خاطرہ

از ثروت نجیب
“خاطرہ”

“امی! آپ کیوں برتن دھو رہی ہیں ؟ خاطرہ نے پھر دیر کر دی نا! ”
“آ جائے گی ”
بیگم خالدہ نے سینک کے ساتھ لٹکے سفید تولیے سے ہاتھ پونچھتے ہوئے ثمرین کو جواب دیا ـ
ثمرین فریج سے سلاد کا باؤل نکال کر چکور کٹی کچی گاجریں چن چن کر کھاتے ہوئے بولی!
” ایک تو آپ نے اسے اتنا سر پہ چڑھا رکھا ہے ـ نوکرانی ہے’ نوکرانی کی طرح کبھی برتاؤ کیا ہی نہیں ! تبھی تو مرضی کی مالک بن گئی ”
بیگم خالدہ نے سر پہ ہاتھ رکھ کر جھنجھلاتے ہوئے کہا
“کل دو گھنٹے کی چھٹی مانگ کر گئی تھی ”
“آں ہاں ” کہہ کر ثمرین سلاد کا پیالہ اٹھائے پاؤں پٹختی باوچی خانے سے باہر نکل گئی ـ
ثمرین چار بھائیوں کی اکلوتی لاڈلی اور بیگم خالدہ کی سب سے چھوٹی اولاد تھی ـ مظہر شاہ کی دلی خواہش تھی کہ ان کے گھر ایک ننھی پری اپنے پر پسارے اور گھر کا آنگن ننھی ننھی چوڑیوں کی چھنکار سے جھوم اٹھے ـ جب گندمی رنگت ‘ گول مٹول چہرہ تھوڑی پہ چُگ ‘نسواری آنکھوں والی نمکین سی گڑیا ان کے خاندان کا حصہ بنی تو ان کی خوشی کی انتہا نہ تھی ـ بےجا لاڈ نے اسے بگاڑا تو ہرگز نہ تھا مگر اپنی من مانی کرنے کا عادی ضرور بنا دیا تھا ـ ایسا نہیں تھا کہ خاطرہ کے ساتھ چھتیس کا آنکڑہ ہو ان کا تعلق تو دھوپ میں برستی بارش جیسا تھا ـ بادلوں کی سورج سے چھپن چھپائی کی طرح ـ سکول سے گھر آتے ہوئے پہلی بار خاطرہ جب سر پہ نیلا برقع اوڑھے ان کی ڈیوڑھی میں بیٹھی اسے دیکھائی دی تھی تو اسے لگا بھکارن ہے ـ دبلی پتلی سی میانہ قد ٹخنوں تک ایک لمبا میلا سا فراک پہنا ہوا ـ دبی ہوئی رنگت لمبوترا چہرہ ‘ پچکے گال’ اندر کو دھنسی ہوئی کالی آنکھیں جن میں سرمے کی دھار ان کو اور بھی کالا کر رہی تھی ‘ ہنسی تو داڑوں تک دانت نمایاں ہو گئے ـ

یہ بھی پڑھیں:دیوانے
اسی نے آتے ہی ناصرف سارا گھر سنبھال لیا تھا بلکہ بیگم خالدہ کے دل میں گھر کر گئی تھی ـ ثمرین کبھی کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکتی تو دیورانی جیٹھانی کی طرح آمنے سامنے چارپائی پہ بیٹھی مٹر چھیل رہی ہوتیں تو کبھی خاطرہ بیگم خالدہ کے سر پہ مالش کرتے ہوئے بہنوں کی طرح راز نیاز کر رہی ہوتی تو کبھی سہیلی کی طرح بازار سے لائے ہوئے سودا سلف کی ادلی بدلی بھی کرتی رہتی’ شاید یہی وجہ ثمرین کے دل میں رقابت کی آنچ کو سلگاتی رہتی ـ
“ارے آپ کا ہاتھ کیسے جل گیا خاطرہ نے ٹوٹی پھوٹی پشتو میں پوچھتے ہوئے بیگم خالدہ کے ہاتھ پہ نفاست سے پٹی لگانے لگی ـ درد سے آنکھیں میچتے ہوئے بیگم خالدہ نے کہا
“یہ کم بخت چائے کی گرم پیالی ہاتھ میں ہی ٹوٹ گئی ـــ”
ثمرین کچن میں داخل ہوئی اور ماں کو گلے لگاتے ہوئے کہا “،امی آپ کا ہاتھ جل گیا اور درزی نے فون کر کے کہا ہے وہ فاتحہ کے لیے گاؤں جا رہا ہے میرے کپڑے کون سی دے گا اب ـ؟
“سکول میں پارٹی پرسوں ہے تب تک سی دوں گی ماں نے بیٹی کو ہچکارتے ہوئے کہا ـ”
” میں سلوا دوں؟
“خاطرہ تم ؟ ثمرین نے چونکتے ہوئے کہا؟!
تمھیں کیا پتہ فیشن کیا ہے؟ پتہ نہیں کابل کے کن پہاڑوں سے اتر کے آئی ہو !تم تو رہنے ہی دو ـ”
خانہ جنگی کے دوران دگرگوں حالات کے ایک ریلے میں خاطرہ بھی اپنا بوریا بستر سمیٹے کابل جان کی گلیوں کو آبدیدہ آنکھوں سے رخصت کر کے پشاور پہنچی تو بے سروسامانی ‘ لامکانی اور مجبوری کے عالم میں ہجرت ‘ کلنک کی طرح اس کے ماتھے پہ شناختی نشان بن گئی ـ لاکھوں لوگوں کی طرح اس کے گلے میں بھی” مہاجر “کا شناختی کاڑد لٹکا کر اس سے اسکا نام تک چھین لیا گیا تھا ـ در در کی خاک چھانتی وہ پانچ بچوں کی ماں جس کا شوہر روسی جنگ میں اس سے بچھڑ گیا ‘ زندہ یا مردہ اسے آج تک یہ خبر بھی نہ ہو سکی مگر وہ اسے گم شدہ ہی تصور کر کے ابھی تک آس کے پودے کو اشکوں کے پانی سے ہرا رکھے ہوئے تھی ـ ایک تاریک بالاخانے میں بھائی بھاوج کے ساتھ نجانے ایک کمرے میں کیسے گزارا کرتی تھی ـ بیگم خالدہ کے گھر کام ملا تو پچکے گال بھی قدرے بھر گئے ـ آنکھوں میں خوشی کی رمق اور دبی رنگت کھل کر گندم گوں سی ہو گئی تھی ـ اب تو فارسی بان خاطرہ بہت اچھی پشتو بھی بولنے لگی ـ پہلے وہ زبان کم اور ہاتھ کے اشارے ذیادہ کیا کرتی تھی ـ
اگلی صبح آتے ہی اس نے سر سے نیلے برقعے کے اندر بغل میں چھپائی گھٹڑی بیگم خالدہ کو تھما دی ـ

