“دعا”______________نور العلمہ حسن

بہت دور جب قیام ہوا گنجینۂ التفات سے،
پھرسوچ میں پڑی میں، ذہن پڑا انتشار میں۔

کیا وجہ ہے کہ خاموش ہیں تقدیر کی نگاہیں؟
کیوں نہیں حاصل مرے ارادوں کو اشارے؟

کیالاعلم ہیں مرے عمل نگینۂ مشقت اور محنت کے کمخواب سے؟
مگر دن رات تو میرے بھی کٹتے ہیں سیماب سے۔

جذبات کو درکنار کیا، پھرمزیدسوچا۔
سمجھ کچھ نہ آئی سو مزید سوچا۔

کچھ دیر غور نےوہ الجھی ڈور سلجھائی،
اور مجھے یہ سوچ بجھائی۔

کہ ارادے پورے ہوتے ہیں،
صرف محنت اور لگن سے مگر،
کامیابی کےثمر میں،برکت کا جو اثر دے،
وہ سحر ہےصرف دعا کے نگر میں۔

______________

شاعرہ:نورالعلمہ حسن
کراچی،پاکستان

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

1 Comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.