غزل

🌺

زخم تھا، زخم ہی رہا مولا
دِل جو تھا—–آبلہ ہوا مولا

لفظ میرے تری عطا مولا
تجھ سے کیسے کروں گِلہ مولا

کب تلک “کن” کی منتظر ٹھہروں
آج ہوجائے فیصلہ مولا

ہجر ایسا بسا کہ رنج میں ہوں
دل بہت تھک گیا مرا مولا

ہم فقیروں کو نیند سے مطلب؟
راس آیا ہے رتجگا مولا

دیکھ اپنے ہی ہم سےالجھے ہیں
یہ عجب ہے معاملہ مولا

تیری دنیا میں آکے دیکھ لیا
کون کتنا ہے پارسا مولا

کون آئے گا وعظ کرنے کو
کیسے جائے گی یہ ریا مولا

بھِیگی آنکھوں نے سب مِٹاڈالا
میں نے لکھا تھا اک گِلہ مولا

روح تھک سی گئی ہماری یوں
دل ہمارا بدل گیا مولا

وہ جو مجھ میں تھاایک قصہ گو
خامشی سے ہی مرگیا مولا

تِتلیاں بھی کلام کرتی تھیں
جگنوؤں کا تھا آسرا مولا

آنکھ کھولی تو چارسو دیکھا
تیرا جلوہ ہے جابجا مولا

اس کو ڈھونڈا گلی گلی لیکن
جانے کیوں وہ نہیں ملا مولا

شہر کی دھول سے اٹی ہے جبیں
گاؤں کا راستہ دِکھا مولا

________________

شاعرہ:رابعہ بصری

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

3 Comments

  1. آنکھ کھولی تو چارسو دیکھا
    تیرا جلوہ ہے جابجا مولا

    واہ کیا کہنے

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.