یہ بھی پڑھیں:آسرا
اففف کتنا پیارا ڈریس ہے ہے ثمرین گلابی میکسی میں نکھری نکھری سی لگ ریی تھی ماں نے بیٹی کا ماتھا چوما اور ہولے سے کہا خاطرہ کو شکریہ کہہ دو ـ
“خاطرہ ـــــ آہ تم کتنی اچھی ہو ”
اس نے خاطرہ کے گلے میں اپنی باہیں حمائل کر دیں ـ
بیگم خالدہ ہاتھ دھیرے دھیرے ٹھیک ہو رہا تھا ـ زخموں کا کیا ہے اگر دل پہ نہ لگے ہوں تو ایک نہ ایک دن بھر ہی جاتے ہیں اور نشان چھوڑ جائیں تو بھی دل میں دراڑیں نہیں پڑتیں ـ
بند گھوبی کے پھول ‘ پیاز کی کلیاں ‘ ٹماٹر کے گلاب ‘ گاجر اور کھیرے کی کترنوں سے سجا سلاد کا تھال رنگولی کی طرح آرٹ کا نمونہ لگ رہا تھا ویسے تو بیگم خالدہ جو گھر کی صفائی ستھرائی ‘ برتن اور کپڑے دھونے پہ رکھا ہوا تھا ـ
مگر وہ گھر کو گھر سمجھ کر ہاتھ بٹاتی رہتی ـ ثمرین نے سلاد کے گول کرسٹل کے تھال کو اٹھا کر پوچھا
” یہ تم نے بنایا ہے ؟”
” بلے! عزیزم ” خاطرہ خوشی سے بولی!
اس نے تھال پہ ہاتھ پھیر کر آرٹ کے شاہکار کو تجریدی آرٹ میں بدل دیا ـ
خاطرہ کر بھی کیا سکتی تھی سوائے اداس خاموشی کے ـ خاموشی جو کمزور کے لیے حکمت ‘بے وقوف کے لیے ضرورت اور طاقتور کے لیے احمقانہ فعل ہوتی ہے ـ
لاونج میں رکھے ٹی وی پہ بار بار ایک ہی خبر گونج رہی تھی ـ پورے شہر میں سنسی کے ساتھ تبصروں اور تجزیوں کی ایک فضا نے ماحول کو افسردہ کر دیا تھا مگر خاطرہ اس دن بھی بنا کوئی ضاص تاثر دیے اپنے کام کر کے چلی گئی ـ
“اسامہ بن لادن اور ملا عمر روپوش ‘ تورا بورہ میں بی باون طیاروں کی کارپٹ بمباری سے متعدد طالبان ہلاک ‘ ”
چچ چچ چچ بیگم خالدہ ٹی وی کی آوز اونچی کرتے ہوئے صوفہ پہ بیٹھ کر خبریں سننے ہی لگیں تھیں کہ ثمرین نے لاونج میں نے داخل ہوتے ہوئے کہا !
” امی ذیادہ چچ چچ چچ کرنے کی ضرورت نہیں! افغانیوں کاـایک اور ریلا آ جائے گا ہمارے ملک ـــ”
بیگم خالدہ نے متاسفانہ نگاہ ڈالتے ہوئے کہا ” کتنی چھوٹی سوچ ہے تمھاری ‘ ہجرت تو ہمارے نبی پاک نے بھی کی تھی ـ تو کیا نبی پاک نے بھی برا کیا تھا ؟ قابلِ حقارت تھے وہ بھی کیا ؟
ثمرین ناصحانہ تقریر سے جان چھڑانے کے لیے اٹھ کر چلی گئی ـ
کچھ دن بعد خاطرہ فرطِ مسرت سے دمکتی ہوئی بیگم خالدہ اور ثمرین کو آوزیں دیتی ـــ
“اے عزیزم ! کجائی؟ (اے پیاری کہاں ہو)
” دختر قند! کجا ہستی “( شہد جیسی میٹھی لڑکی! کہاں ہو تم)
خوشی سے اس کی باچھیں کھلی ہوئی تھیں ـ باورچی خانے میں بیگم خالدہ سے مخاطب ہوتے ہوئے خوشی سے بولی !
” وہ واپس افغانستان جا رہی ہے ”
” کیا؟ کیوں؟ “بیگم خالدہ نے حیرانگی سے پوچھاـ
خاطرہ نے کہا !
” کرزئی کی جمہوری حکومت آ گئی ہے ‘ طالبان نے جن عورتوں کو سرکاری کام سے ہٹا دیا ان کو دوبارہ نوکری پہ رکھا جا رہا ہے ”
