بلاعنوان

اے درد,اپنی آنچ کی شدت کو ماند کر
اے رنج, میری سِطر کی سیڑھی اتر ذرا
اے زخم, اپنے رنگ ذرا مجھ میں بھر کے دیکھ
اے خواب, اسکی نیند کی پلکیں جھپک کے آ
اے نم, ذرا سا ٹھہر جا، آنکھوں میں رک ذرا
اے حرف, فکروفن کی کہانی سنا مجھے
اے نصف شب کے پہر, تو لوبان تو جلا
اے روشنی, تو طور سا منظر دکھا کے لا
اے عشق, اب زیارتِ محبوب کرعطا
انگشتری میں سبز زمرد جڑا کے دے
دھرتی,تو اپنی گود میں لے لے، سلا مجھے
اِس شہرِ بدگماں سے رہائی دِلا مجھے
اے سبز اوڑھنی, مجھے خود میں لپیٹ لے
اے خاک مجھ کو اوڑھ لے اور غسل دے ذرا
کلمہ پڑھا کے سر میرا سجدے میں رکھ ابھی
اے آخری دعا تو ذرا ہاتھ باندھ لے

__________

رابعہ بصری

کور فوٹو: صوفیہ کاشف

Advertisements

3 Comments

Comments are closed.