شجر بےسایہ

صحن تو اس نے بنا لیا تھا۔ اب بیج بونا رہ گیا تھا۔ صحن بناتے ہوئے اس کی نظریں اردگرد کے صحنوں پہ تھیں۔ جہاں بھانت بھانت کے درخت لگے تھے۔ کچھ صحنوں میں تو ننھی ننھی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں اور کسی صحن میں کئی ہرے بھرے درخت تھے تو کسی میں بس ایک یا دو مگر بہت سایہ دار۔ کسی کسی صحن میں درخت تو کئی تھے مگر وہ درخت کم درخت کا ڈھانچہ زیادہ لگتے تھے۔ بغیر کسی پتے کے ٹنڈ منڈ۔ اسے یقین تھا کہ وہ جو بیج لگائے گا اس سے نکلنے والے درخت بہت سرسبز ہوں گے۔ اسے بیج لگانے کی جلدی یوں بھی تھی کے اردگرد کے مالیوں کی نظریں ہر وقت اس کے صحن کی نگرانی پہ لگی ہوتیں کہ کب اس میں کونپل پھوٹے گی۔ وہ جتنی جلدی چاہ رہا تھا شاید قدرت اتنا ہی اس کے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔ وہ کوئی مالی تو تھا نہیں کہ وقت اور موسم کے سازگار ہونے پہ بوائی کرتا۔ صرف مالی نام رکھ دینے سے ہر کوئی مالی بن جاتا ہے کیا۔ اسے تو یہ بھی نہیں پتا تھا صحن کی سخت زمین کو کتنی آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔تو بس وہ سوچے سمجھے بغیر بوائی کیے جارہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پچاس لفظی کہانی3

آخر کار قدرت کو شاید اس پہ رحم آ ہی گیا اور اس کے صحن کے بیچوں بیچ ایک ننھی سی کونپل پھوٹ نکلی۔ وہ خوشی سے جھوم جھوم گیا۔ اس نے ٹھان لی کہ اس کا درخت ایسا شاندار ہوگا جیسا کسی کا بھی نہیں۔ سب سے بلند سب سے گھنا سب سے سرسبز اور وہ بھی آم کا درخت۔ اس نے سوچ لیا تھا اس کے صحن کا درخت صرف آم کا ہی ہوسکتا تھا پھلوں کے بادشاہ آم کا۔ کونپل نکلتے ہی جیسے اس کا کام ختم ہوگیا۔ اسے پتا تھا صحن خود اس کے لیے پانی اپنی تہوں سے فراہم کرے گا۔ شاید صحن کو بھی پتا تھا اسی لیے جب جل تھل مینہ برستا صحن سارا پانی اپنی تہوں میں جذب کرلیتا دیکھنے والے صحن کے تڑختے خشک فرش کو دیکھتے مگر انہیں کیا پتا کہ سب پانی تو صحن نے پودے کے لیے جمع رکھا ہے۔ ہاں کبھی کبھی فارغ وقت میں مالی کا دل چاہتا تو وہ اس ننھے سے پودے پہ تھوڑا سا چھڑکاو کر دیتا۔ اس وقت اسے فخر سے اپنا سینا خوب چوڑا محسوس ہوتا کہ وہ کتنا اچھا مالی ہے اپنے پودے کو اپنے ہاتھوں سے پانی دیتا ہے۔ اس کی گردن اکڑ جاتی اسے لگتا اردگرد والے سب مالی اسے ایسا شاندار مالی ہونے پہ حسد سے گھور رہے ہیں۔ وہ ننھا سا پودا آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آسرا -دیس دیس کی کہانیاں

ایک دن حسب معمول کئی دنوں بعد وہ اپنے پودے کو پانی دے رہا تھا تو اس نے غور کیا۔ اس کے پتے تو بالکل بھی آم کے درخت جیسے نہیں تھے۔ اس کی تیوریوں پہ بل پڑ گئے۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ وہ اندر سے قینچی اٹھا لایا کہ پتے تراش کے آم کے پتوں جیسے کر دے۔ ابھی وہ پتے تراشنے ہی والا تھا کہ برابر والے ایک صحن کا مالی آگیا۔ اس کے صحن میں ایک ہی درخت تھا مگر بہت گھنا اور سایہ دار۔ اسے پتے تراشتے دیکھ کر برابر والے مالی نے روکا بھی کہ ایسا کرو گے تو پودا ابھی ختم ہوجائے گا۔ ابھی تو اس کے پتے بہت چھوٹے ہیں انہیں بہت ساری دھوپ اور پانی کی ضرورت ہے۔ مگر اس نے دھیان نہیں دیا۔ بلکہ اسے یقین تھا کہ برابر والا مالی چاہتا ہی نہیں کہ اس کے صحن میں آم کا ہرا بھرا پودا لگے۔ اور پھر اس کا معمول بن گیا۔ ہفتوں ہفتوں بعد جب وقت ملتا بکتا جھکتا جاتا اور پودے کے پتے کبھی تراشنے کی کوشش کرتا کبھی نوچ نوچ کے پھینک دیتا۔ پودا اب درخت کی شکل اختیار کرتا جارہا تھا۔ مگر صرف شاخوں والا درخت، پتے تو اس نام نہاد مالی نے نوچ دیئے تھے۔ پھر ایک دن اس پہ ایک چھوٹا سا پھل بھی لگا۔ شاید امرود کا۔ مالی کو لگا یہ کسی کی بد نظر ہے، کبھی وہ صحن کو کوستا، کبھی پڑوسی مالیوں کو کبھی درخت کو مگر اسے یہ کون سمجھاتا کہ بیج تو اس کا تھا کسی اور کی کیا غلطی جو بیج ڈالا گیا درخت بھی وہی نکلنا تھا۔ اس نے غصے میں وہ ننھا سا امرود نوچ کے پھینک دیا۔ اور پھر اس کے بعد بھی کئی بار نوچا۔

یہ بھی پڑھیں:کھڑکی کے اس پاد

وقت گزرتا گیا۔ درخت کی ٹنڈ منڈ شاخیں اب پورے صحن میں پھیل گئی تھیں۔ مالی بوڑھا ہوگیا تھا۔اب اسے یہ فکر نہیں تھی کہ درخت پہ پتے اور پھل کیسے ہوں بس یہ فکر تھی کہ جیسے بھی ہوں مگر ہوں۔ جب کما کے لانے کی سکت نا رہی تو سوچا اب وقت آگیا ہے کہ اتنی محنت سے جو درخت لگایا اس کے پھل کھاوں۔ مگر وہاں پہ سوائے ٹنڈ منڈ شاخوں کے کچھ نہ تھا۔ تپتی دھوپ سے اس کا سر جلا جارہا تھا۔ ہمیشہ کا ٹھنڈا صحن آج تنور کی طرح جل رہا تھا۔ اپنے اندر سمویا سارا پانی وہ درخت کو دے چکا تھا۔ مالی تھکے تھکے انداز میں درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ درخت صحن کے بیچوں بیچ اپنی ٹنڈ منڈ شاخیں پھیلائے مضحکہ خیز تنفر سے تنا کھڑا رہ گیا۔

_______________
تحریر ابصار فاطمہ

وڈیو دیکھیں:اندھیری رات کے مسافر

Advertisements

1 Comment

Comments are closed.