مارگلہ ہلز میں فطرت کے نظارے

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کردیا

راہِ عشق میں بھی کیا پیچ و خم ہوں گے جو کل کی رہگزر نے ہمیں دِکھلا دیئے۔۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ کل ہمارا فن ڈے تھا ۔ عمر کے اس حصے میں ہمیں تفریح کسی راشن کی صورت ہی میسر آتی ہے یعنی سنڈے کے سنڈے۔۔۔ اس لیئے بچے تو نہ اٹھے ہم بہرحال جوتے موزے پہن کے تیار ہو گئے۔ یہ خاص گیٹ اَپ اس واک کے لیئے تھا جس پہ ہمیں جانا تھا۔ ظالموں نے کہا تھا ساڑھے تین میل کی واک ہوگی ہم ٹہرے ‘نو’ جوان سوچا اُڑتے اُڑتے جائیں گے پہاڑوں میں ، مُنال میں بیٹھ کے لنچ کریں گے اور کروز کرتے ہوئے لوٹ آئیں گے پھر بچے کچے سنڈے کا بھی شرارتی ذہن نے کچھ سوچ رکھا تھا۔۔۔۔ مگر ۔۔۔ جو ہمارے ساتھ درگھٹنا ہوئی اس کی بابت پوچھیں متی!!

ایشین اسٹڈیز گروپ کے زیرِ اہتمام مخنیال کے مقام پہ ایک hiking trail ہے جس کو
Second ridge of Margalla Hills
بھی کہا جاتا ہے، جہاں ہمیں ایک ٹولے کی صورت میں لیجایا گیا۔ جاپانی باغ پہ پہلا پڑاؤ تھا جہاں پہ نصب جاپان کے تحفے میں دیئے گئے جھولے آج بھی اپنی پائداری کی مثال رقم کر رہے ہیں کہ انکا ‘ نام ہی کافی ہے’ دل نے چاہا کہ ہم بھی جھوٹے لے آئیں مگر لوگوں نے روایتی پاکستانی ہونے کا ثبوت نہ دیا اور تقریباً وقت پہ ہی پہنچ گئے۔ سب نے ایک دوسرے سے علیک سلیک کی اور اندازہ ہوا کہ یہ بڑے دلچسپ لوگوں کا گروپ ہے جو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان میں ایک قابل ذکر شخصیت تھے، خالد صاحب ۔ میرا نام پوچھا اور جان کے بڑے خوش ہوئے، میں نے قریب کھڑے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ میرے نام میں یہ والے خالد شامل ہیں۔ انہوں نے چھوٹتے ہی جو سوال کیا وہ پیٹ پکڑ کر دہرا کرنے کے لیئے کافی تھا۔ فرمایا ، آپ کے ازواجی تعلقات کیسے ہیں ؟ خالد بھی سٹپٹا گئے جن کو ہماری ساتھی گڑیا نے ریسکیو کیا اور کہا کہ میں ان دونوں کی قریبی دوست ہوں اور یقین دلاتی ہوں کہ بہت اچھے ہیں تو انہوں نے کمال اخلاص سے یہ بتایا کہ یہ ان ناموں کا ہنر ہے جو انسانوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔

مخنیال کے گاؤں پہ پہنچ کر ہم نے اپنے حوصلے کو مزید پختہ کیا اور پیّاں پیّاں چھیّاں چھیّاں چل پڑے۔۔۔ اب چونکہ ہمارے گروپ میں زیادہ تر ہائکرز ، فوجی ، پروفیسرز ، پینٹرز اور شوقیہ حضرات تھے سب اپنی اپنی پیس پہ چلتے ہوئے آگے نکل گئے اور ہمیں ہمارا سیلفی کا شوق لے ڈوبا جو ہر خوبصورت نظارے ۔۔۔ درختوں کے درمیان سےچھنتی ہوئی روشنی۔۔۔۔ خشنما پودوں۔۔ اور رنگین تتلیوں کو دیکھ کے مچل جایا کرتاہے۔۔۔کتنے ہی دلربا لمحے صحیح اینگل نہ ملنے پہ رائیگاں گئے۔۔۔ اور سنسان جنگل میں کھو جانے کا ڈر ہمیں چلنے پہ مجبور کرتا رہا۔
ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس رہگزر پہ ایک ایسا بھی مقام ہے جہاں سے خانپور ڈیم اور راول جھیل کا بیک وقت نظارہ کیا جا سکتا ہے، ہم چل چل کے خچر ہوگئے ،آنکھیں پتھرا گئیں ، دل ڈوب گیا مگر وہ مقام تھا کہ سراب تھا۔۔۔ مل کے نہ دیا ۔ منیر نیازی یاد آگئے۔۔

