کوئ تو خواب______آبرونبیلہ اقبال

کوئی تو خواب ایسا ہو
جو پورا ہو کبھی آخر
کبھی جو مسکراؤں میں
رلائے نہ کوئی مجھ کو
الجھائے نہ کوئی مجھ کو
مجھے بھی ہنس کہ جینا ہے
کنارہ اور سہارا ڈھونڈتی ہیں
بوجھل سی یہ پلکیں
یہ تو خاموش رہتی ہیں
کسی سے کچھ نہیں کہتی
یہ بس چپ چاپ بہتی ہیں
دلاسہ دل کو دیتی ہیں
کہ اب کی بار رو لو پھر
ہمیشہ مسکرانا تم
مگر یہ بھول جاتی ہیں
کہ جو حساس ہوتے ہیں
وہ اکثر ہار جاتے ہیں
وہی قربان ہوتے ہیں
وہ جانیں دیں بھی ڈالیں تو
کسی کو کیا غرض ہے یہاں
سب اپنی بات کرتے ہیں
سب اپنی بات سنتے ہیں
کسی کے درد کیسے ہیں
یا کتنے غم ہیں پنہاں
عجب سے لوگ بستے ہیں
سنو
اب جو احساس کرنا تو
نہ خود کو بھول جانا تم
ذرا سا یاد رکھنا یہ
کہ
یہاں حساس لوگو کے
بڑے نقصان ہوتے ہیں
یہ سب کو شاد رکھتے ہیں
مگر خود اداس رہتے ہیں

شاعرہ : آبرؤِ نبیلہ اقبال
ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s