غزل

سنو تم دور مت جاؤ، ذرا ٹھہرو ذرا ٹھہرو
دلِ وحشی کو سمجھاؤ، ذرا ٹھہرو ذرا ٹھہرو

ابھی تاروں کی محفل میں تمھارا ذکر جاری ہے
ابھی سورج نہ دہکاؤ ، ذرا ٹھہرو ذرا ٹھہرو

انا جل کر یہ کہتی ہے اسے آواز مت دینا
مگر دل کا تقاضا ہے، ذرا ٹھہرو ذرا ٹھہرو

مرا جی چاہتا ہے یہ تجھے پل میں بھلا دوں میں
کوئی اندر سے کہتا ہے ، ذرا ٹھہرو ذرا ٹھہرو

بجا ہے رات بھاری ہے ، وصالِ شوق طاری ہے
مرے پہلو کو مہکا ؤ ، ذرا ٹھہرو ذرا ٹھہرو

تجھے پانے کی چاہت نے مجھے مجنوں بنا ڈالا
میں صحرا کاٹ آیا ہوں ، ذرا ٹھہرو ذرا ٹھہرو

” سعدیہ بتول “

Advertisements

4 Comments

Comments are closed.