“آخر کب تک”

(دشتِ برچی کابل کے معصوم شہداء کے نام! )

لہو سے لتھڑے بکھرے اوراق ــــ
ظلم کی آنکھ مچولی میں
بازیچہِ اطفال ہوئے راکھ
مکتب سے آتی ہیں صدائیں سسکیوں کی ……
ہائے نصیبہِ خاک!
خاک تہہ خاک ــــ
ظالم ہیں کس قدر بےباک
ان کا خدا ہے نہ خدا پہ بھروسہ کوئی
اے میرے وطن کے گلریز
تیری گلریزی کی قسم!
ریزہ ریزہ تیرے گل رو چہروں کی پنکھڑیاں
پتی پتی گرتی ہیں سینے پہ میرے
انکھیں چنتی ہیں انھیں ــــ
اشک دیتے ہیں غُسل
میرے دل کے اندر ہے اک بے کراں ‘ قبرستاں
میرے احساس کا گور کن ‘ کھودتے کھودتے تھک چکا ہے مگر
جلانے پڑتے ہیں پھر مجھے تازہ قبروں پہ لوبان و اگر ـــــ
میں ہر ایک سانحے کے مرقد پہ جا کے
درد و غم سے پناہ مانگتی ہوں
جو امڈ آتا ہے نجانے کیوں؟
نجانے کیوں؟
کوئی درپے ہے امن کے ایسے
جس نے سابقہ جنگوں سے بھی سبق سیکھا نہیں جیسے ــــ
آخر درد کی یہ دیوار کہاں تک جائے گی؟
کس ماں کے دل میں ہے یہ خیالِ مبہم؟
دنیا اجاڑ کے دنیا نئی بسائے گی؟
وہ پدر کون ہیں جو سوچتے ہیں
گُلوں کو نوچ کے بہار کہاں آئے گی ؟
وہ کون ہیں جو چلاتے ہیں انسانیت پہ نشتر
وہ کون ہیں سُلا کے خاک میں چھین لیتے ہیں وجود سے بستر
وہ کون ہیں؟
ان کا کوئی نام نہیں ‘سوائے شر کے
اور شر ک انجام ‘
دوزخ کی جھلستی ہوئی آگ !!!!
جسے مظلوم کی گرم آہیں دہکاتی ہیں
دہکاتی رہیں گے ـــ
مگر آخر کب تک؟ ؟؟؟؟

_______________

ثروت نجیب

Advertisements

2 thoughts on ““آخر کب تک”

Comments are closed.