یہ اجنبی سی منزلیں یہ رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

یہ دنیا کہ وہ ساڑھے تین میل تھے جو پورے ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔ ہم نے بھی کیونکہ ٹھان رکھی تھی اس لیئے روتے پیٹتے چلتے چلے گئے جس سے مراد ہمارا بے سرا ترنم بھی ہے۔۔۔
راستے میں ایک چشمہ آیا جہاں سے ٹھنڈا پانی پیا اور چند لمحوں کے لیئے سستائے بھی ۔۔ ایک کرنل بھائی نے ہمیں اپنی واکنگ اسٹک آفر کی جو ہم نے اپنے ‘ینگ لُک’ کا بھرم رکھنے کے لیئے مسترد کردی اور باقی سارے رستے آنکھیں اس لکڑی کو ڈھونڈتے گزریں جو ہماری مدد کر پاتی۔۔۔
یوں اللہ اللہ کرکے وہ موڑ کہانی میں اس ٹوئسٹ کی طرح آیا جب ہمیں اسکی کوئی تمنا نہ رہی تھی۔۔۔۔ دیکھا تو سامنے ایک مسحور کن سا نظارہ تھا جس کو اچانک آئے بادلوں نے اور بھی پر کشش بنا دیا تھا۔ منہ سے سبحان اللہ صدقِ دل سے ادا ہوا۔۔۔ ابھی ہم دل ونظر میں اسے قید کر ہی رہے تھے کہ کسی نےآواز لگا کے بتایا کہ ابھی آدھا راستہ ہوا ہے فوراً ہی مَنوں پانی پڑ گیا اور دوسرا فقرا جو ادا ہوا وہ ہائے اللہ تھا جو کہ از خود ہی ودر بنتا جا رہا تھا۔۔۔
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے

مرتے کیا نہ کرتے پھر چل پڑے۔ بھیڑ چال کیا ہوتی ہے اس کا مطلب کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا تھا۔
جس چیز نے ان دُکھتے اوسان کی مسیحائی کی وہ اونچے اونچے قد آور صنوبر کے درختوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی ہوا کی جھرنوں جیسی آواز تھی ۔
ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پریوں کا ایک طائفہ کہیں بیٹھا جلترنگ بجا رہا ہے اور جا بجا رنگ برنگی تتلیاں محوِ رقص ہیں ۔۔۔
زاہد نے میرا حاصلِ ایماں نہیں دیکھا
رخ پہ تیری زلف کو پریشاں نہیں دیکھا
سکون ایسا تھا کہ دل کے دھڑکنے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی جس نے دھیرے دھیرے خیالات کے شور کو بھی باہر کے سکوت کیساتھ ہم آہنگ کر دیا تھا۔۔۔ سادھو سنت کس امن کی کھوج میں جنگلوں کا رخ کیا کرتے ہیں خوب آشکار ہو رہا تھا۔

یہی وہ مقام تھا جب بہزاد لکھنوی کی وہ غزل اپنے آپ گنگنائی کہ
اے رہبرِ کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

ہمارا گروپ ہم سے پچیس منٹ پہلے پہنچ کے سستا چکا تھا۔۔۔۔ اور ہمارا منتظر تھا۔ اپنے ساتھ جو اسنیکس لے کے گیا تھا وہ بھی کھا چکا تھا۔۔۔ پھر بھی بہت محبت سے پھل ، بھنے چنے، چپس اور کنڈیز پیش کیں۔۔۔ وہاں مجھے نئے دوست خالد صاحب نے مشورہ دیا کہ مجھے روٹی ترک کردینی چاہیے اور دودھ پینا چاہیئے۔۔۔ جو میں نے مسکرا مسکرا کے قبول کیا ۔۔۔ واپسی کا سفر جانے سے بڑھ کے تکلیف دہ تھا مگر ہماری ہمت بندھانے کے لیئے گڑیا ساتھ تھیں جو جوان مردی سے سب سے آگے چلیں اور رک رک کے ہمیں آوازیں دیتی رہیں ۔۔۔ ہمارے والے خالد یہی کہتے رہے سوری ڈارلنگ آئندہ نہیں لاؤں گا اور پورا راستہ سفری سامان اٹھائے ہمت بندھاتے رہے۔۔ اور ہم خراماں خراماں مست سی چال چلتے عصا موسی جیسی لکڑی کا سہارا لیئے گامزن وہی دھن گنگناتے گئے۔۔۔۔
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر۔۔۔ آہستہ آہستہ۔۔

________________

تحریر: فرحین خالد

فوٹوگرافی:سم خان

Advertisements