سلسلہ

تجھ سے ہے میرا سلسلہ کیا

گزرے لمحوں کی یاد مں….اک سہمی ہوی آہ

کسی ٹوٹے سپنے کوپھر سے جوڑنے کی چاہ!

پچھلی گلیوں میں کھلتے دریچوں سے جھانکنے کی عادت

یا لہو میں سانسوں کے ساتھ بہتی اک وفا!

دور اندھیروں میں کوی مدھم سا عکس

تکتی ہوئی راہگزر

کوی بچھڑی ہوی سزا !

برستی بوندوں تلے آنگن مں اک ٹوٹا کوزہ.

قطرہ قطرہ کو ترستی پیاس

. آسماں کی اوڑھ اٹھی ہوی نگاہ!

اک بنت میں الجھا ہوا نمونہ……راہ میں لرزتا ہوا دیا!

قدموں کی مسافتوں سے نابلد.

زمیں کے اصولوں سے نہ آگاہ

تجھ سے ہے میرا سلسلہ کیا!

پلکوں سے گرا اک آنسو……یاگمشدہ گھٹا !

تجھ سے میرا سلسلہ..

– -_____________

شاعرہ و کور فوٹو: صوفیہ کاشف

Advertisements