ًماں ” مہرباں “

ایک عورت کی زندگی میں ماں بننا اس کی تکمیل کا وہ مرحلہ ھوتا ھے جب وہ اپنی زندگی کے ایک دور کو الوداع کرتے ھوئے ایک اور دور کا در کھولتی ھےـ میں جب پہلی بار ایک ننھے فرشتے کو آغوش میں لینے کے لیے بے تاب ہو رہی تھی تو ڈاکٹر نے انکار کرتے ہوئے بچے کو لپیٹ کر اس کے باپ کے حوالے کر دیاـ مجھے بے حد مایوسی اور افسوس ہوا مگر ڈاکٹر نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے نرس سے کہا دیکھو اس لڑکی کے اتنے لمبے ناخن ہیں تم پہلے اس فیشن پرست لڑکی کے ناخن کاٹو پھر بچہ اس کے حوالے کرنا اور مجھے ٹوکتے ہوے کہا دیکھو برا مت ماننا ‘ بچے کی جلد پھول سے بھی ذیادہ نازک ہوتی جب تک یہ بڑا نہیں ھو جاتا احتیاط کرناـ وہ دن اور آج کا دن میرے ناخن کبھی انگلیوں کی پوروں سے آگے نہیں بڑھے ـ

یہ بھی پڑھیں:بند چمنیاں اور ممی_ ممی کی ڈائری

ہسپتال سے گھر آتے ہی میری سنگھار میز پہ دھری آرائیشی اشیاء کے بجائے کالک گرائپ واٹر بےبی پاؤڈر اور سوڈو کریم نے لے لی جن کو ایک ٹوکری میں قرینے سے رکھا گیا تاکہ بچے کو انتظار نہ کرنا پڑھےـ میرے اندر کی الہڑ بانکی اور لاپروا سی لڑکی کی جگہ ایک حساس اور وسواسی ماں نے لے لی ـ میں بچے کی سردی گرمی سے بچاؤ سے لیکر اسے غسل دیتے وقت پانی کا درجہ حرارت تک بار بار چیک کرتی پھر بھی وہم رہتا ـ انھی دنوں محلے میں ایک واقعہ ہوا ایک نومولود بچہ اپنی ماں کے کروٹ لینے سے دم گھٹنے کے باعث مر گیاـ میں مذید محتاط ہو گئی اور بچے کو کاٹ میں سلانے کے باوجود بار بار رات کو اٹھ کر اس کی سانسیں سنتی ناک پہ انگلی رکھ کر اس کی گرم سانس کو محسوس کرتے ہی میری سانس میں سانس آ جاتی ـ کبھی کبھی مجھے لگتا میں دنیا کی وہمی ماں ہوں ـ میرا بچہ جب گھٹنوں کے بل چلنا شروع ہوا تو حتی لاامکان کوشش کرتی کہ اسکے گھٹنے قالین پہ رگڑ سے دکھ نہ جائیں ـ بار بار ویکیوم کر کے وہ تمام چیزیں اور خوراک کے زرے ہٹا دیتی جن کو وہ منہ میں ڈال کر بیمار پڑ سکتا تھاـ پائے پائے چلنا شروع ہوا تو ہر چیز اس نٹ کھٹ کی پہنچ سے دور کرنے کے جتن کرنے لگی ـ گھر کے برقی آلات دور کر کے ان سوئچوں پـہ ٹیپ لگا دی جو اس کی پہنچ تک تھے ـ شیشے کے گلاس کی جگہ پلاسٹک کے گلاس لے آئی ـ وہ تمام گلدان اور نمائشی اشیاء ہٹا دیں جو ٹوٹ کر میرے شہزادے کو تکلیف دے سکتی تھیں ـ انھی دنوں خاندان میں ایک بچی باتھ روم میں پانی کی بھری بالٹی میں گر کر فوت ہو گئی ـ مجھے محسوس ہوا میری حفاظتی اقدام میں کمی ہے ـ میں نے سبھی دراوزوں کی چٹخیاں لگوائیں ـ باتھ روم میں پانی کی بالٹی ہی ہٹا دی ـ میں مسلسل جدوجہد سے تھک کر جب اپنی ماں کو فون کرتی اور بچے کے حوالے سے اپنی مشکلات کا اظہار کرتی تو وہ میرا حوصلہ بڑھاتے ہوئے مثال دیتیں کہ ایسی مائیں بھی ہیں جن پہ گھر اور جاب کی دہری ذمہ داری ہوتی ہے ـ میری امی کہتیں جانور مائیں بھی بچوں کو سائے کی طرح ساتھ لیے پھرتی ہیں تم تو پھر ایک انسان ہوـ وہ اکثر کہتیں “سونے کی سِل گلے ‘ تو انسان کا بچہ پلے” ـ ان کو لگتا کہ میرا بیٹا بڑا ہو جائے گا تو میری مشکل حل ہو جائے گی مگر ہوا یوں کہ بطور ماں ہر مرحلے پہ اس کی حفاظت کے اقدام بدلتے گئے مگر اسے مستقل دیکھ بھال کی ضرورت رہی ـ تین سال کی عمر میں اُسے سکول داخل کرتے وقت مجھے لگا میں اب آذاد ہو گئی ہوں مگر ایسا ہوا نہیں ہوا ـ انھی دنوں جنسی تشدد کے واقعے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ـ میں جو بچے کی خوراک اور تعلیم کے چکروں میں پریشان رہتی ایک اور ہریشانی سے دوچار ہو گئی ـ میں نے تب تجربات کی بھٹی میں گلتے گلتے یہ سیکھ لیا تھا کہ بچوں کو سائے کی طرح حفاظت کی ضرورت ہوتی ھے تبھی ہم ہر دعا میں اللہ سے مانگتے ہیں کہ اللہ ہمارے سر پہ والدین کا سایا قائم رکھے ـ کیا اللہ نے عورت کو پیغمبری اس لیے نہیں دی کہ وہ عورت اور مرد میں تفریق کرتا ہے ـ نہیں…عورت کے کندھوں پہ تخلیق سے تعمیر تک ذمہ داری کا جو بوجھ لادا گیا وہ پیغمبری سے لے کر ہر فریضے سے ذیادہ اہم ہے ہوتا ہے ـ