” تم کیا کرتی تھی وہاں؟ بیگم خالدہ نے پوچھا!
“سرکاری ہسپتال میں نرس تھی ”
“اچھا کبھی بتایا نہیں ” ثمرین نے گلہ کرتے ہوئے کہا!
وہ اداس ہوتے بولی ” کیا بتاتی بعض اوقات وقت خوشی کے ساتھ خوش آئیند ماضی بھی چھین لیتا ہے ”
پہلی بار ثمرین کو عجیب سا احساس ہوا اور اس نے خاطرہ کو کریدا
تمھارا گھر کیسا تھا ؟ نوکری کس طرح کی تھی ـ رہن سہن ‘ رسم و رواج ـــــــ ؟
ہممم خاطرہ اپنی ٹوٹی پھوٹی پشتو میں کیا بتاتی اس نے کہا رکو میں ایک چیز دیکھاتی ہوں ـ
وہ گھر سے اپنی البم اٹھا لائی ثمرین نے دبیز بھاری بھرکم البم کا پہلا پنہ کھولاـــ پہلی تصویر میں ایک صحت مند بچی کالے فراک میں سر پہ تکونی سفید سکارف ‘ آرڑو کی طرح کھلی ہوئی رنگت ‘ صوفے کے ساتھ قالین پہ بیٹھی خاطرہ نے کہا” یہ میں ہوں ـ”
گلابی رنگ کی منی سکرٹ ـ پنڈلیوں تک سفید جالی کی جرابیں ـسفید اونچی ہیل فیشن ایبل لڑکیوں کی باہوں میں باہیں ڈالے پندرہ سولہ سال کے سن میں خاطرہ اب پہچانی جا رہی تھی ـ پنہ پلٹا ایک خوشحال متمول خاندان ایک وسیع باغ میں دسترخوان بچھائے میوے سے لدی ٹوکریاں’ تھرماس اور ڈھکے خوان ـ پینٹ شرٹ میں ملبوس کچھ مرد اور سکرٹ پہنےعورتوں ان میں ایک خاطرہ ـــ
” یہ باغِ بابر ہے ” خاطرہ نے اشارہ کیا ــ
برف سے جمی ایک جھیل اور سرخ کنٹوپ ‘ چست جین کی پینٹ کالا کوٹ پہنے جھیل پہ سیکٹنگ کرتے ہوئے خاطرہ ـ مچھلی کے مرتبان سے سجی ایک میز قسم قسم کے میوے اور انواع و اقسام کے پکوان ساتھ ایک رقابی میں اگی گھاس ـــ میز کے گرد وکٹری کا نشان بنائے مغربی تراش خراش کی میکسیاں پہنے خاطرہ اور اس کی بہنیں ــ
سفید جالی اور ساٹن کے دلفریب ایک لمبے گاؤن میں سرخ گلابوں کا گلدستہ تھامے دلہن بنی نوخیز لڑکی مسکراتی ہوئی اس کا بازو پکڑے کالے اور سفیدتھری پیس سوٹ میں ملبوس کالی بو ٹائی لگائے ایک نوجوان دولہا جس کی تصویر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے خاطرہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ـ ثمرین نے جلدی سے پنہ پلٹ لیا ـ اگلی تصویر میِں سر پہ تکونی ٹوپی اوڑھے خاطرہ اپنی کولیگ کے ہمراہ ـــ
دو آنسو ٹپ ٹپ البم پہ گرے اور ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے ثمرین نے البم کو صاف کیا ـــ خاطرہ متوجہ ہوئی
“دخترِ قند …. کیا ہوا ”
آنسوؤں کو پیتے ہوئے ثمرین نے خاطرہ کو گلے لگا کر کہا
” کچھ نہیں ــــ بس ـــ مجھے تم یاد آو گی ”

____________________

تحریر: ثروت نجیب

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements

3 thoughts on “خاطرہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s