خاطرہ

خانہ جنگی کے دوران دگرگوں حالات کے ایک ریلے میں خاطرہ بھی اپنا بوریا بستر سمیٹے کابل جان کی گلیوں کو آبدیدہ آنکھوں سے رخصت کر کے پشاور پہنچی تو بے سروسامانی ‘ لامکانی اور مجبوری کے عالم میں ہجرت ‘ کلنک کی طرح اس کے ماتھے پہ شناختی نشان بن گئی

Read More…
Advertisements

سلسلہ

تجھ سے ہے میرا سلسلہ کیا گزرے لمحوں کی یاد مں….اک سہمی ہوی آہ کسی ٹوٹے سپنے کوپھر سے جوڑنے کی چاہ! پچھلی گلیوں میں کھلتے دریچوں سے جھانکنے کی عادت یا لہو میں سانسوں کے ساتھ بہتی اک وفا! دور اندھیروں میں کوی مدھم سا عکس تکتی ہوئی راہگزر کوی بچھڑی ہوی سزا ! […]

Read More…