یہ بھی پڑھیں:ماں اور معاشرہ

اللہ نے فرض عبادات میں عورت کو رضاعت کے دنوں میں روزوں سے چھوٹ دی ـ نا بالغ بچوں کی موجودگی میں حج سے چھوٹ دی ـ گھر ‘ مدرسہ اور ماحول بچے کی شخصیت پہ اثرانداز ھوتا ہےـ ماں کی گود سے اترتے ہی ماں کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جاتی ہے ـ گود میں رہنے والا بچہ دنیا کو اپنی مرضی سے پرکھنے کی فطری ضد کرتا ہے ـ وہ بچہ جو بستر سے گرنے کے مرحلے سے نکل کر منڈیر سے گرنے کے خدشے میں ماں کو بےچین رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود غفلت کی وجہ سے دل سوز واقعات رونما ھو ہی جاتے ہیں ـ کیا ضروری ھے ہر ماں تجربات سے سیکھے؟ کیا ضروری ھے کہ حادثات ہماری آنکھیں کھولیں ؟ یورپ میں بچہ جب گھٹنوں کے بل چلنا شروع کرتا یے تو کچن کے داخلی دروازے پہ آہنی گیٹ لگا دیا جاتا ہے ـ گیٹ نہ ہونے کی صورت میں والدین کو بھاری جرمانہ بھرنا پڑتا ہے ـ دنیا میں آئے دن خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ سویا بچہ بند گاڑی میں چھوڑ کر ماں یا باپ شاپنگ کرنے جاتے ہیں اور بچہ مردہ ملتا ھے کہیں شادی میں شریک بچی گم ہو جاتی ہے جس کی لاش پانی کی ٹینکی سے ملتی ہے کہیں بچہ منڈیر سے گر کر ہلاک ہو جاتا ہے تو کہیں جنسی تشدد کا شکار ہو جاتا ھے کچھ عرصہ گرما گرم بحث کے بعد سب معمول پہ آ جاتا ہےـ بچوں کے حوالے سے برتنے والی غفلت کو ہمیشہ سے نظرانداز کر دیا جاتا ہےـ اگر ماں بچے کو نہلانے سے پہلے پانی چیک کرتی ہے کہ گرم ہے یا ٹھنڈا وہ ماں اگر مذید نگہداشت اور حفاظتی تدابیر سے آگاہ نہیں تو آگاہی کی ضرورت ہے اگر آگاہ ہے تو لاپروائی کی صورت میں ان کو بھی غفلت برتنے پہ جرمانہ یا ہرجانہ ادا کرنا چاہیےـ جتنا زور حفاظتی ٹیکوں ‘ گھر گھر لیڈی ہیلتھ ورکر،اور پولیو مہم پہ دیا جاتا ہے توگھر گھر آگاہی پروگرام بھی شروع ھو سکتا یے ـ اگر فیملی پلاننگ کے لے میاں بیوی کی آگاہی کے لیے سینٹز کھل سکتے ہیں تو والدین کی تربیت کے لیے کیوں نہیں ـ اولاد پہ صرف والدین کا حق نہیں بلکہ وہ ریاست کا اثاثہ ہوتے ہیں ـ اگر بچے کو ایک تھپڑ جڑ دینے پہ یورپ میں سزا ہوتی ہے تو یہاں کیوں نہیں ؟ کیا یہاں صرف کاغذوں پہ بچے قوم کا مسقبل ہیں؟ پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں میں بچوں کے ساتھ خود رو پودوں کی طرح سلوک برتا جاتا ہے جبکہ انھی ملکوں میں بچوں پہ توجہ دے کر ایک اچھی قوم پیدا کر کے ملک کے حالات سنوارے جا سکتے ہیں ـ بچے معاشرے کے صورت گر ہوتے ہیں ـ اگر کوئی یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں ملک کے موجودہ معاشرے کی مستقبل میں کیا صورت حال ہوگی تو وہ اس معاشرے میں بچوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور ان کی تعلیم و تربیت سے اندازہ لگا سکتے ہیں ـ اس کے لیے صرف والدین ہی نہیں بلکہ تمام پورے خاندان کو آنیوالے فرد کی تربیت سے آگاہ کرنا چاہیے ـ ایسے تربیتی مراکز قائم ہونے چاہیں جہاں ماں کو حمل سے زچگی تک کی تربیت دی جائے اور بچے کی پیدائش کے بعد ماں اور بچے کی گرومنگ ہو ـ ماں اور بچہ دونوں کو جذباتی ‘ و نفسیاتی مسائل سے نپٹنے کے لیے تیار کرنا چاہیے ـ ماں کی سماجی شخصیت کے نکھار کے لیے عورت پہ گھریلو کام کاج کا بوجھ کم کرنے کے لیے مرد کو کام کاج نپٹانے کے لیے کسی مددگار کا بندوبست کرنا چاہیے یا پھر خود مدد کرے ـ
ماں کی عادات اور نفسیات کے علاوہ ڈپریشن بھی بچوں میں منتقل یو جاتا ہے ـ معاشرے میں اصلاح کی ذمہ دار صرف ماں نہیں پورا معاشرہ ہے جس کے تعاون سے ایک عورت اچھی ماں بن سکتی ہے ـ__________

تحریر:ثروت نجیب

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

Advertisements

7 thoughts on “ًماں ” مہرباں “

  1. Mysticaldivine

    Sofia what a beautiful and factual write up here you have
    In the recent light of set minds of Man made society and women not to move from their center I must say we are going to face a major major shift and which is already happening to be honest.The difference is no one wants to realize or see it, kind a ignoring with a fear to face it.You have to dare to step up.

    A search of a female partner who can cook and bring the bread too is kind a new fashion just like drinking water in Goblet is a fashion, So many expectations so how can a woman be a MOTHER …just giving birth is not enough to require this title..

    A whole lot more is in this to be a MOTHER…

    Liked by 1 person

    1. sofialog

      Thanks dear mysticaldivine for your kind words and a little contribute to the matter! Off course there is a lot more to address regarding this particular topic and we,as a team, trying to grab it as much as possible!stay with us please! We really need an audience with a sharp intellect!💖💖💖

      Liked by 1 person

  2. Pingback: لوری،نیند کی پری اور ممی – SofiaLog.Blog

Comments are closed