جب تک۔۔

دھڑکن میں اک سر ہے باقی💖
جب تک روح ہے محو رقص
اور پلکوں کی چلمن پر
روشنی ابھی تک زندہ ہے
سوچ کی بارہ دریؤں میں
بجلی ابھی بھی باقی ہے
رات ڈھلتے سمے سے ہی
پلکوں کی بھاری چلمن پر
زہریلے کانٹے ظاہر ہونگے
نیند بھری آنکھیں ساکن ہوں گی
دل بے چین سمندر بن کے
آنکھوں سے بوچھاڑ کرے گا
ریزہ ریزہ کرکے روح کو
یادوں کی تکرار کرے گا
جب اندھیروں کی چادر میں
گم ہو جاے ہر حقیقت
جب سو جائیں سب رشتے ناطے
اور غفلت میں کھو جائیں گے
زمہ داری فرائض اور ارادے

پھر بے پرواہ تنہائی میں
اک آہ در پہ ٹھہرے گی
اک آگ سی دل میں بھڑکے گی
اک خوف سا من پہ طاری ہو گا
ایسے اک آسیب کی صورت
کہ جس کے موجود ہونے کی
کوئی گواہی بھی نہیں ہے
دل میں جاگیں گے پھر سے
مرادوں کے وہ ادھورے مندر
خستہ حال دیواروں کے سنگ
پجاری بھی نہیں کوی جس کے اندر

___________________

شاعرہ:صوفیہ کاشف

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements