امید

میں نےبادلوں کی سرمئی چھاؤں سے،

قوس و قزح کاابھرنادیکھا۔

میں نےسورج کی تپش کےبعد،

سنجھا ڈھلتے بادِبَہاری کا چلنا دیکھا۔

میں نےتکلیفِ مرگ سےتڑپتےاس شخص کو،

میٹھی نیند کی آغوش میں، ہمیشہ کیلیےسوتےدیکھا۔

میں نے دیکھا کہ صبح پرندےجب چہکے،

مسکرائےاورکھلکھلائے،

اور کئیوں کو بھی سنگ انکے میں نے چہچہاتے دیکھا۔

مانا کہ تکلیف ، رنج والم اورظلمت کےاندھیرےوقتی ہیں،

میں نے پھر بھی اک عرصے انہیں روپ بدلتے، بہتوں کو تنگ کرتے دیکھا۔

کیونکر کہوں تکلیف مری تجھ سے زیادہ ہے اے سائل جبکہ،

میں نے تنگدستی اور زبوں حالی میں بھی خود کو رب العالمین کے در پر دیکھا۔

____________________

نورالعلمہ حسن

(۲۹ستمبر ۲۰۱۵ع کو لکھی یہ نظم سالانہ ہال مجلہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی،بھارت – “نقشے ترین” میں گزشتہ سال شائع ہوئی۔ )

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s