غزل______از رابعہ بصری

تو میرے خواب کی تعبیر سمجھ پائے گا
کیا میرے درد کی تحریر سمجھ پائے گا

میری نظموں کو جلادے مجھے منظور مگر
تومرے لفظ کی توقیر سمجھ پائے گا

توڑنے والے بتا تجھ کو مِلا کیا آخر
ٹوٹنے والی کو تو ہِیر سمجھ پائے گا

میں قفس کھول کے پابند رہوں گی لیکن
میرا صیاد یہ زنجیر سمجھ پائے گا

وہ مصور کےجو شہکار ادھورا چھوڑے
وہ میرے درد کی تصویر سمجھ پائےگا

سوز کو ساز کے آہنگ میں باندھے رکھا
مجھ سے مجذوب کو تو پیر سمجھ پائے گا

میرے محبوبؐ کی عظمت نہ سمجھنے والا
کیسے قرآن کی تاثیر سمجھ پائے گا

________

رابعہ بصری

فوٹو گرافی:فرحین خالد

Advertisements