” ایک فراموش محسن”______ابصار فاطمہ

عالم بالا کے وسیع ڈائننگ ہال میں قائد اعظم محمد علی جناح بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔ قریب ہی کھڑی محترمہ فاطمہ جناح انہیں بے چینی سے ٹہلتا دیکھ کر خود بھی پریشان تھیں۔ اس وسیع ہال کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مختلف انواع و اقسام کے لوازمات سے سجی ٹیبل کے گرد رکھی کرسیوں پہ اکا دکا مہمان نظر آرہے تھے۔ قائد اعظم نے پاس کھڑے مولانا محمد علی جوہر کو مخاطب کیا۔
“جوہر صاحب آپ نے سب کو دعوت نامہ یاد سے دیا تھا نا؟ ابھی تک آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھی بھی پورے نہیں پہنچے۔ اور پچھلے مسلم حکمرانوں میں سے بھی کوئی نہیں آیا۔ ہر سال ہم اتنی امید سے دعوت کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایک آدھ بار ٹیپو سلطان صاحب آگئے تھے۔ مگر مجال ہے جو مغلوں، خلجیوں، غوریوں، تغلقوں، سوریوں میں سے کوئی کبھی ہمیں ان اہم دنوں پہ مبارک باد دینے ہی آیا ہو۔”
قائد اعظم نے تاسف سے سر ہلایا۔

یہ بھی پڑھیں:رخت ِدل
“کیا برا کیا تھا ہم نے اگر اس سرزمین سے غاصبوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا اور اپنی جدوجہد میں کامیاب بھی ہوئے تھے۔ سمجھ نہیں آتا کہ ان لوگوں کو کیا بات ناگوار گزرتی ہے؟”
“جناح یہ تم اچھی طرح جانتے ہو انہیں کیا ناگوار گزرا۔” مرکزی کرسی پہ براجمان سر سید بولے۔
قائد اعظم کے چہرے پہ مایوسی عیاں تھی۔ کچھ دیر مزید انتظار کیا پھر بولے۔
“اور وہ بھی تو نہیں پہنچا اب تک” اس بار قائد اعظم کے لہجے میں یقین تھا کہ وہ جو بھی ہے دیر سے سہی مگر آئے گا۔
“جناح صاحب دعوت شروع کرایئے کافی دیر ہوگئی ہے اب شاید مزید کوئی نا آئے۔ ” ایک اور سمت سے آواز آئی
“نہیں اقبال میں کیسے بھول جاوں کہ یہ اس کا بھی دن ہے۔ اور تمہیں پتا تو ہے کوئی آئے نہ آئے وہ آتا ہے۔”
“جناح صاحب اتنے اختلافات کے باوجود آپ اسے اتنی اہمیت دیتے ہیں۔ آخر وجہ کیا ہے۔” اس بار مولانا محمد علی جوہر نے کہا۔
“نظریاتی اختلافات اپنی جگہ جوہر! مگر جو شخص اپنے مقصد کے لیے جیل میں مر جانے کی حد تک بھوکا رہ کر احتجاج کرسکتا ہے اس کا طریقہ غلط ہوسکتا ہے مقصد نہیں۔”
قائد اعظم نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ دروازہ کھلا اور ایک تئیس سالا سکھ نوجوان اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔ قائد اعظم لپک کے آگے بڑھے۔
“اس بار اتنی دیر کردی؟”
“بہت معذرت جناح صاحب آپ دعوت شروع کرادیتے اتنا انتظار کر کے مجھے اور شرمندہ کیا۔”
“بھگت لوگوں کے بھول جانے سے تمہاری قربانی کی اہمیت کم نہیں ہوجائے گی۔ یوم پاکستان تمہارے بغیر منانا ناممکن ہے۔”

(ستمبر 1929 ایک تقریر کا حوالہ)

_______________
تحریر ابصار فاطمہ

وڈیو دیکھو:امارات میں بارش

Advertisements

3 Comments

  1. Pingback: SofiaLog.Blog

Comments are closed.