” ماں اور معاشرہ”

میرے انکل کو پرندے بہت پسند ہیں ـ اپنی شوق کی تکمیل کے لیے انھوں نے گھر میں قسم قسم کے پرندے پال رکھے تھے ـان کا گھر وسیع اراضی پہ پھیلا ہوا جس کے ایک حصے میں ان کے گھر کی عمارت تھی جس کے ساتھ ملحق ایک چکور باغ جس پہ سبز گھاس کا فرش بچھا ہوتا اس کے اطراف میں کیاریاں جن میں موسمی پھولوں والے بےشمار پودوں کے علاوہ میوے دار درخت جن کی شاخوں پہ ننھی ننھی رنگیں چڑیوں کے سیم والے پنجرے لٹکتے اور باغ کے وسط میں نیلی کاشی سے مزین حوض کے تازہ شفاف پانی سے شڑاپ شڑاپ کرتی رنگین مرغابیاں اور سفید بطخیں اشنان کرتی بھیگتی حوض سے باہر نکتی اور داخل ہوتی ‘ باغ میں ٹہلتے سبز گردن والے مور’ کیاری میں رکھے لکڑی کے پنجرے جن میں چکور ‘ مشکی تیتر’ بٹیر اپنی مخصوص بولیاں بولتے ہوئے ‘ انوکھی کلغی والے مرغے اور موٹی موٹی مرغیاں جن کے پاؤں کے پر جھالر کی طرح ان کے پیروں سے لپٹے ہوئے اور دیسی بدیسی رنگین طوطے ـ بڑے پرندوں کے لیے باغ کے پچھلےحصے میں بڑے پنجرے رکھے گئے تھے مگر ان سب پرندوں میں سفید سرمئی لمبی لمبی ٹانگوں والی کونجیں جس کی موٹی چونچیں ان کو باقی پرندوں سے منفرد کرتیں مجھے بہت پسند تھی ـ خاموش چپ چاپ کسی درویش کی طرح اپنی دنیا میں مگن اپنی چونچ اپنے پروں میں دبائے کسی گہری سوچ میں گم ـ ہم جب انکل کے گھر جاتے تو میں ہاتھ میں دانہ لیے ان کے پاس جاتی ـ انہیں دانہ ڈالتے انھیں اپنے قریب دیکھ کر عجیب سی مسرت کا احساس ہوتا ـ

