سفِر حجاز اقدس اور میں

قسط نمبر 1

( بلاوا )

__________________

میرے داورا میرے کبریا

کروں حمد تیری میں کیا بیاں

تیری منزلوں میں ہیں فاصلے

میرے راستے میں ہیں پیچ و خم

کہتے ہیں رب کے در پہ وہی حاضری دیتا ہے جس کے نام کا بلاوا بھیجا گیا ہو. مجھے بھی ادراک تھا بلکہ علم الیقین تھا کہ اس دلِ نادار کی لگن دیکھتے ہوئے میرا رب بھی مجھے اپنے در پر ضرور بلائے گا. پھر ایک روز جب امی نے فون کرکے مجھے اپنے ساتھ چلنے کا کہا تو میں نے بلا تامل حامی بھرلی کہ ایسا نایاب موقعہ پھر کب ملتا جہاں ماں کی خدمت اور اللہ کے ہاں حاضری ایک ساتھ میسر آ رہی تھی. میں نے جھٹ پٹ ٹریول ایجنٹ کو فون ملایا اور معلومات حاصل کیں اور ویزے کے لیے تمام کوائف جمع کرنے شروع کر دیے، مگر جیسے جیسے راستے کھلتے جا رہے تھے میری غیر یقینی کیفیت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا کہ مجھ سا گناہ گار بھی اس پاک سر زمین پہ قدم رکھ سکے گا؟ پھر جب ویزہ پاسپورٹ ٹکٹ سب ہاتھ میں آگیا تو عین الیقین سے فرط جذبات میں آنسو بھرآئے اور لگا کہ وہ گھڑی دور نہیں جب میں خدا کے گھر کو اپنی سونی ویران آنکھوں سے دیکھ سکوں گی. دل کی لگن اب بڑھ گئی تھی، جی دنیا داری سے اُچاٹ سا ہو رہا تھا… مصلے پہ بیٹھتی تو آنکھیں آسمان کی جانب اٹھ جاتیں اور دل آپ ہی آپ پینگے بڑھاتا چلا جاتا. لگ رہا تھا کہ جیسے میرے ٹوٹے رابطے جڑ گئے ہوں.. زبان تھی کہ لبیک اللھم لبیک آپ ہی آپ پکاے چلی جاتی … حمد و نعت دل میں جاری رہتی اور لبوں پہ بول پکار بن کے کچھ یوں ادا ہوتی…

وہ تنہا کون ہے… اللہُ اللہ…

بادشاہ وہ کون ہے… اللہُ اللہ

مہرباں وہ کون ہے… اللہُ اللہ

حسبی ربی جل اللہ، اللہُ اللہ

ما فی قلبی غیر اللہ، اللہُ اللہ

میں ہر چیز کو پہلے سے پلان کرنے کی عادی ہوں. ہر کام کو نک سک سے درست کرنا میری عادت ہے کہ میں نہ بھی ہوں تومیرے پیچھے کوئی معاملہ گڑ بڑ نہ ہو… مگر اس بار سفر کی نوعیت کچھ ایسی مختلف تھی کہ دل اپنی اڑان آپ اُڑا جا رہا تھا. دماغ ستاتا اپنی جانب کھینچتا تو میں منتشر خیالوں کو سمیٹ کر کاموں کو یکسوئی سے کرنے کی کوشش کرتی. ہر صبح کھڑکی پہ بیٹھا ایک پرندہ جو پیار کے گیت گنگنایا کرتا تھا اس کی لے میں اب مجھے حمد و ثنا کی لہک سنائی دینے لگی تھی جو کبھی درودِ ابراہیمی بن جاتی توکبھی درودِ تاج، میں من ہی من مُسکاتی کہ ایسی ہی ایک ترنگ میری رگوں میں بھی جاری ہے.

امی فون پہ اپنی اور باجی کی تیاریوں کا ذکر کرتیں تو مجھے بھی رہنمائی ملتی کہ رخت سفر میں کیا کیا ہونا چاہیے جو میں نے بھی رکھنے کا سوچا مگر کوئی شاپنگ نہیں کی کوئی جوڑا نہ سلوایا کہ مجھے تو درویشی کی طلب تھی. میں اپنے رب سے تزکیہ نفس کی خواستگار تھی. میں ایسی ملنگنی بن جانا چاہتی تھی جس کو دنیا وما فیھا سے کوئی شعف نہ ہو، جو اپنے مولا کے رنگ میں رنگی ہو اور اسی کے ذکر میں نہال رہے. اپنے اس جذبے کا ذکر ایک سنگی سے کیا اور کہا کہ ” تم دیکھنا کہ اس قربِ حق کے بعد میں یکسر بدل جاؤں گی.” تو وہ خوب محظوظ ہوئی شاید وہ مجھ کو مجھ سے زیادہ جانتی تھی.. بولی ” اچھا، تو یہ بتاؤ کہ واپس ٹھیک ہونے میں کتنے دن لوگی”

تو میں ایک نئے تذبذب کا شکار ہوگئی کہ خدا کے گھر کی مسافرت، دین کے شعور کی آگہی کے بعد بھی اس کا نفاذ اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے. گناہ و ثواب کی جنگ سے آگے کی روحانیت کا حصول مجھ سے کیا قربانیاں مانگتا ہے… اس سوچ کا جواب مجھے عمیر نجمی کے اس شعر میں ملا کہ

نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ

اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے

میں اپنے رکتے ڈگمگاتے قدموں کےساتھ تاریخِ روانگی کے قریب بڑھ رہی تھی کہ ایک واٹس ایپ میسج نے خوشگوار حیرت میں ڈال دیا. وہ میسج مجھے اس پیاری ساتھی رائٹر نبیلہ آبرو نے بھیجا تھا جس سے میرا خال خال ہی رابطہ ہوا کرتا تھا. اس نے لکھا تھا، ” رات میں نے خواب میں آپکو دیکھا کہ آپ میرے گھر میں آئی ہیں اور امی سے سبز چوڑیاں لے کے پہنی ہیں.” اتنا پیارا خواب جان کر میں بہت مطمئن ہوئی اور جواب میں یہ لکھا کہ آپ کی امی نے عنایت کی ہیں تو یقیناً یہ کسی اعزاز سے کم نہیں ہیں. ابھی اس خواب کا سحر ٹوٹا بھی نہیں تھا کہ ایک اور عزیز ترین سہیلی حمیرا فضا کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ اس نے رات مجھے ایک خواب میں دیکھا ہے کہ وہ مکہ میں ہے جہاں مجھے ایک بڑی لوہے کی الماری تحفے میں دی گئی ہے…. کہنے لگی کہ آپ کے ساتھ ضرور کچھ اچھا ہونے والا ہے تو میں مسکرائی اور تسلیم کیا کہ واقعی تمھارا خواب سچا ہے، میں عمرے کی نیت سے جلد مکہ جانے والی ہوں.

ان باتوں سے میرے عین الیقین کو ثبات ملا کہ میرا اپنے رب کے حضور جانا لکھ دیا گیا ہے ساتھ ہی ساتھ میرے دل کی ساعتیں تیز ہوتی جا رہی تھیں میں عین الیقین کو حق الیقین میں بدلتے دیکھنا چاہتی تھی کہ جب میری نگاہیں خدا کے گھر کعبہ شریف پہ پڑیں گی اس حمد کی مصداق کہ…

کعبہ پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا

یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے، دل ذوقِ تماشا بھول گیا

(جاری ہے)

Advertisements

4 thoughts on “سفِر حجاز اقدس اور میں

Comments are closed.