من موہن کرمکر کی بیٹی کا دکھ

ٹائیم اسکوائر پر رات کے ٹھیک بارہ بجے کا وقت،بئیر بلو لیبل،جانی واکر،ٹکیلا،شیمپیئن،شی واز ریگل شراب اور فرانسیسی پرفیومز کی خوشبوء میں بسا اور پوری طرح رچا ہوا مہکے ہوے ہیپی نیو ائیر کے ہزاروں نعرے مئن ہیٹن کی ہائی اسکریپر بلڈنگ کی بلندیوں سے ٹکراتے ہوئے

سارے میں زمین کی طرف آکر گلابی مٹھیوں میں سماگئے تھے

اور تمام رات امریکہ کے بار کسینو شراب خانے من چلوں کے قہقہوں سے چہکتے ہوئے گونجتے رہے تھے

مغرب کی پہاڑیوں پر برف باری کا سلسلہ جاری رہا اور جھرنے خنک ہوائوں کے تھپیڑوں سے ٹکراکر گہرائی کی اور گرنے سے پہلے برف کے ننھے ننھے گولوں کی شکل اختیار کرکے کسی بڑے ڈھیر میں بدلتے جارہے تھے

ہرن نیو جرسی کے جنگلات پر پیچ راستوں پر بچھے سوکھے پتوں پر پھلانگتے ہوئے قلانچیں بھرتے ہوئے جارہے تھے_

یہ بھی پڑھیں:دیوانے

اور ایک ائٹم موجود روح پرنسٹن یونیورسٹی کی قدیم گلیوں میں مغرب کے روح کھینچ دینے والے رویوں پر ندامت کے کے آنسو پیتے ہوئے بڑبڑاتا ہی رہا تھا

باون ستاروں والے سرکس کے مالک نے اکتاکرعرب شیر کو اس سا ل کے آخر میں عید الاضحی’ کا تحفہ بناکر اپنوں کی طرف روانہ کردیا تھا

اور اس نے اکتیس دسمبر کی شام کو کال کوٹھڑی میں سسکتے ہوئے قلم کی سیاہی میں حالات کے زخموں کو ڈبوکر اپنے گھر والوں کو ایک خط لکھا تھا

اسی طرح جس طرح وہ اپنے محفوظ گھر کے کمرے میں اپنی رائٹنگ ٹیبل کے پاس بیٹھ کر لکھتا تھا

اس نے خط لفافے بند کرنے کے بعد

کھانا کھاکر عبادت کی اور پھر سرد دیوار کو ٹیک لگاکر بیٹھ گیا

اور پھر سوچتا رہا اپنے وطن کے خشک پہاڑوں کی شکلوں کو اور کرتا رہا تصور میں ان پر رنگریزی اور چٹسالی،مالی سے چھپ چھپاکر باغ کا پھل توڑکر کھانا بھی تو کبھی مشغلہ تھا

جن دنوں اس نے باپ کو کھیتوں میں بیج بوتے دیکھا تھا اور ہل چلاتے ہوئے

اور اس نے درخت پر بیٹھے الو کو نشانہ کھینچ مارا تھا

الو فراٹے سے اڑگیا تھا

اور وہ الو کے ڈرکر اڑجانے پر کتنہ دیر تک زمین پر بیٹھا ہنستا رہا تھا

بچپن بھی کیا خوب تھا

اور پھر تصور میں پہنچ گیا اپنے ماضی کے در پر جہاں ایک زندگی سے بھرپور منظر اس کا منتظر تھا

کیسے ماں اسے زبردستی پکڑ کر نہلاتی تھی

نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہناکر کندھوں پر اسکول کا بستہ پہنائے

پیشانی پر شفقت کا بوسہ لیکر وہ کھلے صحن سے نکلتے ہوئے کلانچیں بھرتا ہوا گلی کے نکڑ سے پرے نکل جاتا تھا_

یہ بھی پڑھیں:شجر بے سایہ

اس مختصر سی کال کوٹھڑی کے ٹھنڈ سے سرد ہوتے فرش پر چادر سے خود کو ڈھانپے وہ کس قدر منہمک تھا اس خیال سے ہی جو جان پر پڑے عذابوں کو لمحوں کے لئے دھودیا کرتا تھا کس قدر لطف تھا ماضی کو سوچتے ہوئے