یہ بھی پڑھیں: میرے خواب ا، ممی کی ڈائری

گرمیوں کی چھٹیوں میں ان کے گھر جانا ہم بچوں کے لیے کسی تفریح گاہ سے کم نہ ہوتا ـ ایک بار ہم ان کے گھر گئے تو باغ کی گھاس بہت بڑھ چکی تھی درختوں کی شاخیں بے ہنگم بڑھی ہوئی ‘ لٹکتی ہوئی بیلیں اور درختوں سے سےلٹکے چڑیوں کے پرندے جو کہ اب برآمدے میں منتقل ہوگئے تھے ـ ہم سب بچے باغ کی ایک طرف کھیلنے لگے مجھے چھپاکے مارتی مرغابیاں بھی نظر آئیں اور درختوں میں چھپے مور بھی مگر کونجیں کہیں دیکھائی نہیں دیں میں اس تجسس میں ان پیاری کونجوں کو دیکھنے کے لیے کھیل چھوڑ کے ان کے پنجرے کی جانب بڑھی میں جوں ہی ان کے پنجرے کے قریب گئی وہ کونجیں ایک خونخوار جنگلی درندے کی طرح اپنے دونوں پر پھیلائے مجھ پہ جھپٹ پڑیں میں چیختی چلاتی باغ سے بھاگی باقی بچوں کو دیکھ کر ان کی آنکھیں مذید پھیل گئیں اور وہ منہ سے عجیب آوازیں نکالتی پر پھیلائے ہمیں مارنے کو دوڑتی پیچھے پیچھے آنے لگیں ـ میرے دل کی دھڑکنیں تیز اور خوف سے سارا جسم پسینے سے شرابور یو چکا تھا سب بچے چیخ چلا کر برآمدے کی جانب دوڑ رہے تھے ہماری چیخوں کی آواز سن کی گھر کے بڑے باہر نکل آئے تب تک کونجیں ہمیں باغ سے باہر نکال کر واپس پلٹ رہی تھیں ـ میں امی ابو کے ساتھ ڈرائنگ میں بیٹھ گئی تو انکل بتانے لگے کہ کچھ عرصہ پہلے کونج نے انڈے دیے اب ان میں سے بچے نکل آئے ہیں تب سے کونج اس باغ میں کسی کو قدم تک نہیں رکھنے دیتی ـ مالی ایک دن درانتی لیے باغ میں کام کرنے گیا تو اس کو چونچیں مار مار کے لہولہان کر دیا ـ اب جب تک ان کے بچے بڑے نہیں ہو جاتے باغ کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں ـ وہ واقعہ میرے ذہن پہ نقش کر گیا اور غیر ارادی طور پہ مجھے کونجوں سے ڈر لگنے لگا ـ اسی طرح ہمارے محلے کی ایک خاتون کے گھر کٹ کھنی مرغی کی دہشت بھی مشہور ہو گئی اچانک وہ ایک عام سی مرغی سے جنگلی بن گئی جو آدم ذات کو دیکھتے ہی اس پہ وار کرنے کو دوڑ پڑتی ـ ایک بار بچپن میں بلی کا بلونگڑا بارش میں بھیگتے سکڑا سمٹا ہمیں گلی سے ملا اور ہم اسے گھر اٹھا کے گھر لے آئے وہ گود میں کھیلتی پاؤں سے لپٹتی سارا دن نرم گرم بستروں پہ لوٹتی ہمارے آس پاس رہتی ‘ اچانک جان لیوا بن گئی اور اس کے قریب جانے لا سوچتے تو پنجوں سے بلیڈ نما ناخن نکالے مارنے کے لیے جھپٹتی ـ اور وہ قمری میری شادی کے بعد جس نے میرے نئے گھر کی بالکنی میں گھونسلہ بنا دیا رات کے وقت تیز گھن گرج کے ساتھ بہار کی موسلا دھار بارش میں وہ بغیر سائبان کے مکمل بھیگ چکی تھی مگر گھونسلے پہ براجمان رہی رات کے پچھلے پہر جب کواڑ ھواؤں سے بجنے لگے تو میں کھڑکیاں دروازے بند کرنے کے لیے اٹھی مجھے وہ سکڑی سمٹی قمری دیکھائی دی ـ میں نے اپنے شوہر سے کہا یہ ٹھنڈ سے مر جائے گی ‘ اٹھیں ! اس کے لیے کچھ کریں ـ پھر ہم نے ایک چنگیر میں پرانا تولیہ رکھا اور اس کے بیٹنے کے لیے جگہ بنا لی مگر یہ ڈر کہ اب اگر ہم گھونسلے کی جانب ہاتھ بڑھاتے تو قوی امکان تھا قمری اڑ جاتی مگر چارو نا چار میرے شوہر نے ہاتھ بڑھا کر گھونسلہ بالکنی کی دیوار سے نیچے اتارا مگر وہ ہمارے گمان کے سے ذیادہ بہادر نکلی اپنے گھونسلے سے ٹس سے مس نہ ہوئی البتہ خوف سے اس کے دل کی رفتار اتنی بڑھی چکی تھی کہ اس کا سینہ لرز رہا تھا وہ جنگلی قمری گھونسلے سمیت اس چنگیر میں منتقل ہوئی اور بالکنی میں سائبان کے نیچے رکھتے وقت تک اپنے انڈوں سے نہ ہٹی صبح میں نے اسے چہکتے دیکھا اور کچھ یفتے بعد اس کے بچوں کو ہوا میں اڑتے ـــ ان سب میں ایک بات مشترک تھی وہ سب مائیں تھیں ـ شادی سے پہلے سکڑی سمٹی ‘ کاکروچ سے ڈرنے والی ‘ اندھیرے سے خوف ذدہ ‘ بادل کی گھن گرج سن کے ماں سے چپکنے والی لڑکی ابتدائی دنوں میں سسرال میں ایسے ہی ڈری سہمی رہتی ہے مگر جب ماں بنتی ہے تو بےزبان بہو کے منہ میں بھی زبان آ جاتی ہے سسرال والے سمجھتے ہیں کہ ماں بننے کا زعم ہے گھر میں قدم جمنے کی دیر تھی کہ یہ بھی جواب دینے لگی ـ کسی نے سوچا آخر یہ اچانک تبدیلی کیسے آتی ہے ؟ آخر اس کا جواب مجھے میری تین سالہ بیٹی نے دیاـ جب وہ اپنی گڑیا سے کھیلتے وقت ان بےجان پلاسٹک کو پتلوں کے دکھ درد کو محسوس کرتی ہے ـ سردی میں ان کو لپیٹ کے رکھتی ہے اور گرمی میں ان پہ پنکھا جھلتی ہے اپنی پلیٹ سے کھانا نکال کر ان کے لیے رکھتی ہے ان سے باتیں کرتی ہے ـ
جب اس کا بھائی بے نیازی سے ٹھوکر مار کے گڑیا کو اس کے تخت سے گرا دیتا ہے تو وہ روتی ہے کہ میری گڑیا کو چوٹ لگی ہے کہتی ہے ” کہتی ہے مما میری گڑیا کو تفلیک ہو رہی ہے ” تو بھائی ہنستا ہے کہ یہ تو نان لیونگ تھنگ ہے ‘ بےجان ہے اسے تکلیف کیسے ہو سکتی ہے ـ وہ اور روتی ہے کہ” مما اس نے میری گڑیا کو بےجان کہہ دیا ” ـ کسی نے سچ ہی کہا ماں نو ماہ اولاد کو کوکھ میں رکھتی ہے اور باقی ساری عمر اپنے دل میں ـ پرندوں اور جانوروں کا سسرال نہیں ہوتا نہ کمبائن فیملی اور نہ ہی ان کے شوہر نامدار یہ حق جتاتے ہوں گے کہ بچے ہمارے ہیں تم صرف حق رضاعت تک محدود تھیں ـ ماں کی زندگی اس کے شوق اور اس کے سبھی مشاغل بچوں کی پیدائش کے بعد متروک ہو جاتے ہیں ـ اس کی جسمانی ساخت اور تازگی پہلے کی سی نہیں رہتی مگر اس کے باوجود وہ جن کی نسل کو پروان چڑھا رہی ہوتی ہے وہی تعاون کرنے کے بجائے اکثر اسے کے مدِ مقابل اس کے لیے نئی نئی چنوتیاں لے کر آ جاتے ہیں اور ماں ساری زندگی بچوں کے سامنے بری بنی ان کی تربیت کی ذمہ داری اٹھاتی ہمہ وقت ان کے غم میں گھلی جاتی ہے ـ ماں کو خراجِ تحسین دینے کی ذمہ داری صرف بچوں کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ہے ـ اس کی ریاست کی ہے ‘ ہر اس شخص کی ہے جو سمجھتا ہے کہ بچوں سے اس کی قوم کا مستقبل وابستہ ہے ـ اس مرد کی ہے ‘ جس کے بچے وہ اپنی بے لوث محبت سے پالتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بچے آخر باپ کی ملکیت ہی کہلاتے ہیں ـ نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا ” تم مجھے اچھی مائیں دو میں تم کو اچھی قوم دوں گا ” ـ میں سمجھتی ہوں آپ ماں کو پرسکون ماحول’ بچوں کی بہبود کے لیے مشاورت کا حق اور محبت دیں وہ آپ کو ناصرف ایک اچھی نسل دیں گی بلکہ آپ کا مثبت رویہ ایک متوازن معاشرے کی بنیاد بھی رکھے گا ـ

_________________

تحریر:ثروت نجیب

Advertisements