین سا ہو گیا کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے ــ اففف کس قدر محنتی انسان ‘ ایمان دار ــ اللہ بخشے ــ
گھر کے عقبی باغ میں درخت ہوا اور خزان سے آنکھ مچولی کھیلنے لگے تھے ـــ زوردار ہوائیں پتوں کو اغواء کر کے جہاں دل چاہتا وہاں چھوڑ دیتی ‘ بےیارومددگار پتے زمان کی بےقدری کو رونا روتے باغبان کی لمبی جھاڑو سے سمیٹے نہ سیمٹتے ـ میں گھر کے مدر و دیوار کی صفائی میں مصروف کم بخت سفید کھڑکیاں تو ہاتھ لگانے سے میلی ہو جاتیں انھیں صاف کرتے درختوں کی ہیت بدلتے سوچوں میں مگن تھی کہ کھڑکی پار گلی سے گزرتے آقا نداف نظر آئے اپنے کندھوں پہ ندافی کا سامان اٹھائے وہ تو میرے گھر کے طرف آرہے تھے ـ ہائے اللہ میں نے تو اپنی دانست میں نے ان کے لیے فاتحہ بھی پڑھ چکی تھی ـ چلو شکر کہ زندہ ہیں ـ حسبِ توقع دروازے کی گھنٹی بجی اور کاکا نداف کی صدا ابھری ـ دل میں سوچا اب کیا لینے آئے ہوں گے ـ میں نے اوٹ سے جھانکتے ہوئے پوچھا ” کاکا نداف کیسے آنا ہوا ‘ کچھ چاہیے؟ ”
وہ ” بولے نہیں نہیں ” اور اپنے بوجھے سے ایک تھیلا نکال کر مجھے تھما دیا ـ بادامی رنگ کی چارسوتی گھتلی پہ بہت خوبصورت کڑھائی کی گئی تھی ـ ہری بیل پہ نفاست سے ننھے ننھے سرخ گلاب کاڑھے گئے تھے ـ
خوشبو تھیلے سے نکل کر میرے ناک سے ٹکراتی خزانی ہواؤں کے سنگ نجانے کہاں کہاں تک اڑتی گئی ـ میرے نتھنوں سے دماغ تک مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی وادی میں جنگلی جڑی بوٹی کے درمیان تازہ اور شفایاب سانس لے رہی ہوں ـ کاکانداف یہ ہے کیا؟ انھوں نے بوجھا سمیٹتے ہوئے جواب دیا “جنگلی زیرہ ہے بیٹی ! میرے پاس اور کچھ تھا نہیں تمھیں دینے کے لیے تو گاؤں سے یہ زیرہ لایا ہوں خاص تمھارے لیے ”
‘ اور ہاں دوشک کے لیے شکریہ ـ میری بوڑھی ہڈیاں بھی تمھیں دعا دیتی ہیں اور ان پہ منڈھا گوشت بھی ”
میں نے کہا! ” شکریے کی کوئی بات نہیں ـ”
کاکا نداف بولے ‘ ننگی کھردی دری پہ لیٹ لیٹ کے عمر بِتا دی ـ پہلی بار تمھاری وجہ سے محسوس ہوا کپاس پہ سونے کا لطف کیا ہے ؟” میں سوچ میں گم ‘ گنگ ـــ کاکا نداف کب کا سامان سمیٹے جا چکے تھے ـ ـ ـ ـ اور میں دروازے پہ کھڑی تھی ـ
کاکا نداف ــــ کاکا نداف ـــ ان کا تعاقب کرتے محلے کے بچوں کی آوازیں سن کر چونکی ـ گلی میں جھانک کر دیکھا کاکا نداف مسکراتے یوئے اپنی پشت سے سامان اتار رہے تھے ہر کوئی چاہتا تھا کاکا نداف اس کی روئی سب سے پہلے دھنک دے ـ
وہ وقت بیت گیا لمحوں پہ موسمی اوس پڑی گئی مگر وہ کالے جنگلے زیرے سے بھرا تھیلا مہینوں چلتا رہا ـ چار سوتی کی تھیلی کو فریم کر کے میں نے باورچی خانے کی دیوار پہ لٹکا دیا ـ

میں جب بھی سالن بناتے وقت اس میں کا لا جنگلی زیرہ ڈالتی خوشبو سے سارا گھر معطر ہو جاتاـ زیرہ میرے پکوان کی لذت دوبالا کردیتا ـ میری آنکھوں کے سامنے کبھی بوسیدہ ‘ ناکارہ دوشک تو کبھی آقا نداف کا چہرہ گھومنے لگتا ـ جب میں تِل والے نان کے لقمے توڑ کر زیرے والے سالن میں ڈبو کر کھاتی تو میری ہڈیاں بھی نادم ہوتی ہیں اور ان پہ منڈھا گوشت بھی ـ
کہاں میں نرم گرم بستروں پہ سونے والی مگر سنگدل ‘ جو صدقے میں کباڑ دے کر خوش ہوگئی ـ کہاں وہ نداف جو کباڑ لے کر بھی شکر بجا لایا اور بدلے میں زیرہ بطورِ محبت دے گیا ـ
میں نے نئے دوشک میں پولسٹر کی جگہ کپاس ہی بھروائی ـ اگلے سال پھر ندافی کا موسم آیا ـ ایک باریک ‘ بچکانہ آواز ابھری ــــ
” نداف ـــــ”
میں نے کھڑکی سے جھانک کے دیکھا ـ
کاکا نداف اپنے دس سالہ پوتے کے ہمراہ پشت پہ سامان لادے ہماری گلی میں گھوم رہے تھے __

_____________________

تحریر و کور ڈیزائن :ثروت نجیب

Advertisements

4 Comments

  1. اس تحریر میں تو گویا جادو ہے، جنگلی زیرے کی خوشبو ہمارے بےحس وجود کے غرور کی بو پر حاوی ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔

    Liked by 1 person

Comments are closed.