تعبیر

اُداس شاموں میں دیر تک تم🌺
کسی تعبیر کی آس میں یوں
اُداس پلکوں پہ آنسوؤں کا
بوجھ ڈالے نہ بیٹھے رہنا
کسی پرندے کی واپسی پہ
ہجر کو نہ کوسنا تم
مسکرا کر دیکھنا تم
ہر نگر کو
ہر گھڑی میں
کہ اُداس شامیں یوں لوٹ جائیں
کبھی نہ واپس پلٹ کر آئیں
خواب جو بھی بُنے ہوں تم نے
تمہارے در پہ
حقیقت کا رُوپ دَھارے
مؤدبانہ ، یوں کھڑے ہوں
کہ کہہ رہے ہوں
سلام تم پہ
کہ صبر کی منزلوں پہ
مُسکرا کر تم نے
روشن زندگی کو پا لیا ہے

_______________

شاعرہ : آبرؤِ نبیلہ اقبال

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements