“کھڑکی کے اس پار “_______فرحین جمال

ا س سے پہلے کہ وہ مجھے دیکھتی ، میں نے اسے دیکھ لیا ،اپنی سوچوں میں گم ، زمین کو گھورتی ،سہمی سی ،بار بار مڑ کر کسی انجانے خوف کے تحت پیچھے دیکھ رہی تھی .

اس نے ڈرتے ڈرتے اپنا پاؤں آگے بڑھایا اور پھر واپس کھینچ لیا ،عجیب تذبذب کے عالم میں تھی ،نظر اوپر اٹھی تو مجھے کھڑا دیکھ کر اپنے آپ میں سمٹ گئی .بکھری بکھری سی،الجھے بال اور ستا ہوا چہرہ ،جیسے کوئی بھٹکی ہوئی روح ہو .

” تمھیں کیا دکھائی دیتا ہے اس کھڑکی سے جو تم ہمیشہ اتنی ہراساں اور بے چین سی ہو جاتی ہو ”؟ میں صرف یہ ہی جاننا چاہتا ہوں ”؟

وہ ایک جھٹکے سے مڑی ،اور اپنے قدموں میں ڈھے سی گئی .اس کا خوفزدہ چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا .

میں نے سیڑھی سے اترتے ہوے دوبارہ پوچھا ”تمھیں یہاں سے کیا نظر آتا ہے ”؟

مجھے آج اس بات کا پتا چل جانا چاہیئے ،میں اس کے سر پر پہنچ گیا .
لیکن وہ بالکل خاموش رہی ،

اس کا بدن کسی انجانے خوف سے اکڑ سا گیا .” تمھیں کبھی کچھ نہیں دکھائی دے گا !

”،تم …تم جو آنکھیں رکھتے ہوے بھی نا بینا ہو .!

اور چند لمحوں تک واقعی مجھے کچھ نظر نہیں آیا .

لیکن آخر کار میرے منہ سے بے اختیار نکلا ” اوہ .. …. اوہ ..!”

کیا ہوا ؟؟ کیا ؟ اس نے پوچھا .

یہ بھی پڑھیں: خالہ جی

“مجھے ابھی ابھی دکھائی دیا ..! ” میں نے آہستہ سے سرگوشی کی .

“نہیں کبھی نہیں ،اس کی آواز میں بے یقینی اور اصرار تھا “، بتاؤ تم نے کیا دیکھا ؟؟

حیران کن بات یہ ہے کہ میرا دھیان پہلے کبھی اس طرف نہیں گیا ،یہ میرے لئے معمول کے مطابق عام سی بات تھی ،یہ وجہ ہی ہوسکتی ہے کہ میں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی .

میری اس آبائی حویلی کی پہلی منزل کی کھڑکی سے جو باہر کی طرف کھلتی تھی ، ہمارے خاندانی قبرستان کا منظر واضح نظر آتا تھا .جہاں پر میرے آبا واجداد دفن تھے . اتنابڑا کہ پورا کا پورا کھڑکی کے فریم میں فٹ ہو جاتا تھا .وہاں پر تین پتھر کے کتبے اور ایک سنگ مرمر کا ،سورج کی کرنوں میں نہاے ہوے ،چٹان پر ایک جانب استادہ تھے ،لیکن یہ کوئی قابل توجہ بات نہیں تھی ،یہ کتبے تو عرصے سے اس قبرستان کا حصہ تھے .

میری توجہ تو چھوٹے سے مٹی کے ایک ڈھیر نے اپنی طرف کھینچ لی تھی .

اس نے میری آنکھوں میں شاید اسکا عکس دیکھ لیا تھا ،بے ساختہ چلا اٹھی .

نہیں ..! نہیں ..! خدا کے لئے نہیں ..!عجیب ہیجانی سی کفیت اس کے چہرے پر در آئی تھی .

وہ تڑپ کر میرے بازوؤں کے حصار سے نکلی ،اور سیڑ ھیوں پر نیچے کی طرف سرک گئی ؛ اس کی آنکھوں میں شک اور بے یقینی کے ساۓ لہرانے لگے .

کیا کوئی مرد ا پنے بچے کے کھونے کا غم نہیں کر سکتا ؟؟

“نہیں ..تم نہیں “! اوہ ..! “میں مزید ایک منٹ بھی یہاں رک نہیں سکتی ،مجھے تازہ ہوا چاہیئے .

مجھے نہیں لگتا کہ مرد موزوں انداز میں اس کا اظہار کر سکتا ہے ! اس نے الجھے الجھے سے زخم خوردہ لہجے میں جواب دیا .

جولیا ! کہیں اور کیوں جاتی ہو ؟

“سنو ! “میں سیڑ ھیوں سے نیچے نہیں آؤں گا ” .! ٹہرو میری بات سنو ..!

میں مایوس ہو کر پہلی سیڑھی پر بیٹھ گیا اور اپنی ٹھوڑی کو مٹھیوں پر ٹکا دیا .فضا میں اداسی رچی ہوئی تھی ،.اندر کا موسم اچانک ہی سرد ہو گیا تھا .

مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے .

تم ..تم نہیں جانتے کہ کیسے پوچھا جاتا ہے ؟

تو پھر میری مدد کرو . میں تمہارا دکھ درد بانٹنا چاہتا ہوں .!میں نے اپنے الجھے ہوے بالوں میں بے چینی سے انگلیاں پھیریں .

جولیا کی انگلیاں لمحے بھر کو باہر کے دروازے کی چٹخنی کھولتے کھولتے ٹہر سی گئیں .

یہ بھی پڑھیں:رخت ِدل

“میرے الفاظ ہمیشہ تمہارے لئے بے معنی،ناپسندیدہ اور ناگوار ہی رہے ،مجھے نہیں پتا کہ مجھے کب ،کیسے اور کیا کہنا چاہیئے ؟ تمھیں کیسے خوش رکھوں ؟ لیکن تم مجھے سکھا سکتی ہو، میرا خیال ہے ،کیسے ؟ یہ نہیں جانتا .! مرد کو خواتین کے سامنے کسی حد تک ہتھیار ڈال دینا چاہیئے . آؤ ہم کوئی سمجھوتہ کر لیتے ہیں جس کے تحت مجھ پر واجب ہو گا کہ میں تم سے دور رہوں، کسی معاملے میں دخل نہ دوں ،حالانکہ مجھے محبت کرنے والے دو دلوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ پسند نہیں اور جو ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے وہ کسی سمجھوتے کے بنا ساتھ رہ بھی نہیں سکتے .”

جولیا نے ہولے سے چٹخنی کھولی .

میں چلا اٹھا.. ‘نہیں …،پلز نہیں جاؤ ”

دل کا یہ بوجھ اٹھا کر کسی اور کے پاس کیوں جاتی ہو ؟

مجھے اپنے غم میں شریک کر لو .”یوں سسک سسک کر مت جیو ”

مجھے ایک موقعہ تو اور دو . میرے لہجے میں التجا تھی .

تمھیں یاد ہے ؟ جب تم نے امید سے ہونے کی خوشخبری مجھے سنائی تھی ! تم کتنی خوش تھیں ! تمہارے چہرہ کا رنگ نکھر سا گیا تھا اور آنکھوں کی چمک مجھے خیرہ کر رہی تھی .
لیکن میں اندر ہی اندر گھبرا رہا تھا کہ اس دور افتادہ گاؤں میں تو قریبی ہمسایہ بھی دو میل کے فاصلے پر رہتا ہے ،کوئی با قاعدہ ہسپتال بھی نہیں ،اور نہ ہی کوئی قریبی عزیز ،تمہاری دیکھ بھال کون کرے گا ؟
جولیا کی آنکھوں میں وہ خوش گوار دن گھوم گئے ،وہ تو وقت کی رتھ پر سوار سہانے سپنوں کی وادی میں سیر کرتی تھی ،خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ پڑتی تھی ، پہلی بار ماں بننے کا اعزاز.
جوں جوں وقت گزر رہا تھا اس کے اندر تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں ، سردیوں کی راتوں میں آئسکریم کھانے کی خواہش ، کبھی نمکین تو کبھی میٹھا اسے بھاتا تھا . راتوں کو اٹھ اٹھ کر پانی پینا .
ایک وجود اس کے اندر پل رہا تھا جس کا احساس اسے پہلی بار بچے کے پیر کی ہلکی سی جنبش سے ہوا تھا .وہ جاگتی آنکھوں اس کی شکل و صورت ،رنگ و روپ کے سپنے دیکھتی .، اس کو چھو نے کی چاہ کرتی ، ان ننھے ننھے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرتی ،
.وہ کمرہ جسے انہوں نے ‘نرسری ‘ میں تبدیل کر دیا تھا ،اس کو سجانے ،سنوارنے میں سارا سارا دن لگی رہتی ،پنگھوڑا کہاں رکھنا ہے ؟،کمرے میں کون سے رنگ کا پینٹ کیا جاے ؟ چھوٹے چھوٹے کپڑے ،کھلونے اس کی الماری میں ترتیب سے رکھنے میں مصروف رہتی .
وہ جسے نو ماہ اپنا خون دے کر پالا،
وہ..وہ اس طوفانی رات صرف ایک سانس ہی لے پایاتھا ،کیسا کیسا وہ تڑپی تھی ! کوئی اس کا کلیجہ نکال کر لے گیا ،اسے کسی پل چین نہیں تھا ،کوئی ایسا نہیں تھا جو اس غم میں اس کا ساتھ دیتا ، پہروں نیند نہیں آتی ، بیٹھے بیٹھے اٹھ کر دروازے کی طرف ڈور پڑتی ،”میرا بچہ ،میرا لخت جگر “بالکل دیوانی ہو گئی تھی .خالی کوکھ .خالی ہاتھ . اداسی،دل شکستگی نے اس کے وجود کو گھیر رکھا تھا . نرسری میں جا کر اس کے جھولے کو ہلاتی رہتی ،کبھی کبھی دھیمے سروں میں لوری گاتی ، نہ کھانے کا ہوش نہ پہننے کا، ملگجا سا گاؤن ،الجھے بال ،سپاٹ سا چہرہ لئے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں گھومتی رہتی جیسے کچھ تلاش کر رہی ہو .پھر اسی کھڑکی کے سامنے آ کھڑی ہوتی جہاں سے اسے باہر کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا . راتوں کو اٹھ اٹھ کر بےچینی سے گھومتی رہتی .

یہ بھی پڑھیں:ملک سلیمان

میرا خیال ہے کہ تم کچھ ضرورت سے زیادہ رد عمل کا اظہار کر رہی ہو ..! ایسا بھی کیا غم اس نوزائیدہ کا جس نے دوسری سانس بھی نہ لی کہ تم میری محبت کو ٹھکرا رہی ہو ،تمہاری شکستہ دلی ختم ہی نہیں ہوتی .کیا تم سمجھتی ہو اس طرح اس کی یاد زندہ رہے گی . میں کچھ لمحوں کے لئے کٹھور بن گیا ..!

اس نے میری جانب بے یقینی کے عالم میں پھٹی پھٹی بے تاثر نظروں سے دیکھا ،وہ ساری جان سے کانپ رہی تھی ، ہونٹ کپکپا رہے تھے ،الفاظ ہونٹوں پر آتے آتے ٹوٹ جاتے تھے . بار بار سرمئی رنگ کے گاؤن کے کونے کو ہاتھوں سے پکڑ کر کھینچ رہی تھی .

