جدائ_______رابعہ بصری

ہاں وہی کاسنی نہر تھی
چار سْو چپ دھری تھی
وہ میرے روبرو سر جھکائے پشیمان سا ,
ایسے بیٹھا تھا جیسے کوئی
اپنی ساری کمائی لٹا کے بھی ہار آیا ہو
عجیب سا کھردرا زنگ آلود چہرہ
کہ جِس پہ بہت کچھ لِکھا تھا
پڑھ لِیا تھا, سمجھ نہ سکی
اسی دِلگیر لمحے میں
ہماری روحوں نے اِک آخری بات کِی
چھید سا ہوگیا
درد بڑھنے لگا
ڈگمگاتے قدم وہ سنبھالے رخصتی کو اٹھا
دھند اتنی تھی کہ واپسی دِکھ نہ سکی

خدا گواہ !!!
آنکھ میں آج بھی ‘ جب یہ منظر اترتا ہے
دِل کی ساری رگیں ٹوٹ جاتی ہیں
جھِیل بھرجاتی ہے

___________

شاعرہ:رابعہ بصری

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.