“ابلہی”__________از ثروت نجیب

ہتک آمیز لفظوں کی
دو دھاری تلوار پہ چل کے
گھائل کر دو ـ ـ ـ ـ
خود کو دست و پا!
کس نے کہا تھا؟
میری دستار کے بل سے الجھوـــ
میرے آج اور کل سے الجھو ــــ
کس نے کہا تھا؟
مزاح کو ظرافت کے معیار سے اتارو !
ہوا کو پتھر مارو!
کاش ــــ
سن لیا ہوتا!
بہتا پانی پاک ہوتا ہے
استفراغ کر کے
تعصب بھرے لفظوں کا ــــ
کیا سوچا تھا؟
میلا ہو جائے گا دریا؟
سنو! !!!
اجلے تھے اور اجلے رہیں گے
دھو دھو کے پاپ!
گنگا جل اور زمزم آب

________________

ثروت نجیب

Advertisements

2 thoughts on ““ابلہی”__________از ثروت نجیب

Comments are closed