اس دھرتی کے لوگوں پہ
اک دور قہر کا گزرا تھا
جس دور میں ہندو مسلم پر
وحشت اور نفرت طاری تھی
اس وحشت نے اس نفرت نے
پاک و ہندکی گلیوں میں
وہ خون بہائے الاماں !!!
وہ زخم دکھائے الاماں !!!
اس دھرتی کی سینے پہ
افرنگی سیاست نے
برسوں شاہی کی لیکن
وہ وقت بھی آیا جس لمحے
زندانوں کے تالے ٹوٹ گئے
جو ساتھ ہمیشہ رہتے تھے
وہ ساتھ بھی آخر چھوٹ گئے
اب کہنے کو آزاد ہیں ہم
اس دھرتی کے بٹنے پہ
شاد ہیں ہم ،آباد ہیں ہم
اس موقعے پہ اہل وطن
جشن تو آخر بنتا ہے
ہر سال اس تاریخ کے دن
جشن تو آخر بنتا ہے
اک جشن تو آخر بنتا ہے !!!

“سعدیہ بتول”