پچاس لفظوں کی کہانی۔پارٹ 3

پچاس لفظوں کی کہانی ” ہار ”

بشیر اور بلال نے ہار خرید کر ماں کو دیئے اور کہا کہ کل مدرسے میں ہماری دستار بندی ہے ۔ وہاں سے واپسی پر ہمیں یہ ہار پہنائیے گا ۔

جہاز آئے ، مدرسے پر بمباری کی اور چلے گئے ۔۔۔
دروازے پر ماں ہار ہاتھوں میں تھامے ان کا انتظار کرتی رہ گئی ۔

قندوز کے ایک مدرسے میں دستاربندی کی تقریب پر ہونے والے فضائی حملے پر لکھی گئی کہانی ۔ اس حملے میں ستر کمسن بچوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے ۔

________________

یہ بھی پڑھیں: آسرا

پچاس لفظوں کی کہانی ” 23 مارچ ”

میرے پسندیدہ دنوں میں سے ایک ۔۔۔
ہر سو لہراتے جھنڈے ۔۔۔
لہو گرماتے طیارے ۔۔۔
چہروں پر خوشیوں کی دھنک لیے نفوس ۔۔۔
یک دم ذہن میں وطن کے ہونہار سپوت کی ہاتھ بندھی پنکھے سے جھولتی لاش گھوم گئی ۔۔۔
دل ڈوب گیا ۔۔۔

” صداقتوں کے دیئے جلا کر بڑھا رہے ہیں وقار تیرا ”

_____________

یہ بھی پڑھیں: خالہ جی

پچاس لفظوں کی کہانی ” اوہ آئی سی ”

” کبھی فلسطین ، کبھی کشمیر ، کبھی عراق ، کبھی لیبیا ، کبھی برما ، کبھی افغانستان ، ہمیشہ ، ہر طرف مسلمان ہی مرتے ہیں ۔”

” ہممم ”

” مسلم ممالک کی بھی اتحادی تنظیم ہونی چاہیئے جو بے گناہ مسلمانوں کے قتل پر حرکت میں آئے اور ان کے خون کے ہر قطرے کا حساب لے ۔ ”

” اوہ آئی سی ”

پچاس لفظی _____________

عروج احمد

یہ بھی پڑھیں:ایک فراموش محسن

Advertisements

3 Comments

  1. کیا بات ہے بہت خوب… بڑے ہی دل دوز انداز بیاں اور اس سے بھی بڑھ کر جو سانحہ ہوا وہ انسانی اقدار کا ماتم کر رہاہے..

    Liked by 1 person

Comments are closed.