اے رب!

الہام کی سرحد کے اُس پار پہنچ کے
بے خودی میں تیرے در پہ سرکار پہنچ کے
جو ڈالی نظر میں نے تیرے پُرشکوہ مکاں پر
کوئی قفل جیسے لگ گیا میری شُستہ زباں پر
نظر ہلنے سے عاری، کان سننے سے قاصر
بِنا جنبش ہوۓ لب تیری عظمت کے ذاکر
اشکبار آنکھ لئے میں یونہی کھڑا تھا
کوئی نور سا میری جانب بےساختہ بڑھا تھا
اُس نور کو میں نے اپنے ہاتھوں میں چھپایا
اُن ہاتھوں کو پھر اپنے سینے سے لگایا
وہ اُس نور کی حدّت تھی یا پھر خواب کی خشیت
کے میں نے خود کو نیند سے پھر اُٹھتا ہوا پایا
یہ خواب تھا, یہ جان کر میں نے دل میں دعا کی
اے رب! مجھے دکھلا دے تُو جھلک اپنے مکاں کی

________________

شاعر:حماد شاہ

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements