خاطرہ_______ثروت نجیب

خانہ جنگی کے دوران دگرگوں حالات کے ایک ریلے میں خاطرہ بھی اپنا بوریا بستر سمیٹے کابل جان کی گلیوں کو آبدیدہ آنکھوں سے رخصت کر کے پشاور پہنچی تو بے سروسامانی ‘ لامکانی اور مجبوری کے عالم میں ہجرت ‘ کلنک کی طرح اس کے ماتھے پہ شناختی نشان بن گئی

Advertisements