غزل

کہتے ہیں جو ہوتا ہے بھلے کیلۓ ہوتا ہے
پھر یہ قتل و غارت کاہے کیلئے ہوتا ہے
بات تو تب ہے جب تُو کچھ کر کے دکھا
صرف تیرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے
خوش رہیے ابھی تو زندگی باقی ہے جناب
چند لوگوں کے چلے جانے سے کیا ہوتا ہے
سوچتا ہوں

سارے خط جلا دوں اسکے

صرف اپنا دل جلانے سے کیا ہوتا ہے
عداوت ہی ہے دل میں تو خنجر گھونپ دے
ہر بار کانٹا چبھانے سے کیا ہوتا ہے
ایسا کرو تم بھی بن جاؤ رقیب
اب بھلا دوستی نبھانے سے کیا ہوتا ہے
مارنا ہی ہے تو ذہنوں کا قتل کرو
صرف گردنیں اڑانے سے کیا ہوتا ہے

_________________

حمّاد شاہ
Advertisements

2 Comments

Comments are closed.