تم قاتل ہو

اس نے یکلخت ہی خریدے گئے جج کی آواز سنی

ملک کا صدر بنتے ہی تم نے شک کی بنیاد پر کتنے غلط فیصلے کردئے

کتنوں کو تختہ دار چڑھادیا

تم نے اپنے پڑوسی ملکوں پر حملہ کروائے

اور قبضے کی زمینوں پر یرغمالی کی

تیرے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں

اور تم نے جڑی ہوئی قوموں کی کائونسل کے بنائے گئے اصولوں کو جھٹلایا”

وہ اپنی کال کوٹھڑی میں بند خود پر لگے ہوئے الزاموں کو سوچتے ہوئے مسکرایا تو صدیوں کی تاریخ مسکرادی

اور اس نے لمحے بھر کو سوچا کہ اقتدار کی بنیاد ہی شک کی زمین پر رکھی جاتی ہے

تو میں اگر جو قاتل ہوں

تو مجھ سے کہیں بڑے قاتل تو میری دھرتی پر نظر رکھنے والے

نہ فقط نظر رکھنے ،بلکہ قبضہ کرنے والے بڑے قاتل ہیں

تو مجھے اب پتھر وہ مارے

جس نے خود یہ گناہ نہ کیا ہو

اور اس جملے کے بعد ایک گہرا سکون سرایت کیا تو نیند نے اسے اپنی گہرائی میں لے لئیا

☆☆☆

اور اسی رات اس نے خود کو اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا

وہ سارے جو ایک رنگین تتلی کو پکڑنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے

وہ جیسے ہی تتلی کے پروں کو تھامنے کی کوشش کرتے تتلی بھڑکتی ہوئی فراٹا بھرتی نکل جاتی

وہ اس کھیل میں سب سے پیش پیش اور آگے تھا

پھر اس نے یوں دیکھا کہ تتلی پکڑنے کی خواہش میں کلانچیں بھرتے ہوئے اس کے بازو ہوا میں بلند ہوگئے ہیں اور وہ تتلی کے پیچھے پیچھے چھوٹی اڑان اڑتے ہوئے بلند ہوتے ہوئے یکسر ایک خوبصورت رنگین تتلی میں ہی بدل گیا تھا

اور سارے ساتھی اسے جھپٹنے کو بے قرار تھے اسی کشمکش میں وہ کسی دوست کے ہاتھ لگ گیا

اور سارے دوست اسے ایک حیرت بھری پر شوق نگاہوں سے دیکھتے گئے

وہ سب کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر بے رنگ ہوکر رہ گیا تھا

اس کے سارے رنگ اس کے ساتھیوں کی انگلیوں پر رہ گئے

جس کو تجسس کے ساتھ لیکر ہر کوئی اپنے اپنے گھر کی طرف نکل گیا تھا

وہ اس عجیب قسم کے سحر انگیز خواب سے جاگ اٹھا تھا

اور ادھ جاگے ذہن سے توجہ کی تو اس ملک کے عربئ میدان سے رباب پر بجتی ہوئی دھن کے ساتھ عربی گانے کے بول گونج گونج کر اس تک بھی پہنچتے رہے

اے صبح کی ہوا

آہستہ آہستہ گھل

اور پھر جا

میرے محبوب کو سلام کہنا

اے صبح کی ہوا

نغمے کی مدھر آواز کو لوری سمجھ کر وہ دوبارہ نیند کی گہرائی میں ڈوبنے لگا تھا

فجر کو اسے نیند سے بیدار کیا گیا

وہ نہا دھوکر تیار ہوا

تیار ہوتے ہوئے اس نے خود ایک معصوم سا بچہ تصور کیا

اور ماں اسے عید کے لئے نیا لباس پہنارہی ہے

اور وہی ماں کے بوسے کے لمس لازوال لمس کے احساس نے اس کو ایک ڈھارس بندھائی

وہ بے نقش چہروں کے گھیرے میں امید کی صبح کو روندتا ہوا پھانسی گھاٹ کی جانب چل رہا تھا

اور اس کے ہر اٹھتے ہوئے قدم میں ایک عجب قسم کی بے نیازی تھی

اس کی ہشمت کے انداز دیکھ کر ساتھ چلتے ہوئوں کے بے نقش چہرے اپنے تاثر کھونے لگے تھے

وہ جو اک خوشی تمام رات رہی تھی کہ مخالف کو پھانسی پر شکستہ دیکھ کر قرار آئے گا سو کافور ہوتی محسوس ہوئی اور اپنے اندر غصے اور چڑچڑاہٹ کو محسوس کرنے لگے

اور وہ ان سب کے خیالوں سے بے پرواہ بس چلتا ہی جارہا تھا

اور جب تختہ دار پر کھڑے ہوکر اسے نقاب پہنایا جانے لگا تھا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ موت کو بے نقاب دیکھنا چاہتا ہے

