مسلم کا ترانہ

آیا ہوں اس دنیا میں مقید ہوں بندہ و غلام اُسکا
پناہ گزیں ہوں چند روز کو،باقی فردوس ہے اصل ٹھکانہ۔۔۔
جو کچھ کسی کا بھلا کروں،تو بھی اسی کی خاطر،
جو دشمنی کسی سے مول لوں تو بھی خیال اُس کی ہی رضا کا۔۔
اِس جنتِ کافر سے مجھ کو نہیں کچھ بھی واسطہ

کسی سے گر ہے مجھ کو محبت،تو بھی اُسی کیلیے ہے،
کسی کا ہے گر خیال تو بھی یہی فسانہ۔۔
قیام جو ہے مرا اس جہاں میں تو بھی اسی کی رضا سے ہے،
جو میں مرجاؤں تو بھی اسی کا ہے ارادہ۔۔
آیا ہوں اس دنیا میں مقید،ہوں بندہ و غلام اُسکا،
پناہ گزیں ہوں چند روز کو،باقی فردوس ہے اصل ٹھکانہ۔۔۔

شداد و فرعون نہیں کہ فانی کو گھر بناؤں۔۔
باقی جو ہے رب میرا، باقی ہی ہوگا جہاں بھی میرا۔۔
نہیں اس چند روزہ زندگی میں اک روز بھی مرا جنت کا دہانہ۔۔
آیا ہوں اس دنیا میں مقید،ہوں بندہ و غلام اُسکا،
پناہ گزیں ہوں چند روز کو، باقی فردوس ہے اصل ٹھکانہ۔۔۔

آنے کا مقصد یہاں مالک کی ہے عبادت،
عبادت ہی اُسکی ہے جہاں ہمارا۔۔
جو کچھ فعل و عمل ہے میرا،فقط اُسی کیلیے ہے۔۔
جو کچھ ہے عادت مری،وجہ صرف،اُسی کا حکم نامہ
مومن ہوں،مسلم ہوں،غلام ہوں اُسکا
یہ دنیا مری جنت نہیں ہے،
یہی مری عبادت،یہی مرا ترانہ

__________________

نظم بقلمِ :نورالعلمہ حسن

کور فوٹو:صوفیہ کاشف

Advertisements