” کتابوں کا احتجاج “

از ثروت نجیب

” کتابوں کا احتجاج ”

آج کتابوں کا عالمی دن ہے
کتابیں ناقدری کا کتبہ اٹھائے
افسردگی سے شیشوں سے جھانکتی
کتب خانوں کی مقفل الماروں میں دھرنا دے رہی ہیں
قلم کی سیاہی اوراق سے بہہ کر
کتابوں کا ماتمی مقدر بن گئی ہے
نصاب پہ اکتفا کرنے والے
اپنی ادھوری لیاقت پہ نازاں
افسانے مرد و زن کے گرد گھومتے
مصالحہ آمیز ‘ محبت سے لبریز
شاعری سطحی سی
“میں” اور” تم “میں گرفتار’
سفرنامے ‘
معاشی ‘ معاشرتی حالات سے عاری
قدرتی حسن سے مالا مال!!!
ناول”
مشکی اسپ پہ سوار
تاریخ’
فیل کا جسد چھپائے فقط اک دُم
حدودِ اربعہ اور ــــ
سرحدوں کی طول و عرض میں گم
سیاسیات ‘
بطور مضموں ‘ مگر ممنوع
سائنس ‘
مذہب کی عینک لگائے ‘ کلر بلائینڈ
فنون ‘
حرام ‘ دیوانے کا جنون
تمام علوم
ادھورے ‘ فساد کا گڑھ
دیوانے کی بڑ
پھیکے پھیکے
لکھے گئے ہیں
آنکھیں میچے
باشعور ‘ روشن خیال
کیسے کریں رخ ‘
بازارِ کتب فروشی کی طرف ؟
پڑھنے والے مجبور ہیں
گلوبل کھڑکیاں کھولیں
سوشل میڈیا پہ جو دل میں آئے وہ بولیں ــــ
کتابیں اپنے شیرازوں میں بکھرتی جا رہی ہیں!
پڑھنے والے میسر نہیں ان کو لیکن
پڑھنے والے ہیں شکوہ کناں !!!!
لکھنے والے نہیں ان کو میسر ایسے
جسے پڑھ کے کھلیں ذہن کی گرہیں ساری!
ہائے یہ قسمت ہماری ـــــ
جہاں ـــــ
سچ لکھنے والے اغواء ہونے لگیں
لکھاریوں کے قلم !
نادیدہ زنجیروں میں جکڑے خوفزدہ ہوں
وہاں ادب چسکہ
صحافت زرد ہوتی ہے
اور کتابوں پہ بے تحاشا گرد ہوتی ہے

_______________

شاعرہ:ثروت نجیب

Advertisements

1 Comment

  1. کتابوں کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
    یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔۔۔

    واہ! دورِ حاضر کی بہترین عکاسی

    Liked by 1 person

Comments are closed.