غزل

آؤ ھم چلیں اُس دنیا میں جہاں لوگ بہت یاد آتے ہیں
جہاں گزرے پلوں کو سوچوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
آؤ هم چلیں اُن جہانوں میں جہاں تنہا یوں چھوڑ جاتے ہیں
جہاں ساتھ نبھانے کے وعدے کرے وه هى وعدے وه توڑ جاتے ہیں
آؤ هم چلیں اُن ملکوں میں جہاں اب بھى وه غم بستے ہیں
جہاں سب کا بھلا سوچوں تو لوگ بُرا مان جاتے ہیں
آؤ هم چلیں اُن شہروں میں جہاں زندگى گزارے ہیں
جہاں چاند بھى اپنا نہ لگے جہاں آسماں بھى خالى پاتے ہیں
آؤ هم چلیں اُن قصبوں میں جہاں یادیں یوں چھوڑ َجاتے ہیں
جہاں هوا کے ھٌنڈے جھونکوں میں امانتیں چھوڑ جاتے ہیں
آؤ هم چلیں اُن گلیوں میں جہاں اب بھى وه کلیاں کھلتى ہیں
جہاں رنگتے پھولوں کو دیکھوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے

________________

شاعرہ: دعا بشری

Advertisements

2 Comments

    1. 😲😲😲 شکریہ نور کوتاہی کی نشاندھی کے لئے!!! غلطی ٹھیک کر دی گئی ہے امید ہے آپ آئندہ بھی ایسے ہی ہماری رہنمائی کرتی رہیں گی۔

      Like

Comments are closed.