غزل

غصہ بہت ہے مگر تجھے کھونا نہیں چاہتا
یہ دل میرا ہے مگر میرا ہونا نہیں چاہتا

جی میں آتا ہے انا اپنی اشک برد کر دوں
دل کہ تیرے سینے لگ کے رونا نہیں چاہتا

فقط اک مسکراہٹ کی مسافت پہ ہو تم
مالا خوابوں کی مگر دل اب پرونا نہیں چاہتا

تجھےسامنے دیکھتے ہی مچلتے ہیں جذبات
اعتبار کی کشتی مگر دل ڈبونا نہیں چاہتا

اسے کہو مت دیکھے اتنی الفت سے نور کو
کہ دل اب پیار اس کا سمونا نہیں چاہتا

________________

رضوانہ نور..

کور فوٹوگرافی: فرحین خالد

Advertisements

3 Comments

Comments are closed.