زندگی

زندگی اک دھوپ چھاؤں کا کھیل ہے!
کبھی تپتی چمکدار روشنی
اندھیرے تاریک کونوں میں
اجالے سے بھر دیتی ہے
کبھی آسماں سے برستی تاریکیاں
ساری روشنیاں نگل جاتی ہیں!
کبھی خوشبو بھرے رنگیں پھول
ڈالیوں پر لہراتے اور گاتے ہیں
کبھی سبز پتے بھی سوکھ کر
ہواوں سے اڑ جاتے ہیں
کبھی ستارے بھی چمکتے ہیں
کبھی سورج بجھ جاتے ہیں
کبھی مون سون پیاسا رہے
کبھی صحرا بھی تر جاتے ہیں
کبھی محبت کے بھرے پیمانے
بیچ راہگزر پھوٹ جاتے ہیں
کبھی فقیر کے کالے کشکول
ہیرے موتی سے بھر جاتے ہیں
دل کی دھڑکنیں کبھی موسیقی کو ہرا دیتی ہیں
لبوں کی آہیں بھی نوحوں کو جگا دیتی ہیں
کبھی نغمےسُر کھو جاتے ہیں
کبھی لمحے امر ہو جاتے ہیں
کبھی دیس نکالا ٹل جاتا ہے
کبھی کھویا کوی مل جاتا ہے
زندگی اک دھوپ چھاؤں کا کھیل ہے
اور کھیلوں کی بازی میں بھلا
ہار کیا اور جیت کیا!!

___________________

شاعرہ وکور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements