غزل

گردشِ جاں میں رہے چاند ستارے یارو
ہم نے ایسے بھی کئی دور گزارے یارو

ہم نے رکھا ہی نہیں سود و زیاں کا سودا
ہم نے سہنے ہیں محبت میں خسارے یارو

رنج دیتے سمے اتنا تو فقط سوچتے تم
ہم بھی تھے ماں کے بہت زیادہ دلارے یارو

اور ہم ہنس کے سبھی ٹال دیا کرتے تھے
غیب سے ہوتے رہے ہم کواشارے یارو

تم سے بچھڑے توکبھی لوٹ کے دریا نہ گئے
منتظر اب بھی ہیں وہ سارے کنارے یارو

ہِجر کی آنچ کو سہتے تو زمانے گزرے
نقش تو بعد میں کاغذ پہ اتارے یارو

وقت پڑنے پہ کوئی کام نہ آیا اپنے
ہم سمجھتے تھے کہ سائے ہیں ہمارے یارو

ہم نے مرنے کا بھی سامان کیے رکھا ہے
ہجر ایسے کہیں بے موت نہ مارے یارو

رابعہ بصری

________________

فوٹوگرافی:خرم بقا

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.