” اب تم حقارت آمیز لہجے میں بول رہے ہو ،تمھیں نہیں معلوم یہ نفرت زدہ لفظ میری روح کو زخمی کر رہے ہیں ..”

نہیں ..بالکل نہیں ،تم مجھے غصہ دلا تی ہو ،میں نیچے آ رہا ہوں .کیا ایک آدمی اپنے مرے ہوے بچے کے بارے میں بات بھی نہیں کر سکتا ..؟؟

” تم نہیں “،وہ پھٹ پڑی ” ..! کیوں کہ تمھیں نہیں پتا کیسے بات کرتے ہیں؟ ،تمہارے اندر وہ دردمند دل ہی نہیں جو ایک ماں کی تکلیف ،دکھ اور غم کو محسوس کر سکے .اگر تمھیں کوئی احساس ہوتا تو ،تم کیسے ؟ اس کی قبر اپنے ہاتھوں سے کھودتے . میں کھڑکی سے دیکھ رہی تھی تم کس طرح اپنے پھاؤڑ ے سے بجری کو ہٹا رہے تھے ، پھاؤڑ ے کے ہر وار پر اس کے کنکر ہوا میں اڑتے تھے ،بجری ایک طرف اکھٹی ہو رہی تھی اور ..اور بھر بھری زمین میں آہستہ آہستہ ایک گڑھا بنتا جا رہا تھا . پھاؤڑ ے کا ہر وار جیسے جیسے زمین کو چیرتا جا رہا تھا ،مجھے لگتا تھا یہ میرا دل چیر رہا ہے .
میں سوچ رہی تھی یہ کون آدمی ہے ؟ میں تو اسے جانتی تک نہیں ..!
میں ..میں .! کسی بھٹکی ہوئی روح کی طرح کبھی سیڑ ھیوں کے اوپر اور کبھی نیچے چکر لگا رہی تھی !. اور تم اپنے کام میں مگن تھے تمہارا پھاؤڑا ہوا میں ایک تسلسل سے بلند ہو رہا تھا . سردی کی وجہ سے فضا دھواں دھواں سی تھی ،تمہاری قمیض کی آستینیں کہنی تک چڑھی ہوئی تھیں اور تم ماتھے پر آیا پسینہ بار بار پونچھ رہے تھے .
پھر تم نے اس ننھی سی جان کو سرد اور کھردری زمین کے سپرد کر دیا ،میرا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا “آہ ..! وہ میرے جگر کا ٹکڑا ،میری روح کا حصہ ،میرا چاند مٹی میں کہیں چھپ گیا ..اس کی آواز آنسوں سے لبریز تھی .

پھر تم اندر آے ، کچن سے تمہاری آواز آ رہی تھی ، پتا نہیں کیوں میں دروازے سے جھانک رہی تھی ، مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آ رہا تھا ،تم کرسی پر بیٹھے تھے ، جوتوں پر تازہ تازہ مٹی کے دھبے تھے، تمہارے بچے کی قبر کی مٹی ،اور تم رسا ن سے تمھارے بچے کی موت پر آے لوگوں سے روزمرہ کے مسائل پر بحث کر رہے تھے .تمہاری آواز میں ایک ٹہراؤ تھا .
وہ پھاؤڑا دوازے سے لگا کھڑا تھا ،اس پر مٹی کے دھبے ایسے لگ رہے تھے جیسے میرے بچے کے جسم کے ٹکڑے ہوں ،میں خدا کی قسم تمہاری ساری گفتگو بھی بتا سکتی ہوں جو اس وقت ہو رہی تھی . سوچو اس وقت ایسی باتیں ؟؟ جب میرا دل غم سے پھٹا جا رہا تھا .کوئی پرواہ نہیں تھی تمھیں میری .
کوئی مرتا ہے تو مرے ،دوست ہو یا دشمن .!
دوست صرف رسم نبھانے کے لئے قبرستان تک جاتے ہیں ، دفناتے ہی ان کا ذھن دنیا کے جھمیلوں میں مشغول ہو جاتا ہے .انسان اکیلا ہی ہوتا ہے جب وہ بیماری سے گور تک کا فاصلہ طے کر تا ہے .
لیکن یہ دنیا ظالم ہے ،مجھے ماتم کرنے کا بھی حق نہیں ؟؟ میں سوگ بھی نہ کروں ؟ اپنے رنج و غم کے اظہار پر بھی پابندی ہے ..! اس کے لہجے میں درد سمٹ آیا تھا . آنکھیں پانی سے لبریز تھیں،وہ ڈوب رہی تھی .