اور اس کے بعد وحشی جلاد زرا کھسکے تو وہی نقاب اس کے گلے کا اسکارف بن گیا تھا

اور پھانسی کے پھندے کو تنگ کیا گیا

تب بھی کسی قدر پرسکون احساس اس کے چہرے پر رہاجس کے اندر بے بسی اور شکست خوردہ احساس دیکھنے کے متلاشی حسرت ناکام کی طرح چپ رہ گئے

تختہ دار کھینچا گیا اور رسا کشی کی موت نے اسے لٹکادیا باوجود اس کے وحشیوں کی آگ سرد نہ ہوئی تو اخلاق کی تمام حدیں پھلانگتے ہوئے زندگی کو مردنی میں بدلنے کے بعد بھی پھٹکار کی کسر چھوڑی اور اپنے تئیں انہوں نے گناہ کو دھویا تھا

جبکہ نیا سال اس گناہ گار کی مردہ لاش پر رحمت کی طرح چھاگیا کہ اس چہرے پر سکون کا احساس جانے کیوں تادیر دکھائی دیا تھا

کہیں پرے صوفیوں کی سرزمین پر ماتمی لباس پہنے ہوئے بوڑھے فقیر نے تار چھیڑنے کی خاطر طنبورے کے سینے پر ہتھی مارکر ایک سازندے کو چھیڑا تو ساز بج اٹھے اور کائنات لمبی سانس چھوڑکر یکلخت مدھم ہوگئی۔

تو دوسرے دیس جلاد نے تختہ دار ہٹادیا

بغداد کے کسی گائوں میں تسبیح پڑھتے ہاتھوں میں عجب لرزش پیدا ہوئی تسبیح ٹوٹ گئی

دانہ دانہ منتشر آوازوں کے ہنکارے بھرتا ہوا بکھرگیا۔

جمائیوں میں جھولتے ہوئے باون ستاروں کے سرکس کے مالک کو جگاکہ بڈھے شیر کی پھانسی کی اطلاع دی گئی

تو وہ کسی گہری چپ میں آگیا اور ہر امید نے تھکن اوڑھ لی نیند جیسے اسی کی تلاش میں تھی

نیا سورج زرد شعائوں سے ابھرنے لگا

خون کی سرخی سے میلا ہوکر۔۔۔چندھیاگیا

اور سرزمین پر سب کچھ عام سا تھا

نماز عید کے بعد مسلمین نے قصائیوں کی راہ دیکھی

چھریاں تیکھی کی گئیں

حضرت ابراہیم کی روایت کو سر آنکھوں پر کئے ہر سال کی طرح گلی گلی سرخ خون کے دھبوں اور چھیتڑوں سے بھرگئی

گھروں میں گوشت اور ہڈیاں کی تقسیم جاری رہی

موبائل فون پر عید کی مبارک بادیں بھی اسی طرح اور ملنے ملانے کا سلسلہ بھی برابر رہا

اور ان سب ترجیحات سے کٹی ہوئی کولکتہ کی بستی میں من موہن کرمکر کی پندرہ سالہ سجیلی بانوری معصوم سی بیٹی ٹی وی پر نشر ہوتے خبرنامے میں سابقہ صدر کی پھانسی کا منظر دیکھتے ہوئے ذہنی دبائو کا شکار ہوتی گئی

انہوں نے ایک محب وطن کو پھانسی چڑھادیا

میں اس درد کو محسوس کرنا چاہتی ہوں

کرسکتی ہوں

کرررہی ہوں

اور اس درد کے اندر پستے ہوئے اس نے پنکھے میں رسا باندھ کر خود کشی کردی

اس روز کی ہولناک خبر کے بعد مجھے علم ہوا کہ درد نہ ہندو ہوتا ہے اور نہ مسلم نہ عیسائی

درد کا کوئی ایک مذہب نہیں ہوتا

درد تو بس آنسو ہوتا ہے

جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا

سفید نہ سرخ

آنکھ سے نکلتا ہے

اور کئی حسرتوں میں مدفن ہوکے کبھی ہمارے خون کی آکسیجن میں گھل کر دوڑنے لگتا ہے

تو میں اپنی اس کہانی کے تمام دکھ

اور آنسو

کولکتہ کی بستی میں رہنے والے من موہن کرمکر کی بیٹی کے نام کرتا ہوں

اور تمام تسبیحات کے قل 2007ع کی صبح کے نام کردیتا ہے
ختم شد

__________________

مصنف طارق عالم ابڑو

مترجم سدرت المنتہی’

Advertisements