“بیاہتا بیٹیوں کے دکھ”

ہتھیلی پہ وہ مہندی سے چھاپتی ہیں محبت کو رنگ چڑھے اگر چوکھا ‘ خوشی سے لوبان ہوتی ہیں ـــــ جو پھیکا پڑ جائے کبھی کاجل ‘ گھل گھل کے اشکوں سے چھپا لیتی ہیں آنچل میں’ بتاتی ہی نہیں آخر ! دکھ کیا ہے ان آنکھوں میں ؟ ہزار پوچھو مگر چپ ‘ مقفل […]

Read More…