یہ بھی پڑھیں:دیس پردیس

میرا دم گھٹتا ہے یہاں .یہ اونچی اونچی دیواریں مجھے اس ٹیلے پر بنی اس تربت کی دیواروں کی طرح چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں .وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جیسے آج اپنا سارا دکھ آنسوں میں بہا ڈالے گی .

تم نے سب کہہ دیا ..! تمھارے جی کا غبار دھل گیا .دروازہ بند کر دو . تم نہ جاؤ .!

جولیا نے روتے روتے چونک کر اپنے شوہر کی طرف دیکھا ،اس کی آنکھوں میں حیرت ،دکھ اور تاسف کے ملے جلے تاثرات تھے .

تم ..اوہ ..تم ..! اس کا چہرہ ضبط کی وجہ سے پیلا پڑ گیا .

تمہارا کیا خیال ہے ؟؟ یہ سب میرا جذباتی پن یا برہم مزاجی کا مظاہرہ ہے ..!!
تم کبھی نہیں سمجھو گے . ! تم سمجھ ہی نہیں سکتے ..! مجھے اس گھر سے کہیں چلے جانا چاہیئے .اس نے چونک کر اپنے ارد گرد نظر دوڑائی جیسے اس کی آنکھ اچانک کسی بھیانک سپنے سے کھلی ہو .
” میں مانتا ہوں کہ مجھے اظہار کرنا نہیں آتا ،شاید یہ میری مردانگی کے خلاف ہے کہ میں اپنے جذبات کو زبان دوں .میں نے رک رک کر کہنا شروع کیا
مجھے بھی اپنے بچے کو کھونے کا دکھ ہے،میں بھی اس کا باپ ہوں .تم نے تو اسے زندہ محسوس کیا ہے ،اور میں نے تو اسے بے جان ہی دیکھا .
تم کیا سمجھتی ہو یہ جو میں حالات حاضرہ کی باتیں کرتا ہوں کس لئے کرتا ہوں ؟ اپنا دکھ جھیلتا ہوں اس طرح تاکہ تمھیں احساس نہ ہو .
تمھیں میرے آنسو نظر نہیں آتے کہ وہ میرے اندر گرتے ہیں .”

تم کہاں جاؤ گی ؟ میں تمھیں زبردستی واپس لے آؤں گا ..

دیکھو میری بات مان لو ،کہیں بھی نہ جاؤ .! ہم مل کر اس دکھ کو بانٹ لیں گے .

جولیا نے شوہر کی باتوں کو سنی ان سنی کر دیا .

دروازے کے دونوں پٹ کھولے ،پلٹ کر آخری دفعہ شوہر کی طرف دیکھا اور قدم باہر رکھا ہی تھا کہ اسے اپنی کوکھ میں ایک سرسراہٹ سی محسوس ہوئی جس کا ارتعاش پورے وجود میں پھیل گیا اور وہ وہیں دہلیز پر بیٹھ گئی.

____________________

تحریر : فرحین جمال
واٹر لو ،بیلجیم

کور ڈیزائن:ثروت نجیب

Advertisements

4 thoughts on ““کھڑکی کے اس پار “_______فرحین جمال

  1. Pingback:      “آسرا”______ثروت نجیب – SofiaLog.Blog

  2. Pingback: شجر بےسایہ – SofiaLog.Blog

Comments are closed