بہت دور جب قیام ہوا گنجینۂ التفات سے،
پھرسوچ میں پڑی میں، ذہن پڑا انتشار میں۔

کیا وجہ ہے کہ خاموش ہیں تقدیر کی نگاہیں؟
کیوں نہیں حاصل مرے ارادوں کو اشارے؟

کیالاعلم ہیں مرے عمل نگینۂ مشقت اور محنت کے کمخواب سے؟
مگر دن رات تو میرے بھی کٹتے ہیں سیماب سے۔

جذبات کو درکنار کیا، پھرمزیدسوچا۔
سمجھ کچھ نہ آئی سو مزید سوچا۔

کچھ دیر غور نےوہ الجھی ڈور سلجھائی،
اور مجھے یہ سوچ بجھائی۔

کہ ارادے پورے ہوتے ہیں،
صرف محنت اور لگن سے مگر،
کامیابی کےثمر میں،برکت کا جو اثر دے،
وہ سحر ہےصرف دعا کے نگر میں۔

______________

شاعرہ:نورالعلمہ حسن
کراچی،پاکستان

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف